شاہد محمود
اپنی تحریروں میں ہم ایک بار پھر اعلیٰ معیار کے انسانی سرمائے (جسے ’اپر ٹیل ہیومن کیپیٹل‘ کہا جاتا ہے) کے اس کلیدی کردار کو پاتے ہیں جس پر رومر، ہوئٹ اور اگھیون کے نظریات میں زور دیا گیا ہے، اور یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ طویل المدتی معاشی ترقی کے لیے یہ کس قدر اہم ہے۔
اگرچہ اوپر بیان کردہ نکات ان تینوں ماہرین کی وسیع اور گہری تحقیق کا مکمل احاطہ نہیں کرتے، تاہم یہ ہمیں اُن عوامل کا ایک معقول اندازہ ضرور دیتے ہیں جو ایک ’کامیاب‘ معاشی ماڈل کی تشکیل کرتے ہیں۔ اب یہ سوچا جائے کہ ان میں سے کون سے عوامل تاریخی طور پر پاکستان میں کارفرما رہے ہیں؟ کوئی بھی نہیں۔ مثال کے طور پر پاکستان کے ’اپر ٹیل‘ انسانی سرمائے کا کیا حال ہے؟ دہائیوں سے انتہائی مہارت یافتہ افراد کی بڑی تعداد کا ملک چھوڑ جانا کسی بھی سنجیدہ پالیسی ساز کے لیے شدید تشویش کا باعث ہونا چاہیے، سوائے اُن کے جو زیادہ ترسیلاتِ زر کے امکان میں خوشی محسوس کرتے ہیں۔
پھر عالمی معیشت کے اُن وسیع مواقع کا کیا بنا، جہاں اشیا اور خدمات کی تجارت کا حجم حیران کن طور پر 23 کھرب ڈالر تک پہنچ چکا ہے؟ اس میں ہمارا حصہ کیا ہے؟ سو ارب ڈالر بھی نہیں۔ کیا اس سے بڑھ کر ہماری تباہ کن ناکامی کی کوئی اور مثال ہو سکتی ہے؟
لیکن خطرات کیوں مول لیے جائیں، جب مثلاً چینی جیسی اجناس کے برآمدی پرمٹس سے کھربوں کمانا آسان ہو، مصنوعی قلت پیدا کی جائے اور پھر وہی شے تین گنا قیمت پر درآمد کی جائے؟ ’اپر ٹیل‘ انسانی سرمائے کو ملک میں خدمات انجام دینے کی ترغیب کیوں دی جائے، جب انہیں ملک سے باہر دھکیلنے کا نتیجہ زیادہ ترسیلاتِ زر کی صورت میں نکلتا ہو؟
مختصراً، معاشی ترقی محض حساب کتاب اور تعلقاتِ عامہ کے ہتھکنڈوں پر قائم نہیں ہوتی۔ سب سے بڑھ کر، پاکستان میں طویل المدتی اور ’کامیاب‘ معاشی ترقی کی کوئی بھی سنجیدہ کوشش اس وقت تک ممکن نہیں جب تک ریاستی مشینری سے وابستہ افراد اپنی متعین ذمہ داریوں تک خود کو محدود رکھنے کا آغاز نہ کریں۔

