ریاض (مشرق نامہ) – سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحاد نے ہفتے کے روز خبردار کیا ہے کہ وہ یمن کی حکومت کے ساتھ کسی بھی ممکنہ فوجی تصادم میں اس کی حمایت کرے گا اور یمنی علیحدگی پسند فورسز سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ حال ہی میں اپنے قبضے میں لیے گئے صوبوں سے پُرامن طور پر انخلا کریں۔
یہ بیانات اس وقت سامنے آئے جب ایک روز قبل یمن کے صوبہ حضرموت میں علیحدگی پسندوں کے ٹھکانوں پر مبینہ سعودی فضائی حملوں کی اطلاعات سامنے آئیں، جبکہ واشنگٹن نے تیزی سے بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں تحمل سے کام لینے کی اپیل کی۔
سعودی اتحاد کے ترجمان جنرل ترکی المالکی نے سعودی خبر رساں ایجنسی ایس پی اے کے مطابق کہا کہ اتحاد شہریوں کی جانوں کے تحفظ کے لیے براہِ راست اور مناسب وقت پر کارروائی کرے گا۔
دوسری جانب سعودی وزیرِ دفاع خالد بن سلمان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پیغام میں علیحدگی پسند سدرن ٹرانزیشنل کونسل (ایس ٹی سی) سے مطالبہ کیا کہ وہ دو علاقائی صوبوں کا کنٹرول حکومت کے حوالے کرتے ہوئے پُرامن طور پر پیچھے ہٹ جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس نازک مرحلے پر عقل و دانش سے کام لینے اور دو صوبوں سے بغیر تصادم کے انخلا کا وقت آ چکا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت ہوئی ہے جب جمعے کے روز ایس ٹی سی نے خبردار کیا تھا کہ سعودی عرب سے منسوب فضائی حملوں کے باوجود وہ پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں، جبکہ حالیہ ہفتوں کے دوران یو اے ای کی حمایت یافتہ علیحدگی پسندوں نے حضرموت اور المہرہ سمیت وسیع علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے۔
فضائی حملوں میں فوری طور پر کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ تاہم حالیہ عرصے میں متحدہ عرب امارات کی پشت پناہی سے علیحدگی پسند، جو ماضی کی آزاد جنوبی یمن ریاست کی بحالی کے خواہاں ہیں، نمایاں علاقائی کامیابیاں حاصل کر چکے ہیں۔
ہفتے کے روز سینکڑوں یمنی قبائلی افراد عدن میں جمع ہوئے اور ایس ٹی سی کی قیادت سے جنوبی یمن کی آزادی کے اعلان کا مطالبہ کیا۔ علیحدگی پسندوں سے وابستہ عدن انڈیپنڈنٹ چینل کے مطابق مظاہرین نے جنوبی یمن کے پرچم کے ساتھ یو اے ای کے جھنڈے بھی لہرائے۔
ماہرین کے مطابق علیحدگی پسندوں کی یہ پیش رفت خطے کی بڑی طاقت سعودی عرب کے لیے باعثِ سبکی بنی ہے، جو بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کا اہم حامی ہے۔ لندن میں قائم تھنک ٹینک چیٹم ہاؤس سے وابستہ فاریع المسلمی کے مطابق ایس ٹی سی نے ریاض کی سرخ لکیر عبور کر لی ہے اور صورتحال تیزی سے مزید خراب ہو سکتی ہے۔ ان کے بقول سعودی عرب کو ذلیل کرنا ایک بات ہے، لیکن اسے عوامی سطح پر سبکی کا سامنا کرانا کہیں زیادہ سنگین معاملہ ہے، اور یہی کچھ ہوا ہے۔
امریکا کا تحمل پر زور
واشنگٹن میں امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا تحمل اور سفارتی کوششوں کے تسلسل کی اپیل کرتا ہے، تاکہ ایک پائیدار حل تک پہنچا جا سکے۔
جمعے کے فضائی حملوں کے بعد یمن کی حکومت نے سعودی قیادت میں قائم اتحاد سے مطالبہ کیا کہ وہ حضرموت میں سرکاری فورسز کی حمایت کرے، کیونکہ علیحدگی پسندوں نے ملک کے سب سے بڑے صوبے کے بیشتر حصے پر قبضہ کر لیا ہے۔ سرکاری یمنی خبر رساں ایجنسی کے مطابق حکومت نے اتحاد سے شہریوں کے تحفظ اور مسلح افواج کی مدد کے لیے تمام ضروری فوجی اقدامات کرنے کی درخواست کی ہے۔
ایک یمنی فوجی عہدیدار نے بتایا کہ تقریباً 15 ہزار سعودی حمایت یافتہ جنگجو سعودی سرحد کے قریب تعینات ہیں، تاہم انہیں علیحدگی پسندوں کے زیرِ قبضہ علاقوں کی جانب پیش قدمی کے احکامات نہیں دیے گئے۔ انہوں نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ انہیں تاحال دو صوبوں کی جانب بڑھنے کی کوئی ہدایت نہیں ملی۔
یہ فورسز ان علاقوں کے کناروں پر تعینات ہیں جن پر حالیہ ہفتوں میں یو اے ای کی حمایت یافتہ ایس ٹی سی نے قبضہ کیا ہے۔ مبصرین کے مطابق علیحدگی پسندوں کی پیش قدمی نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات پر بھی دباؤ بڑھا دیا ہے، کیونکہ دونوں ممالک یمن کے اندر مختلف اور بعض اوقات متحارب دھڑوں کی حمایت کر رہے ہیں۔

