مانئڑئنگ ڈیسک (مشرق نامہ)ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ مغربی طاقتوں کی ایران کے خلاف دشمنی کی بنیادی وجہ ایران کا جوہری پروگرام نہیں بلکہ عالمی سطح پر قائم ظالمانہ نظامِ بالادستی کو چیلنج کرنا ہے۔ انہوں نے ایرانی نوجوانوں کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہی کی جرات، قربانی اور بصیرت کے باعث بیرونی جارحیت کو شکست دی گئی۔
یورپ میں اسلامی طلبہ تنظیموں کی یونین کے سالانہ اجلاس کے نام اپنے پیغام میں آیت اللہ خامنہ ای نے کہا:
“بدعنوان اور جابر عالمی طاقتوں کی بے چینی کی اصل وجہ جوہری مسئلہ نہیں، بلکہ عالمی استکباری نظام کی بالادستی کے خلاف علم بلند کرنا اور ایک منصفانہ قومی و بین الاقوامی نظام کے قیام کی کوشش ہے۔”
انہوں نے ایران کے نوجوانوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ امریکی اور اسرائیلی جارحیت کو انہی کی جرات، خود اعتمادی اور قربانی کے جذبے نے ناکام بنایا۔
آیت اللہ خامنہ ای نے مزید کہا:
“یہ ثابت ہو چکا ہے کہ ایرانی قوم، اپنی صلاحیتوں پر اعتماد اور ایمان و عملِ صالح کی رہنمائی میں، ظالم طاقتوں کے سامنے ڈٹ کر کھڑی ہو سکتی ہے اور دنیا تک اسلامی اقدار کی آواز پہنچا سکتی ہے۔”
انہوں نے کہا کہ سائنس دانوں، فوجی کمانڈروں اور عام شہریوں کی شہادت کے باوجود ایرانی نوجوانوں کے حوصلے پست نہیں ہوئے، بلکہ ان شہداء کے اہلِ خانہ خود اس تحریک کے صفِ اوّل کے علمبردار ہیں۔
بیرونِ ملک مقیم طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے رہبرِ انقلاب نے انہیں اپنی صلاحیتوں کو پہچاننے اور اپنی تنظیموں کو اس مشن کے لیے فعال بنانے کی تلقین کی اور کہا:
“اپنے دل اللہ کے سپرد کرو… مکمل فتح تمہاری منتظر ہے، ان شاء اللہ۔”
ایرانی عوام کے عزم کو خراجِ تحسین: عباس عراقچی
دوسری جانب ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے “اسرائیل” اور امریکہ کی جانب سے کی گئی حالیہ 12 روزہ جارحیت کے دوران ایرانی عوام کے عزم و استقلال کو سراہا۔
اصفہان میں ملکی کاروباری رہنماؤں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس مختصر مگر شدید تصادم نے ایران کی ثابت قدمی کو ثابت کر دیا:
“بارہ دن کی مزاحمت میں دشمن کو پیچھے ہٹنا پڑا۔ انہوں نے فوری جنگ بندی کی بات کی، جو دراصل ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنے کی کوشش تھی، لیکن ایرانی قوم نے ڈٹ کر مقابلہ کیا۔”
عراقچی نے کہا کہ سفارت کاری کی بات کرتے ہوئے بمبار طیارے بھیجنا اور پھر ناکامی کو کامیابی قرار دینا منافقت ہے۔ انہوں نے امریکہ پر زور دیا کہ وہ دھوکہ دہی کے بجائے سنجیدہ اور مخلص سفارت کاری اختیار کرے۔
اقوامِ متحدہ میں ایران کا مؤقف
اقوامِ متحدہ میں ایران کے مشن نے بھی کہا کہ امریکہ کسی معاہدے کے بجائے ایران کی سرتسلیم خم کروانے کی کوشش کر رہا ہے۔ مشن کے مطابق:
- افزودگی (یورینیم کی افزودگی) روکنے کے مطالبات، جب دھمکیوں کے ساتھ ہوں، مذاکرات نہیں بلکہ دباؤ کی پالیسی ہیں۔
- یہ طرزِ عمل اس بات کا ثبوت ہے کہ مقصد معاہدہ نہیں بلکہ ایران کو جھکانا ہے۔
- ایران کا مؤقف طاقت کے قانون پر نہیں بلکہ قانون کی حکمرانی پر مبنی ہے۔

