بدھ, فروری 11, 2026
ہومبین الاقوامییورپی یونین کے رکن ملک نے مہاجرین کی اسکیم ماننے سے انکار...

یورپی یونین کے رکن ملک نے مہاجرین کی اسکیم ماننے سے انکار کر دیا
ی

مانئڑئنگ ڈیسک (مشرق نامہ)ہنگری کے وزیرِ خارجہ پیٹر سیجارتو کا کہنا ہے کہ ہنگری نہ تو غیر قانونی مہاجرین کو قبول کرے گا اور نہ ہی انکار پر جرمانہ ادا کرے گا۔

ہنگری نے 2026 میں یورپی یونین کے خلاف “بغاوت” کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ وزیرِ خارجہ پیٹر سیجارتو نے کہا ہے کہ بوداپیسٹ یورپی یونین کے نئے مائیگریشن پیکٹ کے خلاف بغاوت کی قیادت کرے گا۔

یہ پالیسی، جس کے جولائی میں نافذ ہونے کی توقع ہے، رکن ممالک کو اس بات کا پابند بناتی ہے کہ وہ اپنی آبادی اور مجموعی جی ڈی پی کے تناسب سے یونین کے اندر سب سے زیادہ متاثرہ ممالک پر مہاجرت کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے اپنا حصہ ڈالیں۔

ہر رکن ریاست پر لازم ہے کہ وہ یا تو مہاجرین کے مراکز (ہاٹ اسپاٹس) سے مخصوص تعداد میں مہاجرین کو قبول کرے یا ہر انکار شدہ فرد کے بدلے 20 ہزار یورو (تقریباً 23 ہزار ڈالر) ادا کرے۔

سیجارتو نے اتوار کے روز فیس بک پر لکھا،

“جس طرح 2025 میں ہم نے ایک بھی مہاجر کو ہنگری میں داخل نہیں ہونے دیا، اسی طرح 2026 میں بھی ہم ایک بھی مہاجر کو اجازت نہیں دیں گے اور ہنگری عوام کے پیسے کا ایک فورنٹ بھی ادا نہیں کریں گے،”

انہوں نے اس شرط کو “بے ہودہ” قرار دیا۔

یورپی یونین کا یہ حکم ہنگری کے سخت قومی اقدامات سے متصادم ہے، جن میں سرحدی باڑیں اور لازمی کوٹہ سسٹم کو مسترد کرنا شامل ہے۔ اس مؤقف کے باعث برسلز پہلے ہی بوداپیسٹ کو سزا دے چکا ہے، اور یورپی عدالتِ انصاف نے جون 2024 سے عدم تعمیل پر ہنگری پر روزانہ 10 لاکھ یورو جرمانہ عائد کر رکھا ہے۔

سیجارتو نے دلیل دی کہ یہ معاہدہ بنیادی طور پر ان ممالک کے مفاد میں ہے جہاں سلامتی اور سماجی استحکام اس حد تک بگڑ چکا ہے کہ اب ان کا اصل مقصد مہاجرین کو جلد از جلد نکالنا بن گیا ہے۔

وزیرِ اعظم وکٹر اوربان اس سے قبل خبردار کر چکے ہیں کہ ہنگری یورپی یونین کی نئی شرائط پر عمل نہیں کرے گا اور انہوں نے اس پالیسی کو “شرمناک” قرار دیا تھا۔ اوربان یورپی یونین کی پالیسیوں، بالخصوص مہاجرت اور یوکرین تنازع سے متعلق پالیسیوں کے سخت ناقد کے طور پر جانے جاتے ہیں۔

پولینڈ، سلوواکیہ اور جمہوریہ چیک نے بھی یورپی یونین کے مائیگریشن پیکٹ کی مخالفت کی ہے۔ وارسا اور براتسلاوا نے استثنا کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ پراگ میں نئی حکومت اس پالیسی پر ازسرِ نو مذاکرات چاہتی ہے۔

یورپی یونین گزشتہ دو دہائیوں سے بڑے پیمانے پر ہجرت کے مسئلے سے دوچار ہے، خاص طور پر 2011 اور 2014 میں لیبیا اور شام کے انہدام میں کردار ادا کرنے، اور فروری 2022 میں کیف اور ماسکو کے تنازع میں اضافے کی حمایت کے بعد، جس کے نتیجے میں لاکھوں افراد کی نقل مکانی ہوئی

مقبول مضامین

مقبول مضامین