بدھ, فروری 11, 2026
ہومنقطہ نظرپاکستان کو دور کیوں رہنا چاہیے

پاکستان کو دور کیوں رہنا چاہیے
پ

ملیحہ لودھی

پاکستان کی جانب سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کے تحت قائم کی جانے والی بین الاقوامی استحکام فورس (آئی ایس ایف) میں فوجی دستے بھیجنے کی دانشمندی پر عوامی سطح پر سوالات اور شکوک و شبہات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ امریکی تصور کے مطابق یہ ایک کثیرالقومی فورس ہوگی جس کی قیادت ایک امریکی جنرل کرے گا، اور یہ ٹرمپ منصوبے کا ایک کلیدی جزو ہے۔ تاہم اس فورس کی قبولیت کے لیے حماس کی رضامندی لازمی ہے، کیونکہ اس کے بغیر اس میں شامل ہونے والے ممالک فلسطینی تنظیم کے ساتھ تصادم میں کھنچ سکتے ہیں۔

حکومت نے یہ بات واضح کی ہے اور امریکی انتظامیہ کو بھی آگاہ کیا ہے کہ وہ اس فورس میں شمولیت پر غور کر رہی ہے، تاہم حتمی فیصلہ ابھی نہیں کیا گیا۔ گزشتہ ماہ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا تھا کہ پاکستان آئی ایس ایف میں شمولیت کے لیے ’’یقیناً تیار‘‘ ہے، لیکن حماس کو غیر مسلح کرنا ’’ہمارا کام نہیں‘‘۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ وزیراعظم نے فیلڈ مارشل سے مشاورت کے بعد پہلے ہی اعلان کر دیا ہے کہ پاکستان اس میں حصہ لے گا، تاہم حتمی فیصلہ اس وقت کیا جائے گا جب آئی ایس ایف کے مینڈیٹ اور شرائطِ کار واضح ہو جائیں گی۔

پاکستان گزشتہ کئی ماہ سے امریکہ کے ساتھ اس غزہ فورس کے مینڈیٹ، ڈھانچے اور دیگر متعلقہ امور پر وضاحت حاصل کرنے کے لیے بات چیت کر رہا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے حالیہ پریس کانفرنس میں اس کی تصدیق کی اور فورس میں شمولیت کی پیشکش پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا، تاہم انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ فورس کے مینڈیٹ، کمانڈ اسٹرکچر اور مالی معاملات سے متعلق امور ابھی زیرِ بحث ہیں۔

درحقیقت، کئی دیگر مسلم ممالک جنہوں نے ابتدا میں آئی ایس ایف میں شمولیت میں دلچسپی ظاہر کی تھی، بعد ازاں پیچھے ہٹ گئے ہیں۔ کوئی بھی ملک اس وقت تک فوجی دستے دینے پر آمادہ نہیں ہوا جب تک بنیادی امور پر وضاحت نہیں ہو جاتی۔ 16 دسمبر کو امریکی سینٹرل کمانڈ نے دوحہ میں ایک کانفرنس کی میزبانی کی، جس میں پاکستان نے بھی شرکت کی، تاکہ ٹرمپ منصوبے کے اگلے مراحل، بشمول آئی ایس ایف کی تعیناتی، پر غور کیا جا سکے اور اس کے مینڈیٹ پر اتفاقِ رائے پیدا کیا جا سکے۔ تاہم یہ اجلاس مینڈیٹ پر اتفاق تک پہنچنے میں ناکام رہا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسلم ممالک کے تحفظات برقرار ہیں اور اگر فورس کا مینڈیٹ حماس اور دیگر فلسطینی مزاحمتی گروہوں کو بزورِ طاقت غیر مسلح کرنے پر مشتمل ہوا تو وہ اس میں شرکت نہیں کریں گے۔

کسی ایسے آئی ایس ایف میں فوج بھیجنا جس کا مینڈیٹ غیر واضح ہو اور جو فریقین میں سے ایک کے لیے ناقابلِ قبول ہو، ایک انتہائی پرخطر اقدام ہوگا۔

اس بات پر غور کرنے کے لیے کہ آیا پاکستان کو آئی ایس ایف کا حصہ بننا چاہیے یا نہیں، سب سے پہلے غزہ میں موجودہ صورتحال اور ٹرمپ منصوبے کے دوسرے مرحلے کی پیش رفت کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ اگلا مرحلہ سنگین رکاوٹوں کا شکار ہے جن کی وجہ سے منصوبہ تعطل کا شکار دکھائی دیتا ہے، اور یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ فریقین کے درمیان اختلافات کے باعث عمل رکا ہوا ہے۔ دی اکانومسٹ نے اس امن منصوبے کو ’’غزہ کے انتشار میں لڑکھڑاتا ہوا‘‘ قرار دیا ہے۔ بنیادی فریقین، اسرائیل اور حماس، کے درمیان خلیج بدستور وسیع ہے، جبکہ امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بھی اختلافی نکات موجود ہیں۔ ان اختلافات کو دور کرنے کے لیے صدر ٹرمپ نے وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کو 29 دسمبر کو اپنے فلوریڈا کے گھر مارا لاگو میں مدعو کیا ہے۔ اس ملاقات کے نتائج امن عمل کے مستقبل کے لیے فیصلہ کن ہوں گے۔

دوسرے مرحلے میں غزہ کے لیے حکمرانی کے انتظامات کا قیام، اسرائیلی افواج کا مزید انخلا، حماس کو غیر مسلح کرنا اور آئی ایس ایف کی تعیناتی شامل ہے۔ غزہ کی عبوری حکمرانی کے نگران ادارے کے طور پر ٹرمپ کی سربراہی میں قائم ’’بورڈ آف پیس‘‘ سے متعلق اعلانات ابھی تک نہیں کیے گئے، اور نہ ہی فلسطینیوں کی اس تکنوکریٹک کمیٹی کے ارکان کے نام سامنے آئے ہیں جو غزہ کے روزمرہ امور چلائے گی۔ اگرچہ روبیو نے کہا ہے کہ یہ جلد کر دیا جائے گا، تاہم اس تاخیر سے عدمِ وضاحت اور اتفاقِ رائے کے فقدان کی عکاسی ہوتی ہے۔

غزہ کے اندر، اکتوبر میں نافذ ہونے والی جنگ بندی کے باوجود اسرائیل روزانہ اس کی خلاف ورزی کر رہا ہے، جبکہ مقبوضہ مغربی کنارے میں فوجی کارروائیوں کے ساتھ نئی بستیاں بھی قائم کی جا رہی ہیں۔ جنگ بندی کے بعد سے اسرائیلی فضائی حملوں میں 400 سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔ جنگ بندی کی ’ییلو لائن‘ کے پار اسرائیلی فائرنگ میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ یہ اسرائیل کے اس طویل ریکارڈ کی توثیق کرتا ہے کہ وہ معاہدوں کی پاسداری نہیں کرتا اور امن کے لیے ایک ناقابلِ اعتماد ’’شریک‘‘ ہے۔ ادھر اعلیٰ اسرائیلی حکام مسلسل یہ کہتے رہے ہیں کہ اسرائیل کبھی بھی غزہ سے مکمل انخلا نہیں کرے گا، جیسا کہ امن منصوبے میں تصور کیا گیا ہے۔ ایسی صورت میں حماس کے غیر مسلح ہونے کا کوئی امکان نہیں۔

اب تک دستیاب معلومات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ آئی ایس ایف کیا ہے اور کیا نہیں۔ یہ اقوام متحدہ کی نیلی ٹوپیوں والی فورس نہیں ہوگی۔ اس کا ایک مبہم اقوام متحدہ کا مینڈیٹ تو ہوگا، مگر اقوام متحدہ کی نگرانی نہیں۔ یہ امن برقرار رکھنے والی فورس نہیں ہوگی، کیونکہ اس کے پاس امن نافذ کرنے کی ذمہ داریاں ہوں گی، جو اسے عملی طور پر مختلف بنا دیتی ہیں۔ اسے مصر کے علاوہ اسرائیلی حکام کے ساتھ قریبی تعاون کرنا ہوگا۔ اسرائیل کو اس بات کی منظوری حاصل ہوگی کہ کون سے ممالک اس فورس کا حصہ بن سکتے ہیں۔

جب گزشتہ ماہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ٹرمپ منصوبے کی توثیق کرنے والی قرارداد منظور کی تو حماس نے اسے مسترد کر دیا اور کہا کہ اگر کوئی بین الاقوامی فورس قائم کی جاتی ہے تو اسے ’’صرف سرحدوں پر، افواج کو الگ کرنے، جنگ بندی کی نگرانی کرنے اور مکمل طور پر اقوام متحدہ کی نگرانی میں‘‘ تعینات کیا جانا چاہیے۔ حماس نے یہ بھی کہا کہ قابض قوت کے خلاف مزاحمت کرنے والے گروہوں کو غیر مسلح کرنے کی ذمہ داری دینا فورس کو اس کی غیر جانبداری سے محروم کر دیتا ہے اور اسے قبضے کے حق میں تنازع کا فریق بنا دیتا ہے۔

حال ہی میں ایک حماس عہدیدار نے اسی مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ فورس کے کاموں اور کردار پر کوئی اتفاق نہ ہونے کے باعث بات چیت تعطل کا شکار ہے۔ غزہ فورس کے مینڈیٹ اور قواعدِ کار کو اس طرح حتمی شکل دینا کہ وہ حماس کے اعتراضات کو دور کرے، نہایت اہم ہوگا۔ حماس کی شمولیت کے بغیر آئی ایس ایف کی تعیناتی غیر مؤثر ثابت ہوگی۔

اسی پس منظر میں پاکستان کو آئی ایس ایف میں شمولیت کا فیصلہ کرنا ہے۔ اگر مینڈیٹ حماس کی نگرانی یا پولیسنگ کے لیے ہوا تو شرکت کو مسترد کر دینا چاہیے۔ ایسی صورت میں پاکستانی فوجی براہِ راست حماس یا دیگر مزاحمتی گروہوں کے ساتھ تصادم میں آ جائیں گے، اور یہ دعویٰ کہ پاکستانی فوجی فلسطینیوں کے تحفظ کے لیے وہاں موجود ہیں، قابلِ قبول نہیں ہوگا۔ فلسطینیوں کے ساتھ، ان کی کسی بھی وابستگی سے قطع نظر، پاکستانی فوجیوں کے تصادم کے نتائج اصولی بنیادوں پر بھی اور اندرونِ ملک عوامی ردعمل کے حوالے سے بھی نہایت سنگین ہوں گے۔

تعیناتی میں اسرائیل کے ساتھ قریبی تعاون شامل ہوگا، جبکہ اسرائیل مکمل طور پر ناقابلِ اعتماد ہے اور وہ لبنان میں اقوام متحدہ کے امن دستوں پر بھی معمول کے مطابق فائرنگ کرتا رہا ہے۔ اگر اسرائیلی افواج آئی ایس ایف کے پاکستانی دستے پر فائرنگ شروع کر دیں تو کیا ہوگا؟ مزید یہ کہ اسرائیل کے ساتھ تعاون عملی طور پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کے مترادف ہوگا، اور رسمی طور پر تسلیم کرنے اور ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے صرف ایک قدم دوری پر ہوگا۔ یہ سب کچھ ایک فلسطینی ریاست کے قیام کی جانب کسی پیش رفت کے بغیر ہوگا، جو پاکستان کی دیرینہ پالیسی کے منافی ہے۔

آخرکار، پاکستان کو یہ بھی مدنظر رکھنا ہوگا کہ ایک غیر واضح غزہ امن منصوبے کے نفاذ میں واضح رکاوٹوں اور اس کے ایک الجھے ہوئے اور غیر حتمی معاملہ بننے کے امکانات کے پیش نظر، کیا وہ اپنے فوجیوں کو خطرے میں ڈال کر ایک دلدل میں اترنے کا خطرہ مول لینا چاہتا ہے۔ اس فیصلے میں پاکستان کے قومی مفادات کو مقدم رکھا جانا چاہیے، اور یہ فیصلہ مکمل شفافیت کے ساتھ کیا جانا ضروری ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین