بدھ, فروری 11, 2026
ہومبین الاقوامییمن میں کشیدگی بڑھنے پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ

یمن میں کشیدگی بڑھنے پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ
ی

نیویارک / بنگلورو (مشرق نامہ) – یمن میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور مشرقِ وسطیٰ میں ممکنہ سپلائی تعطل کے خدشات کے باعث پیر کے روز عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں ایک ڈالر سے زائد بڑھ گئیں، جبکہ روس نے یوکرین پر صدر ولادیمیر پیوٹن کی رہائش گاہ کو ڈرون حملے کا نشانہ بنانے کا الزام بھی عائد کیا۔

برینٹ کروڈ فیوچرز 1818 جی ایم ٹی تک ایک ڈالر یا 1.7 فیصد اضافے کے ساتھ 61.64 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کروڈ 1.10 ڈالر یا 1.9 فیصد اضافے کے ساتھ 57.84 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوتا رہا۔

توانائی تجزیاتی ادارے جیلبر اینڈ ایسوسی ایٹس کے مطابق مارکیٹ کی توجہ ایک بار پھر مشرقِ وسطیٰ کی جانب مبذول ہو گئی ہے، جہاں یمن میں سعودی فضائی حملوں سمیت تازہ عدم استحکام سپلائی میں رکاوٹ کے خدشات کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔

سعودی عرب کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے ہفتے کے روز رپورٹ کیا کہ یمن میں سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے خبردار کیا ہے کہ مشرقی صوبے حضرموت میں جنوبی علیحدگی پسند گروپ کی جانب سے کسی بھی ایسی عسکری پیش قدمی کا مقابلہ کیا جائے گا جو کشیدگی میں کمی کی کوششوں کو نقصان پہنچائے، تاکہ شہریوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

جمعرات کے روز حضرموت میں جھڑپوں کے دوران جنوبی عبوری کونسل (ایس ٹی سی) سے وابستہ حضرمی ایلیٹ فورسز کے دو اہلکار ہلاک ہو گئے، جس کے بعد جمعے کی صبح سعودی فضائی حملے کیے گئے۔ رائٹرز کے مطابق ان حملوں میں ایس ٹی سی فورسز کو نشانہ بنایا گیا۔

دوسری جانب ماسکو نے یوکرین پر شمالی روس میں واقع صدارتی رہائش گاہ کو ڈرون حملے کا نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا، جس کے بعد روس نے امن مذاکرات سے متعلق اپنے مؤقف پر نظرثانی کا عندیہ دیا ہے۔ یوکرین نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ماسکو مزید حملوں کے لیے “جھوٹے جواز” تلاش کر رہا ہے۔

ان پیش رفتوں سے قبل یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے پیر کے روز کہا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور اس بات پر اتفاق ہوا ہے کہ آئندہ ہفتے امریکی اور یوکرینی ٹیمیں جنگ کے خاتمے سے متعلق امور کو حتمی شکل دینے کے لیے ملاقات کریں گی۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق ٹرمپ اور پیوٹن کے درمیان بھی یوکرین جنگ پر ایک مثبت ٹیلی فونک رابطہ ہوا تھا۔

جمعے کے روز تیل کی قیمتوں میں دو فیصد سے زائد کمی دیکھی گئی تھی، جس کی ایک وجہ یوکرین جنگ میں ممکنہ امن معاہدے کی امیدیں تھیں۔

یو بی ایس کے تجزیہ کار جیووانی اسٹاؤنوفو کے مطابق چین کی جانب سے سمندری راستے سے خام تیل کی مضبوط درآمدات بھی عالمی تیل منڈی کو سخت کرنے میں مدد دے رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ برینٹ کروڈ کے لیے 60 ڈالر فی بیرل ایک نرم حد تصور کی جا سکتی ہے، جبکہ توقع ہے کہ 2026 میں قیمتوں میں معمولی بحالی آئے گی کیونکہ اوپیک پلس سے باہر سپلائی میں اضافہ 2026 کے وسط تک رکنے کا امکان ہے۔

ادھر توانائی کے سرمایہ کار امریکا میں تیل کے ذخائر سے متعلق اعداد و شمار کے منتظر ہیں۔ 19 دسمبر کو ختم ہونے والے ہفتے کے لیے یہ رپورٹ پیر کے روز 10:30 صبح امریکی وقت پر جاری ہونا تھی، تاہم بغیر کسی نئی تاریخ کے اسے مؤخر کر دیا گیا۔

رائٹرز کے ایک طویل سروے کے مطابق توقع ہے کہ اس ہفتے امریکی خام تیل کے ذخائر میں کمی واقع ہوئی ہو گی، جبکہ ڈسٹلیٹ اور پٹرول کے ذخائر میں اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین