مانئڑئنگ ڈیسک (مشرق نامہ )چین نے تائیوان کے گرد براہِ راست فائرنگ پر مشتمل فوجی مشقیں شروع کر دی ہیں، جن میں فضائیہ، بحریہ اور راکٹ فورسز کو تعینات کیا گیا ہے۔ چینی فوج کے مطابق ان جنگی مشقوں کا مقصد جنگی تیاری کو جانچنا اور “علیحدگی پسند” اور “بیرونی مداخلت” کرنے والی قوتوں کو سخت پیغام دینا ہے۔
تائیوان کے حکام نے پیر کے روز ایک پریس بریفنگ میں بتایا کہ کم از کم 14 چینی جنگی بحری جہاز، 14 کوسٹ گارڈ جہاز اور 89 طیارے دیکھے گئے، جن میں سے 67 تائیوان کے ردِعمل کے دائرۂ کار میں داخل ہوئے۔
ان مشقوں کے باعث تائیوان نے فوجی اہلکاروں اور عسکری سازوسامان کو حرکت میں لاتے ہوئے ممکنہ حملے کو روکنے کی مشقیں کیں، جبکہ تجارتی پروازوں کو بھی متبادل راستوں پر موڑنا پڑا۔
تائیوان کی وزارتِ ٹرانسپورٹ کے مطابق منگل کے روز طے شدہ بین الاقوامی پروازوں پر سفر کرنے والے ایک لاکھ سے زائد مسافر اور تقریباً 6 ہزار اندرونِ ملک ہوائی مسافر ان تبدیلیوں سے متاثر ہوئے۔
پورٹ حکام نے کہا کہ تائیوانی بندرگاہوں سے آنے جانے والے تجارتی جہازوں پر کوئی متوقع اثر نہیں پڑے گا، تاہم جہازوں کو چینی مشقوں کے علاقوں سے دور رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
یہ مشقیں ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب بیجنگ امریکا کی جانب سے تائیوان کو 11.1 ارب ڈالر کے ہتھیاروں کی فروخت اور جاپانی وزیرِ اعظم سانی تاکائیچی کے اس بیان پر برہم ہے، جس میں انہوں نے عندیہ دیا تھا کہ اگر چین نے تائیوان پر حملہ کیا تو جاپانی فوج مداخلت کر سکتی ہے۔
چین تائیوان کو اپنے علاقے کا حصہ سمجھتا ہے اور کہتا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ طاقت کے ذریعے جزیرے پر کنٹرول حاصل کرے گا۔
پیر کے روز باقاعدہ نیوز بریفنگ میں چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان لن جیان نے خبردار کیا کہ “چین کے دوبارہ اتحاد میں رکاوٹ ڈالنے کی تمام مذموم سازشیں ناکام ہوں گی”۔
انہوں نے کہا کہ بیرونی قوتیں اگر تائیوان کو استعمال کر کے چین کو روکنے اور تائیوان کو مسلح کرنے کی کوشش کریں گی تو اس سے صرف علیحدگی پسند عناصر کی ہٹ دھرمی بڑھے گی اور آبنائے تائیوان کو قریب الوقوع جنگ کی خطرناک صورتحال کی طرف دھکیلا جائے گا۔
لن جیان نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ تائیوان میں آزادی کے حامی عناصر جزیرے کو “بارود کے ڈھیر” میں بدلنے پر آمادہ ہیں، جس سے ان کی “خبیث فطرت” عیاں ہوتی ہے۔
چینی فوج کے مشرقی کمانڈ نے اس سے قبل بتایا تھا کہ اس نے آبنائے تائیوان کے شمال اور جنوب مغرب میں افواج مرکوز کر دی ہیں اور زمینی و بحری اہداف پر براہِ راست فائرنگ اور فرضی حملے کیے جا رہے ہیں۔
“جسٹ مشن 2025” نامی یہ مشقیں منگل تک جاری رہیں گی، جن میں جزیرے کی اہم بندرگاہوں کی ناکہ بندی اور تائیوان کا محاصرہ کرنے کی مشقیں شامل ہیں۔
مشرقی کمانڈ کے ترجمان شی یی نے چینی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ویبو پر لکھا کہ یہ مشقیں “تائیوان کی آزادی” کے علیحدگی پسند عناصر اور بیرونی مداخلت کرنے والی قوتوں کے لیے سنجیدہ انتباہ ہیں۔
الجزیرہ کی بیجنگ سے رپورٹر کیٹرینا یو کے مطابق چین امریکا اور جاپان کے حالیہ اقدامات کو “اشتعال انگیزی” سمجھتا ہے۔
چینی حکام بارہا کہہ چکے ہیں کہ تائیوان پر دوبارہ قبضے کے مشن میں کسی بھی قسم کی مداخلت “چین کی سرخ لکیر عبور کرنے” کے مترادف ہو گی۔
چھٹا بڑا مرحلہ
تائیوان کی حکومت اور عوام نے ان مشقوں کی مذمت کی ہے۔
صدارتی دفتر کے ترجمان نے چین پر زور دیا کہ وہ صورتحال کو غلط نہ سمجھے، علاقائی امن کو نقصان نہ پہنچائے اور ان “غیر ذمہ دارانہ اشتعال انگیزیوں” کو فوری طور پر روکے۔
وزیرِ ٹرانسپورٹ چن شی کائی نے کہا: “ہم ان کے تکبر اور غیر معقول اقدامات کے خلاف سخت احتجاج اور مذمت کرتے ہیں، جو لازمی طور پر ہماری فضائی اور بحری آمدورفت کی سلامتی کو متاثر کریں گے۔”
تائیوان کی وزارتِ دفاع نے بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران دو چینی فوجی طیارے اور 11 جہاز جزیرے کے گرد سرگرم رہے، اور تائیوانی فوج ہائی الرٹ پر ہے اور “تیز ردِعمل کی مشقیں” کرنے کے لیے تیار ہے۔
یہ مشقیں اس لیے تیار کی گئی ہیں کہ اگر چین اپنی معمول کی مشقوں کو اچانک حملے میں بدل دے تو فوج فوری طور پر حرکت میں آ سکے۔
وزارت نے کہا: “ہماری مسلح افواج کے تمام ارکان مکمل چوکس رہیں گے اور جمہوریت اور آزادی کی اقدار کے دفاع کے لیے عملی اقدامات کریں گے۔”
وزارتِ دفاع نے فیس بک پر ایک ویڈیو بھی جاری کی جس میں مختلف ہتھیار دکھائے گئے، جن میں امریکا ساختہ ہائی مارز (HIMARS) راکٹ سسٹم بھی شامل ہیں، جن کی مار تقریباً 300 کلومیٹر ہے اور جو تنازع کی صورت میں چین کے صوبہ فوجیان کے ساحلی اہداف کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔
تائیوان کے کوسٹ گارڈ نے بھی بتایا کہ اس نے چینی کوسٹ گارڈ کی سرگرمیوں کے جواب میں بڑے جہاز روانہ کیے ہیں اور فوج کے ساتھ مل کر سمندری راستوں اور ماہی گیری کے علاقوں پر اثرات کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
تائیوان کی ایوی ایشن اتھارٹی نے کہا کہ چین نے منگل کو 10 گھنٹے کی براہِ راست فائرنگ کی مشقوں کے لیے تائی پے کی فضائی حدود میں ایک “عارضی خطرناک زون” مقرر کیا ہے اور متبادل فضائی راستے تلاش کیے جا رہے ہیں۔
ایک مقامی شہری اسٹیفنی ہوانگ نے کہا:
“چین کا مقصد جزیرہ رکھنا ہے، لوگ نہیں۔ لیکن تائیوانی عوام ایسا نہیں سوچتے۔ ہم جو ہیں وہی ہیں، اور وہ جو ہیں وہی ہیں۔ آبنائے کے دونوں کنارے ایک دوسرے کے ماتحت نہیں۔ ہم اپنا ایک ملک ہیں۔”
ایک استاد لن وی منگ نے کہا:
“یہ مشقیں صرف ہمیں ڈرانے کے لیے ہیں۔ عام شہریوں کے طور پر ہم بس اپنی زندگیوں کا خیال رکھ سکتے ہیں، اپنا کام بہتر طریقے سے کر سکتے ہیں اور جینا جاری رکھ سکتے ہیں۔”
امریکا اور جاپان کے لیے ’سخت پیغام‘
یہ مشقیں 2022 کے بعد چین کی چھٹی بڑی فوجی مشقیں ہیں، جب اُس وقت کی امریکی اسپیکر نینسی پیلوسی نے تائیوان کا دورہ کیا تھا۔ سرکاری خبر رساں ایجنسی شنہوا نے انہیں “چین کی خودمختاری اور قومی اتحاد کے تحفظ کے لیے جائز اور ضروری اقدام” قرار دیا ہے۔
پیپلز لبریشن آرمی (PLA) کے مطابق لڑاکا طیارے، بمبار، بغیر پائلٹ طیارے اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے راکٹ تعینات کیے گئے ہیں، اور متحرک زمینی اہداف کو نشانہ بنانے کی مشقیں کی جا رہی ہیں۔
تجزیہ کار ولیم یانگ کے مطابق ان مشقوں کی زبان واضح طور پر امریکا اور جاپان جیسے تائیوان کے غیر رسمی اتحادیوں کو پیغام دیتی ہے کہ کسی بھی تنازع میں انہیں بیرونی مدد فراہم کرنے سے روکا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ یہ مشقیں چین کی فوجی جدید کاری میں ہونے والی پیش رفت کا حقیقی مظاہرہ ہیں۔
یہ مشقیں ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب امریکا نے رواں ماہ تائیوان کو تاریخ کے سب سے بڑے، 11.1 ارب ڈالر کے ہتھیاروں کے پیکج کی منظوری دی، جس پر چین نے سخت ردِعمل دیتے ہوئے پابندیاں بھی عائد کیں۔
چین کے صدر شی جن پنگ نے نومبر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے کہا تھا کہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد تائیوان کا “چین میں واپسی” بیجنگ کے عالمی نظام کے تصور کا مرکزی حصہ ہے۔
تائیوان چین کے دعوے کو مسترد کرتا ہے اور کہتا ہے کہ جزیرے کے مستقبل کا فیصلہ صرف اس کے عوام کر سکتے ہیں۔
اتوار کو نشر ہونے والے ایک انٹرویو میں تائیوان کے صدر ولیم لائی چنگ تے نے کہا کہ چین کو باز رکھنے کے لیے جارحیت کی قیمت بڑھانا اور مقامی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا:
“اگر چین 2027 کو تائیوان پر حملے کے لیے تیار ہونے کا سال مقرر کرتا ہے تو ہمارے پاس صرف ایک راستہ ہے: اس مشکل کو مسلسل بڑھاتے رہنا تاکہ چین کبھی اس معیار پر پورا نہ اتر سکے۔ اس طرح تائیوان محفوظ رہے گا۔

