بدھ, فروری 11, 2026
ہومبین الاقوامیاقوامِ متحدہ کی ایجنسی کے مطابق سوڈان میں تین دن کے دوران...

اقوامِ متحدہ کی ایجنسی کے مطابق سوڈان میں تین دن کے دوران 10 ہزار سے زائد افراد بے گھر
ا

مانئڑئنگ ڈیسک (مشرق نامہ)اقوامِ متحدہ کی ہجرت سے متعلق ایجنسی نے اتوار کو بتایا کہ مغربی اور جنوبی سوڈان میں سوڈانی باقاعدہ فوج اور نیم فوجی ریپڈ سپورٹ فورس (RSF) کے درمیان تازہ جھڑپوں کے نتیجے میں گزشتہ ہفتے صرف تین دن کے اندر 10 ہزار سے زائد افراد اپنے گھروں سے نقل مکانی پر مجبور ہو گئے۔

آر ایس ایف نے اکتوبر میں شمالی دارفور کے دارالحکومت الفاشر پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد حالیہ دنوں میں مغرب کی جانب پیش قدمی کی ہے، جہاں وہ ان علاقوں سے گزری ہے جو زغاوہ نسلی گروہ کے زیرِ آبادی ہیں اور فوج کے اتحادی ملیشیا کے کنٹرول میں تھے۔

بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت (IOM) کے مطابق 25 اور 26 دسمبر کے درمیان سوڈان کی مغربی سرحد پر چاڈ کے قریب واقع ام بارو اور کرنوی دیہات پر حملوں کے نتیجے میں 7 ہزار سے زائد افراد بے گھر ہوئے۔

کرسمس کی شام سے جمعے تک، جنوبی کردفان کے قحط زدہ شہر کادوگلی سے مزید 3,100 افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔ یہ شہر ڈیڑھ سال سے زائد عرصے سے نیم فوجی دستوں کے محاصرے میں ہے۔

دونوں حریف قوتیں اور ان کے اتحادی اپریل 2023 سے برسرِ پیکار ہیں، جس کے نتیجے میں دسیوں ہزار افراد ہلاک اور 1 کروڑ 10 لاکھ سے زائد لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔ اقوامِ متحدہ نے اس صورتحال کو “ظلم و بربریت کی جنگ” قرار دیا ہے۔

اس وقت وسائل سے مالا مال کردفان کے علاقے میں شدید ترین لڑائی جاری ہے۔ آر ایس ایف اور اس کے اتحادی دارفور سے خرطوم کی جانب جانے والی سوڈان کی مرکزی راہداری پر دوبارہ قبضہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

سوڈان میں مسلسل جاری لڑائی نے دنیا کے بدترین بھوک اور بے گھری کے بحرانوں میں سے ایک کو جنم دیا ہے، جس کے نتیجے میں یہ افریقی ملک عملاً دو حصوں میں بٹ چکا ہے: شمال، مشرق اور وسطی علاقوں پر سوڈانی باقاعدہ فوج کا کنٹرول ہے، جبکہ آر ایس ایف اور اس کے اتحادی دارفور کے تمام پانچ ریاستی دارالحکومتوں اور جنوبی علاقوں کے بعض حصوں پر قابض ہیں

مقبول مضامین

مقبول مضامین