مشرقِ وسطیٰ(مشرق نامہ): اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیلی رژیم اور شام میں خودساختہ نئی انتظامیہ کے درمیان نام نہاد ’’سیکیورٹی معاہدے‘‘ کی جانب نمایاں پیش رفت ہوئی ہے، جس پر قریبی مدت میں دستخط ہو سکتے ہیں۔
عرب ملک میں حیات تحریر الشام (HTS) کی قیادت میں قائم حکومت کے سربراہ ابو محمد الجولانی کے قریبی ایک ذریعے نے جمعرات کو اسرائیلی رژیم کے چینل i24 نیوز کو بتایا کہ اس معاہدے میں ایک سفارتی ضمیمہ بھی شامل ہوگا، اور اس پیش رفت کا سہرا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو دیا۔
رپورٹ کے مطابق معاہدے پر دستخط ایک ایسے سربراہی اجلاس میں متوقع ہیں جو کسی نامعلوم یورپی ملک میں منعقد ہوگا۔
ذرائع نے اس امکان کو بھی رد نہیں کیا کہ الجولانی براہِ راست اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ اس معاہدے پر دستخط کر سکتے ہیں۔
الجولانی کی قیادت میں قائم یہ حکومت—جس کے سربراہ ماضی میں شام میں داعش اور القاعدہ سے وابستہ تکفیری گروہوں کی قیادت کر چکے ہیں—نے گزشتہ سال صدر بشار الاسد کی جمہوری طور پر منتخب حکومت کا تختہ الٹا، یہ سب ایسے وقت میں ہوا جب اسرائیل کی جانب سے شام کے شہری اور دفاعی ڈھانچوں پر شدید حملے جاری تھے۔
حکومت کے خاتمے کے بعد نیتن یاہو نے شام میں پیش آنے والی تبدیلیوں کا کریڈٹ کھلے عام خود لیا۔ اس کے فوراً بعد اسرائیلی افواج نے مزید شامی علاقوں پر قبضہ کر لیا، جن میں اسٹریٹجک جبلِ حرمون بھی شامل ہے، اور ملک بھر میں سینکڑوں اضافی فضائی حملے کیے گئے، جن کا ہدف فوجی اڈے اور جدید ہتھیار بنتے رہے۔ اسرائیلی فوجیوں نے جنوبی شامی علاقوں قنیطرہ اور درعا میں بار بار دراندازیاں بھی کیں۔
شام کی نئی فورسز نے شامی سرزمین پر قابض اسرائیلی فوجیوں کا سامنا کرنے کے بجائے اپنی کارروائیاں اندرونِ ملک مرکوز رکھیں، جن میں مذہبی اور نسلی اقلیتوں کے خلاف اقدامات بھی شامل ہیں۔
مارچ میں الجولانی کی فورسز نے علوی شہریوں کے قتلِ عام کیے، جبکہ جولائی میں دروز شہریوں پر حملے ہوئے۔ حالیہ دنوں میں شامی فورسز نے حلب کے کرد اکثریتی محلّوں شیخ مقصود اور اشرفیہ میں بھی حملے کیے ہیں۔
اسرائیلی رژیم نے 1967 میں مغرب کی حمایت یافتہ جنگ کے دوران شامی گولان کی پہاڑیوں پر قبضہ کیا تھا۔ 1974 کے جنگ بندی معاہدے کے تحت محاذ کے ساتھ ایک غیر فوجی علاقہ قائم کیا گیا تھا۔
شام کے نئے وزیرِ خارجہ اسعد الشیبانی کا کہنا ہے کہ نئی انتظامیہ سے توقع ہے کہ وہ اسی جنگ بندی کی بنیاد پر سال کے اختتام تک تل ابیب کے ساتھ ایک ’’سیکیورٹی معاہدہ‘‘ طے کرے گی۔
تاہم یہ رژیم اُن علاقوں سے مکمل انخلا سے انکار کر چکی ہے جن پر اس نے اسد حکومت کے خاتمے کے بعد قبضہ کیا تھا۔
اسرائیلی ذرائع نے i24 کو بتایا کہ تل ابیب شام کے اندر موجود اپنے نو میں سے کچھ ٹھکانوں سے صرف اسی صورت انخلا کرے گا جب مکمل ’’امن معاہدہ‘‘ ہوگا، محض ’’سیکیورٹی انتظام‘‘ کی بنیاد پر نہیں۔ ایسے معاہدے کے لیے شام کو مقبوضہ گولان کی پہاڑیوں پر اپنے دعوے سے باضابطہ دستبردار ہونا پڑے گا۔
معاہدے کی جانب مبینہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب شام کے اندر اسرائیلی رژیم کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی حمایت نہایت محدود ہے۔
اس ماہ کے اوائل میں شائع ہونے والے ایک قومی سروے کے مطابق صرف 14 فیصد شامی مکمل معمول سازی کے حق میں ہیں، جبکہ محض 4 فیصد اسرائیلی رژیم کے بارے میں مثبت رائے رکھتے ہیں۔ یہ سروے 1,229 بالغ افراد سے بالمشافہ انٹرویوز کے ذریعے کیا گیا، جس میں علوی، دروز اور مسیحی اقلیتوں کی جانب سے سخت مخالفت سامنے آئی—ان گروہوں نے نئی شامی حکومت کے تحت خوف اور عدم تحفظ کی شکایات کیں۔
سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ 92 فیصد جواب دہندگان فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی قبضے اور خطے میں تل ابیب کی فوجی جارحیت کو بڑے سلامتی خطرات قرار دیتے ہیں

