تل ابیب (مشرق نامہ) – اسرائیل نے خبردار کیا ہے کہ وہ جنوری سے غزہ میں کام کرنے والی متعدد امدادی تنظیموں کی سرگرمیاں معطل کر دے گا، جن پر فلسطینی عملے کی تفصیلات فراہم نہ کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ اسرائیلی حکام نے دو ملازمین پر مزاحمتی تنظیموں سے تعلقات کے دعوے بھی کیے ہیں۔
وزارتِ ڈائسپورا امور اور انسدادِ یہود دشمنی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ اقدام فلسطینی علاقوں میں بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں کی سرگرمیوں سے متعلق ضوابط کو مضبوط اور اپ ڈیٹ کرنے کے فیصلے کا حصہ ہے۔ بیان کے مطابق جو انسانی ہمدردی کی تنظیمیں سیکیورٹی اور شفافیت کے تقاضے پورے نہیں کریں گی، ان کے لائسنس معطل کر دیے جائیں گے۔
وزارت نے کہا کہ وہ تنظیمیں جو تعاون میں ناکام رہیں اور اپنے فلسطینی ملازمین کی فہرست فراہم کرنے سے انکار کرتی رہیں تاکہ کسی ممکنہ دہشت گردی کے روابط کی جانچ کی جا سکے، انہیں مطلع کر دیا گیا ہے کہ یکم جنوری سے ان کے لائسنس منسوخ کر دیے جائیں گے۔ متعلقہ تنظیموں، جن کے نام ظاہر نہیں کیے گئے، کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ یکم مارچ تک تمام سرگرمیاں بند کر دیں۔
بیان میں کہا گیا کہ ان اداروں کو مطلوبہ معلومات فراہم کرنے کے لیے دس ماہ کا وقت دیا گیا تھا، تاہم اس کے باوجود وہ ضوابط کی تعمیل میں ناکام رہے۔ وزارت کے مطابق 25 نومبر تک تقریباً 100 رجسٹریشن درخواستیں موصول ہوئیں، جن میں سے صرف 14 مسترد کی گئیں، جبکہ باقی یا تو منظور کر لی گئیں یا زیرِ جائزہ ہیں۔
منگل کو جاری بیان میں وزارت نے دعویٰ کیا کہ تحقیقات کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ بین الاقوامی طبی تنظیم ڈاکٹرز وِد آؤٹ بارڈرز نے دو ایسے افراد کو ملازمت دی تھی جن کے مبینہ طور پر حماس اور فلسطینی اسلامی جہاد سے روابط تھے۔ وزارت کے مطابق بار بار مطالبے کے باوجود تنظیم نے ان افراد کی شناخت اور کردار سے متعلق مکمل معلومات فراہم نہیں کیں۔
ڈاکٹرز وِد آؤٹ بارڈرز نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ کبھی جان بوجھ کر کسی ایسے فرد کو ملازمت نہیں دے سکتی جو عسکری سرگرمیوں میں ملوث ہو، کیونکہ اس سے عملے اور مریضوں کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ تنظیم کے مطابق وہ اسرائیلی حکام سے رابطے اور بات چیت جاری رکھے ہوئے ہے اور تاحال دوبارہ رجسٹریشن سے متعلق کوئی حتمی فیصلہ موصول نہیں ہوا۔
اسرائیلی وزارت نے کہا کہ ان تازہ اقدامات سے غزہ تک امداد کی فراہمی متاثر نہیں ہو گی۔ بیان کے مطابق ضابطہ جاتی فریم ورک کی خلاف ورزی کرنے والی تنظیموں کی تعداد محدود ہے اور یہ مجموعی اداروں کے 15 فیصد سے بھی کم ہیں۔
تاہم کئی غیر سرکاری تنظیموں نے خبر رساں ادارے کو بتایا ہے کہ نئے قواعد غزہ میں امدادی سرگرمیوں پر نمایاں اثر ڈالیں گے۔ انسانی ہمدردی کی تنظیموں کے مطابق غزہ میں داخل ہونے والی امداد کی مقدار پہلے ہی ناکافی ہے۔
اکتوبر میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کے تحت روزانہ 600 ٹرکوں کے غزہ میں داخلے کی شق شامل تھی، تاہم اقوامِ متحدہ اور امدادی اداروں کے مطابق اس وقت صرف 100 سے 300 ٹرک ہی انسانی امداد لے کر پہنچ پا رہے ہیں۔ اسرائیلی وزارتِ دفاع کے ذیلی ادارے کوگٹ کا کہنا ہے کہ اوسطاً ہر ہفتے 4,200 امدادی ٹرک غزہ میں داخل ہوتے ہیں، جو یومیہ تقریباً 600 ٹرکوں کے برابر بنتے ہیں۔

