بدھ, فروری 11, 2026
ہومبین الاقوامیچین نے تائیوان کے گرد جنگی مشقیں شروع کر دیں

چین نے تائیوان کے گرد جنگی مشقیں شروع کر دیں
چ

بیجنگ (مشرق نامہ) – بیجنگ نے پیر کے روز تائیوان کے گرد بری، بحری، فضائی اور توپ خانے کے یونٹس کو حرکت میں لا کر اپنی فوجی مشقیں شروع کر دیں، جنہیں “جسٹس مشن 2025” کا نام دیا گیا ہے۔ اس اقدام کے جواب میں تائیوان نے جمہوریت کے دفاع کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے افواج کو متحرک کیا اور ممکنہ چینی حملے کو پسپا کرنے کی مشقیں شروع کر دیں۔

چین کی ایسٹرن تھیٹر کمانڈ نے ایک بیان میں اعلان کیا کہ منگل کے روز براہِ راست فائرنگ کی مشقیں بھی شامل ہوں گی۔ بیان کے ساتھ جاری کردہ ایک گرافک میں تائیوان کے گرد پانچ ایسے زونز کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں سمندری اور فضائی حدود پر پابندیاں صبح 8 بجے سے 10 گھنٹے کے لیے نافذ رہیں گی (پاکستانی وقت کے مطابق صبح 5 بجے)۔

یہ 2022 کے بعد چین کی چھٹی بڑی جنگی مشقوں کی لہر ہے، جب اس وقت کی امریکی ایوانِ نمائندگان کی اسپیکر نینسی پیلوسی نے جمہوری طرزِ حکمرانی رکھنے والے اس جزیرے کا دورہ کیا تھا۔ یہ مشقیں جاپانی وزیراعظم سانائے تاکائیچی کے اس بیان کے بعد چینی بیانیے میں اضافے کے تناظر میں بھی ہو رہی ہیں، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ تائیوان پر کسی ممکنہ چینی حملے کی صورت میں ٹوکیو عسکری ردِعمل دے سکتا ہے۔

یہ مشقیں اس اعلان کے 11 دن بعد شروع ہوئیں جب امریکا نے تائیوان کو 11.1 ارب ڈالر کے ہتھیار فروخت کرنے کا اعلان کیا تھا، جو اب تک کا سب سے بڑا اسلحہ پیکج ہے۔ اس پر چین کی وزارتِ دفاع نے احتجاج کیا تھا اور خبردار کیا تھا کہ فوج “سخت اقدامات” کرے گی۔

چینی فوج کے مطابق اس نے جنگی طیارے، بمبار طیارے، بغیر پائلٹ فضائی گاڑیاں اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے راکٹس تعینات کیے ہیں، اور مشقوں کے دوران مختلف سمتوں سے مربوط حملے کی نقل کرتے ہوئے زمینی متحرک اہداف کو نشانہ بنانے کی مشق کی جائے گی۔

ایسٹرن تھیٹر کمانڈ کے ترجمان شی یی کے مطابق، یہ مشقیں تائیوان کی آزادی کے حامی علیحدگی پسند عناصر اور بیرونی مداخلت کار قوتوں کے لیے ایک سنجیدہ انتباہ ہیں۔

تائیوان کی حکومت نے ان مشقوں کی مذمت کی ہے۔ صدارتی دفتر کے ایک ترجمان نے چین سے کہا کہ وہ صورتحال کا غلط اندازہ نہ لگائے اور علاقائی امن کو نقصان نہ پہنچائے، اور ان اقدامات کو غیر ذمہ دارانہ اشتعال انگیزی قرار دیتے ہوئے فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا۔

خوف پھیلانے کی حکمتِ عملی

تائیوان کی وزارتِ دفاع کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران دو چینی فوجی طیارے اور 11 بحری جہاز جزیرے کے گرد سرگرم رہے، جبکہ تائیوانی فوج ہائی الرٹ پر ہے اور “تیز ردِعمل کی مشقیں” انجام دینے کے لیے تیار ہے۔

یہ مخصوص مشق اس لیے ترتیب دی گئی ہے کہ اگر چین اچانک جزیرے کے گرد جاری کسی فوجی مشق کو حقیقی حملے میں بدل دے تو افواج فوری طور پر حرکت میں آ سکیں۔

وزارتِ دفاع کے مطابق، مسلح افواج کے تمام اہلکار انتہائی چوکس اور مکمل طور پر تیار رہیں گے اور جمہوریت اور آزادی کی اقدار کے دفاع کے لیے عملی اقدامات کریں گے۔

پیر کے روز درجنوں چینی جنگی جہاز اور طیارے تائیوان کے قریب سرگرم رہے، جن میں سے بعض نے دانستہ طور پر تائیوان کے متصل زون کی جانب پیش قدمی کی۔ یہ زون ساحل سے 24 بحری میل تک کے علاقے پر مشتمل ہوتا ہے۔ ایک اعلیٰ تائیوانی سکیورٹی عہدیدار نے بتایا کہ یہ سرگرمیاں تشویشناک ہیں۔

تائیوان کی کوسٹ گارڈ نے بتایا کہ اس نے جزیرے کے پانیوں کے قریب چینی کوسٹ گارڈ کی سرگرمیوں کے جواب میں بڑے بحری جہاز تعینات کیے ہیں اور وہ فوج کے ساتھ مل کر ان مشقوں کے سمندری راستوں اور ماہی گیری کے علاقوں پر اثرات کو کم سے کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

ان مشقوں کے باوجود تائیوان کی اسٹاک مارکیٹ متاثر نہ ہوئی اور صبح کی ٹریڈنگ میں 0.6 فیصد اضافے کے ساتھ ریکارڈ بلند سطح پر پہنچ گئی۔

تائی پے میں مقیم 31 سالہ استاد لن وے منگ کے مطابق، یہ مشقیں محض خوف پھیلانے کے لیے ہیں۔ ان کے بقول، اس نوعیت کی مشقیں پہلے بھی ہوتی رہی ہیں اور سیاسی پہلو کا سامنا تائیوان کی موجودہ حکومت کو ہی کرنا ہوگا۔

تائیوان چین کے دعویٰ کردہ اقتدارِ اعلیٰ کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف رکھتا ہے کہ جزیرے کے مستقبل کا فیصلہ صرف اس کے عوام کر سکتے ہیں۔

علیحدگی پسندوں کو کچلنے کے نعرے

چینی فوج نے مشقوں کے اعلان کے بعد تین پوسٹرز جاری کیے، جن کے عنوانات “شیلڈز آف جسٹس: فریب کو کچلنا” اور “ایروز آف جسٹس: کنٹرول اور روک تھام” تھے، جبکہ ایک اور گرافک میں جزیرے کے چار مقامات کو نشانے پر دکھایا گیا۔

چین کے سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق، مشقوں کا مرکز تائیوان کے شمال میں واقع اہم گہرے پانی کی بندرگاہ کیلونگ اور جنوب میں واقع سب سے بڑے بندرگاہی شہر کاؤشیونگ کو بند کرنے پر ہے۔

اگرچہ گزشتہ برس بھی پیپلز لبریشن آرمی نے جنگی مشقوں کے دوران بندرگاہوں کے محاصرے کی مشق کی تھی، مگر یہ پہلا موقع ہے کہ چین نے کھلے عام کہا ہے کہ ان مشقوں کا مقصد بیرونی فوجی مداخلت کی “روک تھام” ہے۔

جاپانی وزیراعظم کے بیان کے بعد چین کی جانب سے اپنی خودمختاری کے دعوؤں پر زور دیا گیا۔ چینی صدر شی جن پنگ نے نومبر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے کہا تھا کہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد تائیوان کی “چین میں واپسی” بیجنگ کے عالمی نظام کے وژن کا مرکزی جزو ہے۔

پہلا پوسٹر ایسے شہری جہازوں کے بیڑے کو ظاہر کرتا ہے جنہیں چین تائیوان پر ممکنہ حملے میں معاونت کے لیے متحرک کر رہا ہے۔ ان جہازوں میں ریمپس اور کھلے ڈیک دکھائے گئے ہیں، جو بحری حملوں میں استعمال ہونے والی فوجی لینڈنگ کرافٹس سے مشابہ ہیں۔

پوسٹر پر درج عبارت کے مطابق، جو بھی غیر ملکی مداخلت اس “انصاف کی ڈھال” کو چھوئے گی، وہ نیست و نابود ہو جائے گی، اور جو علیحدگی پسند اس ڈھال کے سامنے آئیں گے، وہ تباہ کر دیے جائیں گے۔

دوسرے پوسٹر میں تائیوان پر جلتے ہوئے تیروں کی بارش دکھائی گئی ہے، جو سبز رنگ کے کارٹون کیڑوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ بیجنگ تائیوان کے صدر لائی چنگ-تے کو اکثر “پیراسائٹ” قرار دیتا ہے اور اپریل کی مشقوں کے دوران علیحدگی پسند قوتوں کے لیے سبز کیڑے کی علامت استعمال کی گئی تھی۔

تائی پے میں مقیم 56 سالہ انٹیریئر ڈیزائنر اسٹیفنی ہوانگ کے مطابق، چین کا اصل مقصد جزیرے پر کنٹرول حاصل کرنا ہے، نہ کہ عوام کو ساتھ لے کر چلنا۔ ان کے بقول، بیجنگ محض تائیوان کو اپنا حصہ قرار دے کر اپنی ساکھ بچانا چاہتا ہے، جبکہ تائیوان کے عوام اس نقطۂ نظر سے متفق نہیں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین