بدھ, فروری 11, 2026
ہومنقطہ نظرسی پیک کے ذریعے بلوچستان ترقی کی شاہراہ پر

سی پیک کے ذریعے بلوچستان ترقی کی شاہراہ پر
س

خالد تیمور اکرم

بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے۔ یہ قدرتی وسائل سے مالا مال ہے، مگر بدقسمتی سے مواقع کے اعتبار سے محروم رہا ہے۔ دہائیوں سے بلوچستان کے عوام کو بنیادی ڈھانچے کی کمی، بے روزگاری، منڈیوں تک محدود رسائی اور مجموعی پسماندگی جیسے مسائل کا سامنا رہا ہے۔ پاکستان کے دیگر صوبوں کے مقابلے میں ان مشکلات اور مواقع کی کمی نے بلوچستان کے عوام میں محرومی اور نظراندازی کے احساس کو جنم دیا۔ ایسے حالات میں چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک)، جو بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (بی آر آئی) کا فلیگ شپ منصوبہ ہے، امید کی ایک کرن بن کر سامنے آئی اور بلوچستان کے لیے ترقی اور پیش رفت کا ایک نیا باب کھول دیا۔

سی پیک کو عمومی طور پر پاکستان اور بالخصوص بلوچستان کے لیے ایک گیم چینجر قرار دیا جاتا ہے۔ یہ محض منصوبوں کا مجموعہ نہیں بلکہ علاقائی رابطہ کاری اور مشترکہ ترقی کا ایک جامع وژن ہے۔ سوال یہ ہے کہ سی پیک بلوچستان کے لیے اتنا اہم کیوں ہے؟ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ یہ صوبہ پاکستان کو وسطی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور اس سے آگے کے خطوں سے جوڑتا ہے۔ چنانچہ بنیادی ڈھانچے میں بہتری اور معاشی مواقع کی تخلیق کے ذریعے سی پیک درحقیقت بلوچستان کو تنہائی سے نکال کر علاقائی انضمام کی جانب لے جا رہا ہے۔

سی پیک کی بدولت بلوچستان میں ترقیاتی منظرنامے میں نمایاں تبدیلی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ توانائی کے منصوبے ہوں، سڑکیں اور رابطہ کاری، گوادر کی ترقی، سماجی شعبے کے منصوبے یا صنعتی زونز — ہر شعبے میں قابلِ ذکر پیش رفت ریکارڈ کی جا رہی ہے۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق کئی بڑے منصوبے، جو گرانٹس، بلڈ آپریٹ ٹرانسفر (بی او ٹی) ماڈلز، پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کی فنڈنگ اور چینی سرمایہ کاری کے امتزاج سے مکمل کیے جا رہے ہیں، یا تو پایۂ تکمیل کو پہنچ چکے ہیں یا تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں، جس سے علاقائی ترقی میں سی پیک کے مرکزی کردار کو مزید تقویت ملی ہے۔

گوادر بندرگاہ کی ترقی

بلوچستان میں سی پیک کے سب سے اہم منصوبوں میں سے ایک گوادر بندرگاہ کی ترقی ہے۔ بلوچستان میں واقع گوادر، جو کبھی ایک چھوٹے سے ماہی گیر قصبے کے طور پر جانا جاتا تھا، اب ایک جدید گہرے پانی کی بندرگاہ کے طور پر ابھر رہا ہے اور اسے سی پیک کا ’تاج کا نگینہ‘ قرار دیا جاتا ہے۔ آج گوادر عالمی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ بحیرۂ عرب پر، آبنائے ہرمز کے قریب واقع گوادر بندرگاہ، جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل کی تجارت گزرتی ہے، پاکستان کو عالمی بحری تجارتی راستوں تک براہِ راست رسائی فراہم کرتی ہے اور کراچی اور پورٹ قاسم پر انحصار کم کرتی ہے۔ یہ وسطی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کی تجارت کے لیے بھی ایک ممکنہ گیٹ وے ہے، جس سے بلوچستان کو علاقائی تجارت میں مرکزی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ بندرگاہی سہولیات، ذخیرہ گاہوں اور فری زونز کی ترقی کے ساتھ گوادر مقامی افراد کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کر رہا ہے اور اندرون و بیرونِ ملک سرمایہ کاروں کو متوجہ کر رہا ہے۔

گوادر بندرگاہ کے ساتھ ساتھ گوادر فری زون کی ترقی بھی معاشی نمو کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ گوادر فری زون ایک بڑا صنعتی اور تجارتی علاقہ ہے، جسے سی پیک کے ایک کلیدی جزو کے طور پر ترقی دی جا رہی ہے۔ اسے فری زون اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہاں مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے نمایاں ٹیکس چھوٹ اور سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ یہ زون علاقائی تجارت اور لاجسٹکس کا مرکز بننے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ یہاں لاجسٹکس، ماہی گیری اور ویئرہاؤسنگ سمیت مختلف صنعتوں کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔ یہ اقدامات مقامی معیشت کو متنوع بنانے اور روایتی ذرائع معاش پر انحصار کم کرنے میں مدد دیں گے، جس کے نتیجے میں روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور بلوچستان کے عوام کے معیارِ زندگی میں بہتری آئے گی۔

گوادر فری زون دو مراحل پر مشتمل ہے۔ فیز ون یا ابتدائی زون مکمل ہو چکا ہے، جس میں بندرگاہی بنیادی ڈھانچہ، بجلی، پانی، سڑکیں، ٹیلی کام اور ابتدائی کاروباری سرگرمیوں پر توجہ دی گئی، اور بعض کمپنیاں وہاں پہلے ہی کام کر رہی ہیں۔ فیز ٹو یا مین زون جدت اور صنعتی اپ گریڈیشن پر مرکوز ہے۔ گوادر فری زون فیز ٹو پر کام جاری ہے، جس کی متوقع بی او ٹی سرمایہ کاری 285 ملین ڈالر ہے۔

ایک اور نمایاں منصوبہ نیو گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ ہے، جو اب مکمل ہو چکا ہے اور اس پر 230 ملین ڈالر لاگت آئی ہے۔ جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس اور ایئر بس اور بوئنگ سمیت بڑے طیاروں کو سنبھالنے کی صلاحیت رکھنے والا یہ ہوائی اڈہ بین الاقوامی معیار کے مطابق تعمیر کیا گیا ہے۔ گوادر ایئرپورٹ کا فعال ہونا محض ایک لاجسٹک کامیابی نہیں بلکہ پورے خطے کے لیے معاشی تبدیلی کی نوید ہے، جسے بجا طور پر ’ترقی کا دروازہ‘ کہا جا رہا ہے۔ توقع ہے کہ یہ ہوائی اڈہ پاکستان میں سیاحت کے فروغ، تجارت کے استحکام اور سرمایہ کاری کے فروغ میں مدد دے گا، جس سے متعدد معاشی مواقع پیدا ہوں گے۔

سڑکیں اور رابطہ کاری

سڑکوں کا بنیادی ڈھانچہ ایک اور شعبہ ہے جہاں سی پیک واضح تبدیلی لا رہا ہے۔ طویل عرصے تک ناقص سڑکوں کے باعث بلوچستان میں سفر سست، غیر محفوظ اور مہنگا رہا۔ سی پیک نے دور دراز علاقوں کو بڑے شہروں اور تجارتی راستوں سے جوڑ کر اس صورتحال کو بدل دیا ہے۔ ایم-8 موٹروے (گوادر سے رتوڈیرو)، این-85 ہائی وے اور کوئٹہ-ژوب روڈ جیسے منصوبوں نے صوبے بھر میں رابطہ کاری کو بہتر بنایا ہے۔ ان سڑکوں سے سفر کا وقت کم، نقل و حمل کے اخراجات گھٹتے ہیں اور عوام کے لیے تعلیم، صحت اور منڈیوں تک رسائی آسان ہوتی ہے۔

صوبے میں مکمل ہونے والے منصوبوں میں ایسٹ بے ایکسپریس وے فیز ون (179 ملین ڈالر) اور خضدار-بسیما روڈ (118 ملین ڈالر) شامل ہیں۔ ایسٹ بے ایکسپریس وے گوادر بندرگاہ کی مرکزی شریان ہے، جس کے ذریعے بندرگاہ کی تمام ٹریفک گزرے گی۔ اس کا مقصد بندرگاہ اور فری زون کو قومی شاہراہوں کے نیٹ ورک سے جوڑ کر درآمد، برآمد اور ٹرانزٹ سامان کی ہموار ترسیل کو یقینی بنانا ہے۔ این-30 یا خضدار-بسیما روڈ 110 کلومیٹر طویل قومی شاہراہ ہے، جو ضلع خضدار میں واقع ہے اور اس منصوبے سے مقامی سطح پر 600 روزگار کے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔

زیرِ تعمیر رابطہ کاری کے اہم منصوبوں میں آواران-نال روڈ (168 کلومیٹر، 107 ملین ڈالر)، نوکنڈی-ماشخیل روڈ (103 کلومیٹر، 47 ملین ڈالر)، ہوشاب-آواران سیکشن ایم-8 (146 کلومیٹر، 161 ملین ڈالر) اور ژوب-کوئٹہ روڈ (298 کلومیٹر، 391 ملین ڈالر) شامل ہیں، جو بلوچستان کی معاشی صلاحیت کو بروئے کار لانے کے لیے نہایت اہم ہیں۔

بہتر سڑکیں مقامی کاروبار اور کسانوں کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہوتی ہیں۔ جب کسان اپنی پیداوار تیزی سے منڈیوں تک پہنچاتے ہیں تو انہیں بہتر قیمت ملتی ہے، اور جب چھوٹے کاروبار بروقت خام مال حاصل اور تیار شدہ مصنوعات روانہ کر سکتے ہیں تو ان کے منافع میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس طرح سی پیک کے تحت سڑکوں کا جال مقامی معیشت کو نچلی سطح سے مضبوط بنا رہا ہے۔

توانائی کے منصوبے

توانائی ایک ایسا شعبہ ہے جہاں سی پیک نمایاں مثبت اثرات مرتب کر رہا ہے۔ قابلِ اعتماد بجلی ترقی کے لیے ناگزیر ہے، مگر بلوچستان کے کئی حصے طویل عرصے تک بجلی کی قلت کا شکار رہے، جس کا براہِ راست اثر عوام کی روزمرہ زندگی پر پڑا۔ اب سی پیک سے وابستہ بجلی کے منصوبے توانائی کی فراہمی اور اس کی پائیداری کو بہتر بنا رہے ہیں۔ توانائی کے نمایاں منصوبوں میں 1,320 میگاواٹ کا چائنا حب کول پاور پلانٹ شامل ہے، جو 1.9 ارب ڈالر کا آزاد بجلی گھر منصوبہ ہے اور قومی گرڈ کو بنیادی توانائی فراہم کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ 300 میگاواٹ گوادر کول پاور پروجیکٹ، جس پر 542 ملین ڈالر لاگت آئے گی، زیرِ تعمیر ہے اور گوادر و ملحقہ اضلاع میں بجلی کی فراہمی کو مستحکم کرے گا۔

بہتر توانائی کی دستیابی سے صنعتیں بلا تعطل چل سکتی ہیں، اسکول اور اسپتال مؤثر انداز میں کام کر سکتے ہیں اور گھریلو زندگی کا معیار بہتر ہوتا ہے۔ توانائی کی دستیابی ترقی کی بنیادی شرط ہے، اور سی پیک اس سمت میں بلوچستان کو آگے بڑھا رہا ہے۔

سماجی شعبے کے منصوبے

یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ چین اور پاکستان سی پیک کے ذریعے صرف رابطہ کاری، سڑکوں، صنعت اور توانائی کے شعبوں تک محدود نہیں ہیں بلکہ بلوچستان کے عوام کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے کے لیے بھی پُرعزم ہیں۔ بنیادی ڈھانچے اور توانائی کے منصوبوں کے ساتھ ساتھ صحت، تعلیم، غربت کے خاتمے اور کمیونٹی کی بہتری پر مبنی سماجی شعبے کے متعدد منصوبے بھی شروع کیے گئے ہیں، جن میں برن سینٹرز کا قیام، اسمارٹ کلاس رومز کے ساتھ اسکولوں کی اپ گریڈیشن، طبی آلات کی فراہمی (مثلاً گوادر اسپتال کے لیے)، ووکیشنل ٹریننگ اور صاف پانی و سولر منصوبے شامل ہیں۔ اگرچہ مکمل عملدرآمد میں چیلنجز موجود ہیں، تاہم یہ اقدامات معاشی ترقی اور بہتر روزگار کے مواقع کے لیے معاون ہیں۔

سی پیک کی ترقیاتی حکمتِ عملی میں سماجی و معاشی بہتری مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔ مکمل ہونے والے گرانٹ پر مبنی منصوبوں میں گوادر اسمارٹ پورٹ سٹی ماسٹر پلان (4 ملین ڈالر)، صاف پانی کی فراہمی و ٹریٹمنٹ اسکیمیں (130 ملین ڈالر)، پاک چین دوستی اسپتال (100 ملین ڈالر)، ٹیکنیکل و ووکیشنل انسٹیٹیوٹ گوادر (10 ملین ڈالر)، 1.2 ایم جی ڈی گوادر ڈی سیلینیشن پلانٹ (13.97 ملین ڈالر) اور پسماندہ علاقوں کے لیے 15 ہزار سولر لائٹس کی فراہمی شامل ہیں۔

زیرِ تعمیر سماجی شعبے کے منصوبوں میں چین پاکستان مشترکہ زرعی ٹیکنالوجی لیبارٹری، زرعی آلات کی فراہمی، اعلیٰ تعلیم کے لیے 50 اسمارٹ کلاس رومز کا قیام، مشترکہ زرعی مظاہرے، پنجاب، خیبر پختونخوا، بلوچستان، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں برن سینٹرز، اور کوئٹہ میں میڈیکل ایمرجنسی سینٹر شامل ہیں۔

خصوصی اقتصادی زونز

سی پیک کے تحت بلوچستان میں مجوزہ خصوصی اقتصادی زونز بھی امید کی ایک اور کرن ہیں، جن میں بوستان ایس ای زیڈ، حب ایس ای زیڈ اور گوادر فری ٹریڈ زون شامل ہیں۔ ان زونز کا مقصد زراعت، کان کنی، ٹیکنالوجی اور مینوفیکچرنگ جیسے شعبوں میں سرمایہ کاری کو راغب کرنا ہے۔ صوبے کے وسائل اور علاقائی رابطہ کاری کے لیے اس کی اسٹریٹجک حیثیت کے پیشِ نظر، یہ زونز صنعت، پراسیسنگ اور خدمات کے مراکز بن سکتے ہیں۔ صنعتوں کی ترقی سے روزگار، مہارتوں کی منتقلی اور صوبے کے لیے آمدن میں اضافہ ہوگا، جس سے وقت کے ساتھ غربت میں کمی اور متوازن علاقائی ترقی ممکن ہو سکے گی۔

حتمی تجزیہ

مندرجہ بالا بحث کی بنیاد پر کہا جا سکتا ہے کہ سی پیک نے پاکستان کے اندر بلوچستان کی اسٹریٹجک اہمیت کو نمایاں طور پر بڑھایا ہے۔ جو صوبہ کبھی نظرانداز اور پسماندہ سمجھا جاتا تھا، وہ اب رابطہ کاری کے سنگم پر کھڑا ہے۔ آج یہاں ایسی بڑی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں جن کا کبھی تصور بھی نہیں کیا گیا تھا، اور اس کا سہرا چین پاکستان اقتصادی راہداری کے سر جاتا ہے۔ بہتر رابطہ کاری کے ساتھ بلوچستان اب ایک دور افتادہ سرحدی خطہ نہیں بلکہ خطوں کو جوڑنے والا پل بنتا جا رہا ہے۔

یہ تسلیم کرنا ضروری ہے کہ چیلنجز اب بھی موجود ہیں۔ ترقی میں وقت لگتا ہے اور فوائد فوری طور پر ہر فرد تک نہیں پہنچتے۔ تاہم سمت واضح ہے۔ سی پیک نے بلوچستان میں طویل المدتی ترقی کی بنیاد رکھ دی ہے۔ مستقل عزم، شفافیت اور مقامی شمولیت کے ساتھ یہ منصوبے دیرپا مثبت تبدیلی لا سکتے ہیں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین