بدھ, فروری 11, 2026
ہومبین الاقوامیایف بی آئی کے سربراہ کی مبینہ 110 ملین ڈالر کے فراڈ...

ایف بی آئی کے سربراہ کی مبینہ 110 ملین ڈالر کے فراڈ پر ملک بدری کی دھمکی
ا

مانئڑئنگ ڈیسک (مشرق نامہ )ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل نے خبردار کیا ہے کہ ریاست مینیسوٹا میں مبینہ فراڈ میں ملوث افراد کو ملک بدر کیا جا سکتا ہے۔ یہ انتباہ ایک یوٹیوبر کی جانب سے ریاست میں مبینہ کروڑوں ڈالر کے گھوٹالے کو بے نقاب کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے، جس کے نتیجے میں مقامی صومالی کمیونٹی سے جڑے بڑے پیمانے پر سماجی خدمات کے فراڈ پر ایک وسیع تر اسکینڈل کھڑا ہو گیا ہے۔

آزاد صحافی نک شرلی نے گزشتہ ہفتے ایک ویڈیو پوسٹ کی، جس میں وہ مینیسوٹا کے کئی چائلڈ کیئر اور ہیلتھ کیئر مراکز کا دورہ کرتے دکھائی دیتے ہیں، جو مبینہ طور پر صومالی پس منظر رکھنے والے مقامی افراد چلا رہے تھے، مگر بظاہر یہ مراکز غیر فعال محض نمائشی دفاتر لگ رہے تھے۔ بعد ازاں شرلی نے اندازہ لگایا کہ ان مقامات کو مجموعی طور پر ریاستی فنڈز سے 110 ملین ڈالر سے زائد کی رقم ملی۔ یہ ویڈیو وائرل ہو گئی، جس کے بعد قانون سازوں اور نمایاں شخصیات نے ریاستی حکام اور گورنر ٹم والز کو عدم کارروائی پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

اتوار کے روز ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک پوسٹ میں کاش پٹیل نے کہا کہ ایف بی آئی “مینیسوٹا میں سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی حالیہ رپورٹس سے آگاہ ہے” اور اس بات پر زور دیا کہ ویڈیو کے وائرل ہونے سے پہلے ہی ادارہ وفاقی پروگراموں کو نشانہ بنانے والے بڑے پیمانے کے فراڈ کو ختم کرنے کے لیے ریاست میں “اضافی عملہ اور تفتیشی وسائل” تعینات کر چکا تھا۔

انہوں نے فیڈنگ آور فیوچر کیس کی مثال دی، جس میں تفتیش کاروں نے مینیسوٹا میں 250 ملین ڈالر کے اس منصوبے کو بے نقاب کیا تھا، جس کے ذریعے کووِڈ-19 وبا کے دوران کم آمدنی والے بچوں کے لیے مختص وفاقی غذائی امداد کے فنڈز میں خرد برد کی گئی۔

اس تحقیقات میں ریاست کی سب سے بڑی تارکینِ وطن برادری، یعنی صومالی کمیونٹی، میں جڑ پکڑے وسیع پیمانے پر منی لانڈرنگ کا انکشاف ہوا، جس کے نتیجے میں اب تک 78 افراد پر فردِ جرم عائد کی جا چکی ہے اور 57 کو سزائیں سنائی جا چکی ہیں۔ بعد ازاں مزید اسکیموں کی رپورٹس بھی سامنے آئیں جو مینیسوٹا کے سماجی تحفظ کے پروگراموں کو نشانہ بنا رہی تھیں، اور جن میں نقصانات کا تخمینہ اربوں ڈالر بتایا گیا۔ بعض رپورٹس کے مطابق یہ رقوم غیر رسمی نیٹ ورکس کے ذریعے بیرونِ ملک منتقل کی گئیں، اور ممکن ہے کہ ان میں سے کچھ رقم صومالیہ میں قائم القاعدہ سے منسلک دہشت گرد تنظیم الشباب تک بھی پہنچی ہو۔

پٹیل نے کہا کہ فراڈ کے مشتبہ افراد کو اب ممکنہ شہریت منسوخی اور ملک بدری کے لیے امیگریشن حکام کے حوالے کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ ایف بی آئی کے نزدیک فیڈنگ آور فیوچر کیس “ایک بہت بڑے آئس برگ کی صرف نوک” ہے

مقبول مضامین

مقبول مضامین