بدھ, فروری 11, 2026
ہومپاکستانقومی شپنگ فلیٹ میں بڑے پیمانے پر توسیع کی منظوری

قومی شپنگ فلیٹ میں بڑے پیمانے پر توسیع کی منظوری
ق

اسلام آباد (مشرق نامہ) – حکومت نے پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (پی این ایس سی) کی بحالی اور بہتری کے لیے ایک جامع منصوبے کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت نیشنل لاجسٹکس سیل (این ایل سی) کو بھی شپنگ کے شعبے میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ منصوبے کے مطابق آئندہ پانچ برسوں میں پی این ایس سی کے فعال جہازوں کی تعداد 10 سے بڑھا کر 54 کر دی جائے گی۔

سرکاری حکام کے مطابق اس وقت پی این ایس سی کے پاس صرف 10 آپریشنل جہاز موجود ہیں، جو ملک کے کمرشل کارگو کا محض 11 فیصد ہی منتقل کر پاتے ہیں۔ اس صورتحال کے باعث پاکستان کو ہر سال تقریباً 6 ارب ڈالر زرمبادلہ بین الاقوامی شپنگ کمپنیوں کو فریٹ چارجز کی مد میں ادا کرنا پڑتا ہے، جبکہ ملک کی تقریباً 90 فیصد درآمدات و برآمدات غیر ملکی جہازوں کے ذریعے انجام پاتی ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ پی این ایس سی کے کئی جہاز اپنی آپریشنل مدت کے اختتام کے قریب پہنچ چکے ہیں، جس کے باعث 2030 کے بعد انہیں منافع بخش انداز میں چلانا مشکل ہو جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن (آئی ایم او) کی جانب سے کاربن اخراج میں کمی کے لیے متعارف کرائے گئے نئے ضوابط نے بھی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

شپنگ کے شعبے میں نمایاں ترقی کی صلاحیت کے باوجود نجی شعبے کی عدم موجودگی کے باعث مارکیٹ کی کارکردگی اور توسیع متاثر رہی ہے۔ اسی خلا کو پُر کرنے کے لیے این ایل سی کو شپنگ کے کاروبار میں لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، تاکہ 2030 تک قومی کارگو برداری کی صلاحیت میں اضافہ کیا جا سکے اور غیر ملکی جہازوں پر انحصار ختم کیا جا سکے۔

منصوبے کے تحت اسٹریٹجک شراکت داری کے ذریعے پی این ایس سی کے فعال جہازوں کی تعداد پانچ برس میں 54 تک پہنچائی جائے گی۔ اس اقدام کے نتیجے میں سمندری فریٹ میں حکومت اور پی این ایس سی کا حصہ 5 فیصد سے بڑھ کر 56 فیصد ہونے کی توقع ہے، جو مالی اعتبار سے 162 ملین ڈالر سے بڑھ کر 1.785 ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین