روم (مشرق نامہ) – اٹلی نے پاکستانی کارکنوں کے لیے یورپ میں قانونی روزگار کا ایک نادر راستہ کھولتے ہوئے آئندہ تین برس کے دوران 10,500 ملازمتوں کا کوٹہ مختص کر دیا ہے، جسے حکام غیر قانونی ہجرت کے بڑھتے رجحان کو روکنے کی ایک اہم کوشش قرار دے رہے ہیں۔
وزارتِ سمندر پار پاکستانیان و انسانی وسائل کے مطابق اس انتظام کے تحت ہر سال 3,500 پاکستانی شہری موسمی اور غیر موسمی بنیادوں پر کام کے لیے اٹلی جائیں گے۔ سالانہ کوٹے میں سے 1,500 افراد موسمی جبکہ 2,000 غیر موسمی ملازمتوں پر تعینات کیے جائیں گے۔
یہ کوٹہ اٹلی کو پہلا یورپی ملک بناتا ہے جس نے پاکستان کے لیے باقاعدہ کوٹہ سسٹم کے تحت اپنی لیبر مارکیٹ کھولی ہے۔ حکام کے مطابق یہ پیش رفت دیگر یورپی ممالک کے ساتھ اسی نوعیت کے معاہدوں کے لیے مثال بن سکتی ہے۔
یہ اقدام ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان سے بیرونِ ملک جانے والوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ گزشتہ تین برس کے دوران تقریباً 29 لاکھ پاکستانی ملک چھوڑ چکے ہیں، جس کی بنیادی وجوہات کم اجرتیں، بلند افراطِ زر، بے روزگاری اور تعلیم کے بڑھتے اخراجات بتائے جا رہے ہیں۔
اقتصادی سروے 2024-25 کے مطابق ایک ہی مالی سال میں دس لاکھ سے زائد پاکستانی روزگار کے لیے بیرونِ ملک گئے، جو بیرونِ ملک ملازمتوں اور ترسیلاتِ زر پر بڑھتے انحصار کی عکاسی کرتا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اطالوی کوٹہ غیر قانونی ہجرت کے مقابلے میں ایک منظم اور قانونی متبادل فراہم کرتا ہے، کیونکہ حالیہ برسوں میں غیر قانونی راستوں سے یورپ جانے کا رجحان نمایاں طور پر بڑھا ہے۔ 2022 میں یورپ کی جانب غیر قانونی ہجرت میں 280 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے دوران ہزاروں پاکستانیوں نے لیبیا، مصر اور دیگر راستوں سے خطرناک سفر اختیار کیا۔
سرکاری ذرائع کے مطابق متعدد افراد انسانی اسمگلروں کے ہاتھوں لٹ جاتے ہیں اور بحیرۂ روم عبور کرتے ہوئے حراست، بے دخلی یا جان کے ضیاع جیسے خطرات کا سامنا کرتے ہیں۔ اس تناظر میں اٹلی کا یہ معاہدہ ریاستی سرپرستی میں یورپ تک رسائی فراہم کر کے مجبوری پر مبنی ہجرت کو کم کرنے کی کوشش سمجھا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام نے پاکستانی کارکنوں کے لیے جہاز توڑنے، مہمان نوازی، صحت اور زراعت کے شعبوں میں ملازمتیں مختص کی ہیں۔ ان میں ویلڈر، ٹیکنیشن، شیف، ویٹر، ہاؤس کیپنگ اسٹاف، نرسیں، میڈیکل ٹیکنیشن، زرعی کارکن اور کھیت مزدور شامل ہیں۔ وزارت کے مطابق یہ منصوبہ ہنرمند اور نیم ہنرمند افرادی قوت پر مرکوز ہے، جو اٹلی میں لیبر کی کمی کو پورا کرنے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔
پاکستان میں سب سے زیادہ فائدہ پنجاب کو متوقع ہے، جو بیرونِ ملک افرادی قوت فراہم کرنے والا سب سے بڑا صوبہ ہے۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق 1981 سے اب تک پنجاب سے 72 لاکھ سے زائد افراد بیرونِ ملک جا چکے ہیں، جبکہ خیبر پختونخوا، سندھ اور آزاد جموں و کشمیر اس فہرست میں بعد کے مقامات پر ہیں۔
مطالعات کے مطابق تقریباً 40 فیصد پاکستانی، بالخصوص شہری علاقوں میں، ملک چھوڑنے کی خواہش رکھتے ہیں، جس سے محفوظ اور قانونی ہجرتی راستوں کی ضرورت مزید بڑھ جاتی ہے۔
وفاقی وزیر برائے سمندر پار پاکستانیان چوہدری سالک حسین کے مطابق یہ کوٹہ مسلسل سفارتی کوششوں اور اطالوی حکام سے خصوصی درخواست کے بعد حاصل کیا گیا۔ انہوں نے اسے ایک بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس معاہدے سے یورپی لیبر مارکیٹ میں پاکستانی کارکنوں کے لیے نئے دروازے کھلیں گے، جبکہ سمندر پار پاکستانی قومی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ پیش رفت کا یہ سلسلہ جاری رہنے کی توقع ہے۔ پاکستان اور اٹلی کے مشترکہ ورکنگ گروپ کا دوسرا اجلاس فروری 2026 میں اسلام آباد میں متوقع ہے، جس میں منصوبے پر عملدرآمد اور کوٹہ بڑھانے کے امکانات پر غور کیا جائے گا۔
1981 سے اب تک ایک کروڑ 38 لاکھ سے زائد افراد کے بیرونِ ملک جانے والے ملک کے لیے اٹلی کا یہ اقدام اس امر کی علامت سمجھا جا رہا ہے کہ خطرناک اور غیر قانونی سفر کے بجائے ریاستی سرپرستی میں قانونی اور مہارت پر مبنی نقل و حرکت کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔

