بدھ, فروری 11, 2026
ہومبین الاقوامیحماس کا اسرائیل سے 7 اکتوبر کے حملوں کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کی...

حماس کا اسرائیل سے 7 اکتوبر کے حملوں کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کی اجازت دینے کا مطالبہ
ح

مانئڑئنگ ڈیسک (مشرق نامہ)حماس نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ 7 اکتوبر 2023 کے حملوں کی ایک غیرجانبدار بین الاقوامی تحقیقات کی اجازت دے، اور اس الزام کو مسترد کیا ہے کہ اس نے شہریوں کو قتل کیا یا مظالم کا ارتکاب کیا۔

فلسطینی مزاحمتی تنظیم نے جمعے کے روز 42 صفحات پر مشتمل ایک دستاویز شائع کی، جس میں 7 اکتوبر کے واقعات سے متعلق اپنا مؤقف پیش کیا گیا ہے، اس کے بعد اسرائیل کی جانب سے جاری نسل کشی (جینوسائیڈ) کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں، اور غزہ میں آئندہ کے حوالے سے حماس کا نقطۂ نظر واضح کیا گیا ہے۔

دو سال سے زائد قبل جنوبی اسرائیل پر حماس اور دیگر گروہوں کے اچانک حملے میں تقریباً 1,200 اسرائیلی ہلاک ہوئے تھے، جبکہ مزید 251 افراد کو غزہ لے جا کر قیدی بنایا گیا تھا۔

نئی دستاویز میں حماس نے کہا کہ ’’مغربی میڈیا اور صہیونی لابی گروپس‘‘ نے ان حملوں کے حوالے سے منظم غلط معلوماتی مہم چلائی۔

دستاویز میں کہا گیا:

“اسرائیلی ادارے نے بچوں کے قتل اور خواتین کی عصمت دری کے بارے میں جھوٹ اور من گھڑت دعووں کا سلسلہ پھیلایا، جس کے ذریعے ایک ایسے ہمہ گیر نسل کش منصوبے کی راہ ہموار کی گئی جو پہلے سے طے شدہ تھا اور جس کا مقصد غزہ کو صفحۂ ہستی سے مٹانا تھا۔”

حماس کے مطابق حملے کے بعد کے دنوں میں اس نے غیر فوجی قیدیوں کو رہا کرنے کی پیشکش کی تھی، مگر اسرائیل نے ابتدا میں اس پیشکش کو مسترد کر دیا۔

بعد ازاں نومبر 2023 میں ایک مختصر جنگ بندی کے دوران، تقریباً 100 قیدیوں کو فلسطینی قیدیوں کے بدلے رہا کیا گیا۔

حماس نے ایک بار پھر اپنے مؤقف کو دہرایا کہ شہریوں کو قتل کرنا اس کے ’’دین، اخلاقیات اور تربیت‘‘ کے خلاف ہے اور وہ جہاں تک ممکن ہو اس سے گریز کرتی ہے۔

تنظیم نے کہا:

“مزاحمت نے کسی ہسپتال، اسکول یا عبادت گاہ کو نشانہ نہیں بنایا؛ نہ کسی صحافی کو قتل کیا اور نہ ہی ایمبولینس کے عملے کے کسی رکن کو۔ ہم [اسرائیل] کو چیلنج کرتے ہیں کہ وہ اس کے برعکس کوئی ثبوت پیش کرے۔”

حماس نے مزید کہا کہ میڈیا رپورٹس، جن میں اسرائیلی ذرائع بھی شامل ہیں، سے انکشاف ہوا ہے کہ اسرائیلی فوج نے جنوبی اسرائیل کے ان علاقوں پر بمباری کی جہاں اسرائیلی شہری حماس کے جنگجوؤں کے ساتھ موجود تھے۔ حماس کے مطابق یہ ’’ہینی بال ڈائریکٹو‘‘ کی ایک مثال ہے۔

تنظیم نے 7 اکتوبر کو شہریوں کی ہلاکتوں کی غیرجانبدار تحقیقات کے ساتھ ساتھ فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کے جرائم، بشمول غزہ پر جنگ، کی بھی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

مئی 2024 میں بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) نے اعلان کیا تھا کہ اس نے حماس کے تین رہنماؤں کے وارنٹِ گرفتاری کی درخواست دی ہے، جن پر 7 اکتوبر کو سینکڑوں اسرائیلی شہریوں کے قتل اور قیدی بنانے کے الزامات تھے۔ بعد ازاں ان تینوں رہنماؤں کو اسرائیل نے قتل کر دیا۔

آئی سی سی کے پراسیکیوٹر نے کہا تھا کہ ان رہنماؤں پر انسانیت کے خلاف جرائم، جن میں قتل اور نسل کشی شامل ہیں، کے علاوہ جنگی جرائم جیسے یرغمال بنانا اور قیدیوں کے ساتھ ظالمانہ سلوک، اور دیگر سنگین جرائم کی مجرمانہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

اسی طرح اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو اور سابق وزیرِ دفاع یوآف گیلنٹ کے خلاف بھی آئی سی سی نے وارنٹِ گرفتاری جاری کیے، جن میں ’’جنگی طریقۂ کار کے طور پر بھوک کو ہتھیار بنانے‘‘ اور ’’قتل، ظلم و ستم اور دیگر غیرانسانی افعال‘‘ جیسے انسانیت کے خلاف جرائم شامل ہیں۔

’’دھماکہ ناگزیر تھا‘‘

جمعے کو شائع ہونے والی دستاویز کے ایک اور حصے میں حماس نے 7 اکتوبر کے حملے کے محرکات بیان کیے۔

اس میں فلسطینی زمین پر 77 سالہ اسرائیلی قبضے، غزہ کی پٹی پر 17 سالہ ناکہ بندی، اوسلو معاہدوں کو بار بار کمزور کرنے، دائیں بازو کی انتہا پسندی کے عروج، مقبوضہ مغربی کنارے اور مشرقی القدس میں فلسطینیوں کو نشانہ بنانے، اور عالمی برادری کی جانب سے ان خلاف ورزیوں کو روکنے میں ناکامی کا حوالہ دیا گیا۔

حماس نے کہا:

“فلسطینی مزاحمت نے بارہا خبردار کیا تھا کہ اگر جارحیت اور محاصرہ جاری رہا تو یہ دھماکہ ناگزیر ہوگا۔”

غزہ پر دو سال سے زائد عرصے کی نسل کشی کے دوران، اسرائیل 70 ہزار سے زائد فلسطینیوں کو قتل اور 1 لاکھ 71 ہزار سے زیادہ کو زخمی کر چکا ہے۔ ہلاک ہونے والوں کی اکثریت خواتین اور بچوں پر مشتمل ہے۔

حماس کے مطابق ’’طوفانِ الاقصیٰ‘‘—جو 7 اکتوبر کی کارروائی کا کوڈ نام ہے—نے کئی اہداف حاصل کیے۔

ان میں فلسطینی کاز کو عالمی توجہ کے مرکز میں لانا، اسرائیل کی بین الاقوامی تنہائی میں اضافہ، اسرائیلی معاشرے میں تقسیم کو بے نقاب کرنا، اسرائیل کے ساتھ معمول سازی کے معاہدوں کو دھچکا پہنچانا، فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے والے ممالک کی تعداد میں اضافہ، اسرائیلی رہنماؤں کے خلاف بین الاقوامی وارنٹِ گرفتاری، اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں اسرائیل پر نسل کشی کے الزامات شامل ہیں۔

دستاویز کے اختتام میں کہا گیا ہے کہ حماس فلسطینی قومی تانے بانے میں گہرائی سے جڑی ہوئی ہے اور اسے الگ نہیں کیا جا سکتا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ کے لیے 20 نکاتی منصوبے میں ایک ایسے مستقبل کا تصور پیش کیا گیا ہے جس میں حماس کا کوئی عسکری یا سیاسی کردار نہ ہو۔

یہ منصوبہ، جس میں غزہ میں ایک بین الاقوامی استحکامی فورس کے قیام کی حمایت کی گئی ہے، گزشتہ ماہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل سے منظور ہوا۔ قرارداد 13–0 ووٹوں سے منظور ہوئی، جبکہ چین اور روس نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔

اس منصوبے کے تحت غزہ کو ٹرمپ کے کنٹرول میں رکھا جائے گا، جہاں ان کا نامزد کردہ ’’بورڈ آف پیس‘‘ دو سال کے لیے کثیرالقومی امن فوج، فلسطینی ماہرین پر مشتمل کمیٹی اور ایک مقامی پولیس فورس کی نگرانی کرے گا۔

حماس نے دستاویز میں ایسے تمام منصوبوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا:

“ہماری فلسطینی قوم دنیا کی باصلاحیت ترین اقوام میں سے ہے، جس کے پاس اپنی معاملات خود چلانے کی تمام صلاحیتیں اور وسائل موجود ہیں۔

کسی بھی فریق کی جانب سے ان پر سیاسی سرپرستی مسلط کرنے کی کوشش ناقابلِ قبول ہے اور اسے صرف ایک اور شکل کے قبضے کے طور پر ہی دیکھا جا سکتا ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین