پشاور (مشرق نامہ) – سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے خبردار کیا ہے کہ غلام خان، اسپن بولدک، خرلاچی اور طورخم سمیت اہم پاک افغان سرحدی گزرگاہوں کی طویل بندش کے باعث دونوں جانب کے تاجروں کو شدید مالی نقصان کا سامنا ہے۔
چیمبر کے مطابق دس ہزار سے زائد پاکستانی اور افغان تاجر اور ٹرانزٹ ٹریڈ کی کھیپیں اس وقت کراچی بندرگاہ پر پھنس چکی ہیں، جس کے نتیجے میں اربوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔
سرحد چیمبر کے صدر جنید الطاف نے اپنے بیان میں کہا کہ سرحدی بندشوں کے باعث افغان ٹرانزٹ ٹریڈ اور وسطی ایشیائی ریاستوں سے متعلق 11 سے 12 ہزار کنٹینرز کراچی بندرگاہ پر رکے ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق تاجروں کی ہزاروں درآمدی و برآمدی گاڑیاں بھی مختلف سرحدی پوائنٹس پر کھڑی ہیں، جبکہ خراب ہونے والی اشیا ضائع ہو رہی ہیں جس سے نقصانات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کنٹینرز کے انبار کے باعث تاجروں کو روزانہ بھاری ڈیمرج اور ڈیٹینشن چارجز ادا کرنا پڑ رہے ہیں، جبکہ سرحدی بندشوں نے ٹرانزٹ ٹریڈ کی سپلائی چین کو بری طرح متاثر کر دیا ہے، جس سے بندرگاہی، ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس خدمات عملاً مفلوج ہو کر رہ گئی ہیں۔
جنید الطاف کے مطابق یہ صورتحال نہ صرف قومی برآمدات کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے بلکہ بے روزگاری میں اضافے کا سبب بھی بن رہی ہے، جبکہ سرحد پار تجارت پر انحصار کرنے والے تاجروں پر غیر معمولی مالی دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔

