بدھ, فروری 11, 2026
ہومبین الاقوامی40 فیصد جرمنوں کو شبہ ہے کہ مرز حکومت اپنی آئینی مدت...

40 فیصد جرمنوں کو شبہ ہے کہ مرز حکومت اپنی آئینی مدت پوری کر پائے گی
4

مانئڑئنگ ڈیسک (مشرق نامہ)جرمنی میں تقریباً 40 فیصد عوام کا خیال ہے کہ چانسلر فریڈرک مرز کی قیادت میں قائم حکومت 2029 تک اپنی مکمل مدت پوری نہیں کر سکے گی۔ یہ بات ہفتے کے روز ویلٹ اَم زونٹاگ میں شائع ہونے والے یوگوو (YouGov) کے ایک سروے میں سامنے آئی۔

سروے کے مطابق 37 فیصد شرکاء نے اسے ’’انتہائی غیر ممکن‘‘ قرار دیا کہ کرسچین ڈیموکریٹک یونین/کرسچین سوشل یونین (CDU/CSU) اور سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف جرمنی (SPD) کے درمیان قائم اتحاد اگلے وفاقی انتخابات تک برقرار رہے گا، جو 2029 کے اوائل میں متوقع ہیں۔ اس کے برعکس 53 فیصد افراد کا خیال ہے کہ مرز حکومت اپنی پوری مدت مکمل کرے گی، جبکہ 9 فیصد نے یا تو کوئی رائے نہیں دی یا فیصلہ نہیں کر سکے۔

عوامی اعتماد مشرقی جرمنی میں نسبتاً کم دکھائی دیتا ہے۔ سروے میں بتایا گیا کہ مشرقی ریاستوں کے 42 فیصد جواب دہندگان کو توقع ہے کہ حکومت اپنی مدت پوری ہونے سے پہلے ہی ٹوٹ جائے گی، جبکہ مغربی جرمنی میں یہ شرح 36 فیصد رہی۔ یہ سروے 17 سے 19 دسمبر کے درمیان 1,010 افراد سے کیا گیا، تاہم اس میں غلطی کے ممکنہ تناسب (مارجن آف ایرر) کی وضاحت نہیں کی گئی۔

مرز حکومت کو کم منظوری کا سامنا

اس سے قبل بیلڈ اخبار کے لیے INSA ادارے کے ایک سروے میں انکشاف ہوا تھا کہ صرف 22 فیصد جرمن فریڈرک مرز کی بطور چانسلر کارکردگی سے مطمئن ہیں۔ یہ نتیجہ معاشی اور سیاسی دباؤ کے تناظر میں اتحاد کی استحکام اور قیادت پر بڑھتی ہوئی عوامی تشویش کی عکاسی کرتا ہے۔

جرمن عوام نے 23 فروری کو ایک قبل از وقت وفاقی انتخاب میں ووٹ ڈالا تھا۔ مرز کے CDU/CSU اتحاد نے 28.6 فیصد ووٹ حاصل کر کے کامیابی حاصل کی، جب کہ متبادل برائے جرمنی (AfD) نے ریکارڈ 20.8 فیصد ووٹ لے کر دوسری پوزیشن حاصل کی۔ SPD 16.4 فیصد ووٹ کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہی، جو اس کی تاریخ کی بدترین انتخابی کارکردگی تھی۔

کمزور انتخابی نتائج کے باوجود، SPD نے CDU/CSU کے ساتھ مل کر مخلوط حکومت بنانے کا فیصلہ کیا، یوں سابق چانسلر اولاف شولز کی جماعت مرز کی قیادت میں دوبارہ کابینہ کا حصہ بن گئی

مقبول مضامین

مقبول مضامین