بدھ, فروری 11, 2026
ہومبین الاقوامیاقوام متحدہ میں پاکستان کی اسرائیلی اقدام پر شدید تشویش

اقوام متحدہ میں پاکستان کی اسرائیلی اقدام پر شدید تشویش
ا

اقوام متحدہ (مشرق نامہ) – پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اسرائیل کی جانب سے صومالیہ کے علاقے ’’صومالی لینڈ‘‘ کو تسلیم کیے جانے کو صومالیہ کی وحدت اور علاقائی سالمیت پر براہِ راست حملہ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یہ اقدام ہارن آف افریقہ کے استحکام کو خطرے میں ڈال سکتا ہے اور موغادیشو کی خودمختاری اور سیاسی ہم آہنگی کو کمزور کرے گا۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب، سفیر عثمان جدون نے سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’صومالی لینڈ‘‘ صومالیہ کا ایک ناقابلِ تقسیم، لازمی اور اٹوٹ حصہ ہے، اور کسی بھی بیرونی فریق کے پاس اس حقیقت کو بدلنے کا نہ قانونی جواز ہے اور نہ اخلاقی اختیار۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی ایسا اقدام جو توجہ ہٹائے، قومی ہم آہنگی کو کمزور کرے یا تقسیم کو ہوا دے، انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہے۔

سفیر عثمان جدون نے کہا کہ فلسطینی سرزمین پر اسرائیلی قبضہ دہائیوں سے مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام اور تنازعات کی بنیادی وجہ رہا ہے اور اب یہی عدم استحکام ہارن آف افریقہ تک منتقل کیا جا رہا ہے۔ سلامتی کونسل کے اجلاس میں زیادہ تر مقررین نے اسرائیلی اقدام کی واضح الفاظ میں مذمت کی، جبکہ صرف امریکا اور اسرائیل نے اس فیصلے کا دفاع کیا۔

امریکی نائب مستقل مندوب ٹیمی بروس نے کہا کہ اسرائیل کو دیگر خودمختار ریاستوں کی طرح سفارتی تعلقات قائم کرنے کا حق حاصل ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ امریکا کی جانب سے ’’صومالی لینڈ‘‘ کو تسلیم کرنے کے حوالے سے کوئی اعلان نہیں کیا جا رہا اور امریکی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

اسرائیلی اعلان کے بعد علاقائی اور عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا، جس میں مشرق وسطیٰ، ایشیا اور افریقہ کے 20 ممالک کا مشترکہ بیان بھی شامل ہے، جس میں اس اقدام کو مسترد اور مذمت کیا گیا۔ پاکستان بھی اس مشترکہ بیان کے دستخط کنندگان میں شامل ہے۔ عرب لیگ، مشرقی افریقی کمیونٹی، اسلامی تعاون تنظیم اور یورپی یونین سمیت مختلف علاقائی اداروں نے بھی صومالیہ کی وحدت، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام پر زور دیا۔

پاکستانی مندوب نے صومالیہ کی وفاقی جمہوریہ کی خودمختاری، وحدت اور علاقائی سالمیت کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر حسن شیخ محمود کی قیادت میں صومالیہ نے قومی مفاہمت، آئینی اصلاحات اور ریاستی اداروں کی بحالی میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ انہوں نے مالیاتی شعبے میں مثبت رجحانات، اقتصادی قانون سازی اور ایک فرد ایک ووٹ کے تحت شمولیتی انتخابات کی تیاریوں کو جمہوریت اور استحکام کے لیے اہم قدم قرار دیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کی موجودگی کی دو سالہ مرحلہ وار منتقلی کا عمل بھی خوش اسلوبی سے جاری ہے، جس کے تحت اقوام متحدہ کے عبوری معاونتی مشن (UNTMIS) کے پہلے مرحلے کی ذمہ داریاں مکمل طور پر منتقل کی جا چکی ہیں، جبکہ دوسرے اور آخری مرحلے کا روڈ میپ بھی طے ہو چکا ہے۔ یہ مشن 31 اکتوبر 2026 کو اپنی کارروائیاں ختم کرے گا۔

سفیر عثمان جدون نے کہا کہ اس مثبت رفتار کا تحفظ اور استحکام ضروری ہے اور ایسے اقدامات سے گریز کیا جانا چاہیے جو ملک کو تقسیم کر کے اب تک کی گئی محنت کو ضائع کر دیں۔ انہوں نے الشباب اور اس سے منسلک گروہوں کے خلاف صومالی عوام اور سکیورٹی فورسز کی قربانیوں اور استقامت کو سراہتے ہوئے صومالیہ کے سکیورٹی اور استحکامی اقدامات کے لیے مسلسل حمایت کا اعادہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ ایسے نازک مرحلے پر، جب صومالیہ انتہا پسندی کے خلاف جدوجہد پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے، کوئی بھی اقدام جو توجہ بٹائے یا قومی اتحاد کو کمزور کرے، انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کی جانب سے ماضی میں ’’صومالی لینڈ‘‘ کو فلسطینیوں، بالخصوص غزہ سے، بے دخلی کے لیے ممکنہ مقام کے طور پر پیش کرنے کے تناظر میں اس علاقے کو تسلیم کرنا نہایت تشویشناک ہے۔

پاکستانی مندوب نے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی سے متعلق کسی بھی تجویز یا منصوبے کو دوٹوک الفاظ میں مسترد کرتے ہوئے کہا کہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2803، جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ تنازع کے خاتمے کے جامع منصوبے کی توثیق کرتی ہے، اس امر کی وضاحت کرتی ہے کہ کسی کو بھی غزہ چھوڑنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ جبری نقل مکانی یا آبادکاری کی حمایت یا اشارہ کرنے والے اقدامات بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی اور منصفانہ و دیرپا امن کے امکانات کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

انہوں نے فلسطینی عوام کی حقِ خودارادیت کی جدوجہد کے لیے پاکستان کی مستقل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پائیدار امن اور استحکام کا واحد راستہ 1967 سے قبل کی سرحدوں پر ایک آزاد، خودمختار اور جغرافیائی طور پر مربوط فلسطینی ریاست کا قیام ہے، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔

اس موقع پر صومالیہ کے اقوام متحدہ میں مندوب، ابوکر داہر عثمان نے، الجزائر، گیانا اور سیرالیون کی جانب سے بھی خطاب کرتے ہوئے، اسرائیل کے اقدام کو صومالیہ کی وحدت اور علاقائی سالمیت پر کھلا حملہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’نام نہاد صومالی لینڈ‘‘ قانونی طور پر کسی بھی ملک کے ساتھ کسی معاہدے یا انتظام کا اہل نہیں، اور اس نوعیت کے تمام اقدامات کالعدم اور اقوام متحدہ کے چارٹر، افریقی یونین کے اصولوں اور بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں۔

انہوں نے اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں کی دیگر ممالک منتقلی سے متعلق بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے غزہ کے فلسطینی عوام کو صومالیہ کے شمال مغربی علاقے میں منتقل کرنے کی کسی بھی کوشش کو مسترد کیا اور کہا کہ قانون اور اخلاقیات کی اس صریح بے توقیری کا فوری طور پر خاتمہ ہونا چاہیے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین