اسلام آباد (مشرق نامہ) – تاجروں نے منگل کے روز اعلان کیا ہے کہ اگر پوائنٹ آف سیل (پی او ایس) مشینوں کی تنصیب سے متعلق حکومتی ہدایت واپس نہ لی گئی تو 16 جنوری کو ملک بھر میں احتجاج کیا جائے گا۔
پی او ایس مشینیں ڈیجیٹل طریقے سے لین دین ریکارڈ کرتی ہیں، جن میں ٹچ اسکرین یا ٹرمینل، بارکوڈ اسکینرز، کارڈ ریڈرز اور رسید پرنٹرز شامل ہوتے ہیں۔ ان مشینوں کے ذریعے کاروباری لین دین مکمل طور پر ریکارڈ ہو جاتا ہے، جس کے باعث فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے لیے قابلِ ٹیکس آمدن کا سراغ لگانا آسان ہو جاتا ہے۔
یہ اعلان پوائنٹ آف سیل کی لازمی تنصیب کے خلاف آبپارہ چوک سے پرانی ایمبیسی روڈ تک نکالی گئی ریلی کے دوران کیا گیا۔ مظاہرین نے ریڈ زون میں داخل ہونے کی کوشش کی، تاہم انہیں روک دیا گیا۔ تاجروں نے آئین ایونیو پر ایف بی آر دفتر کے سامنے احتجاج کا اعلان کیا تھا، مگر سکیورٹی حکام نے انہیں ریڈ زون میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی۔
ریلی کو سرینا ہوٹل کے قریب پولیس کی بھاری نفری نے روک لیا، جس کے بعد تاجروں نے وہیں شدید احتجاج کیا اور مظاہرہ منعقد کیا۔ یہ احتجاج آل پاکستان انجمنِ تاجران اور ٹریڈرز ایکشن کمیٹی کے زیرِ اہتمام کیا گیا، جس میں اسلام آباد اور راولپنڈی سے بڑی تعداد میں تاجر رہنماؤں اور دکانداروں نے شرکت کی۔
اجتماع سے اسلام آباد اور راولپنڈی کی مختلف تاجر تنظیموں، مارکیٹ ایسوسی ایشنز اور چھوٹے تاجروں کے نمائندوں نے خطاب کیا۔ ٹریڈرز ایکشن کمیٹی اسلام آباد کے صدر اجمل بلوچ نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر پوائنٹ آف سیل مشینوں کی تنصیب سے متعلق قانون واپس لے، جسے انہوں نے سیاہ قانون قرار دیا۔ انہوں نے بدعنوانی کے خلاف سخت قانون سازی کا مطالبہ بھی کیا۔
انہوں نے آئی ایم ایف کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ملک میں سالانہ 53 کھرب روپے کی بدعنوانی ہوتی ہے، جس میں سب سے بڑا حصہ ایف بی آر کا ہے۔ ان کے مطابق یہی عناصر اب تاجروں کو نشانہ بنا رہے ہیں اور چھوٹی دکانوں پر پی او ایس مشینوں کی تنصیب رشوت خوری کے نئے راستے کھول دے گی۔
اجمل بلوچ نے ایف بی آر سے متعلق بعض واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قانونی طور پر درآمد شدہ ٹائروں کی کروڑوں روپے مالیت کی کھیپ ضبط کی گئی، جس میں سے صرف آدھی واپس کی گئی جبکہ باقی مبینہ طور پر بدعنوان اہلکاروں میں تقسیم کر دی گئی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایف بی آر کے ہزاروں ملازمین کے بچے بیرونِ ملک تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور کم درجے کے اہلکار بھی کروڑوں روپے مالیت کی لگژری گاڑیاں رکھتے ہیں، جن کے اثاثوں کی کبھی چھان بین نہیں کی گئی۔
انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ کسٹمز حکام نے 26 ہزار نان کسٹم پیڈ گاڑیاں ضبط کی تھیں جو بیوروکریٹس اور ان کے رشتہ دار استعمال کر رہے تھے۔
تاجر رہنماؤں نے خبردار کیا کہ اگر ایف بی آر نے زبردستی پی او ایس مشینیں نصب کرنے یا اسلام آباد میں کسی چھوٹی دکان کو سیل کرنے کی کوشش کی تو بھرپور مزاحمت کی جائے گی۔ احتجاج کے اگلے مرحلے میں 16 جنوری کو کشمیر ہائی وے بلاک کرنے اور زیرو پوائنٹ پر دھرنا دینے کا اعلان بھی کیا گیا۔
مقررین نے کہا کہ اگر ایف بی آر کی سخت پالیسیوں کا سلسلہ جاری رہا تو ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال کی جائے گی اور ڈی چوک پر احتجاج کیا جائے گا۔ انہوں نے وزیر اعظم شہباز شریف سے مطالبہ کیا کہ وہ تاجروں کو ٹیکس حکام کی مبینہ بدعنوانی اور سخت رویے سے تحفظ فراہم کریں۔

