بدھ, فروری 11, 2026
ہومبین الاقوامیتھائی لینڈ اور کمبوڈیا میں سرحدی جنگ بندی طے

تھائی لینڈ اور کمبوڈیا میں سرحدی جنگ بندی طے
ت

بینکاک/پنوم پنہ (مشرق نامہ) – تھائی لینڈ اور کمبوڈیا نے ہفتے کے روز ہفتوں سے جاری شدید سرحدی جھڑپیں روکنے کے لیے جنگ بندی پر اتفاق کر لیا۔ یہ حالیہ برسوں کی بدترین لڑائی قرار دی جا رہی تھی، جس میں لڑاکا طیاروں کی پروازیں، راکٹوں کا تبادلہ اور توپ خانے کی شدید گولہ باری شامل رہی۔

دونوں ممالک کے وزرائے دفاع نے جنگ بندی سے متعلق مشترکہ بیان میں کہا کہ فریقین نے موجودہ فوجی تعیناتیوں کو برقرار رکھنے اور مزید کسی قسم کی نقل و حرکت نہ کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ بیان کے مطابق کسی بھی قسم کی اضافی کمک کشیدگی میں اضافہ کرے گی اور مسئلے کے دیرپا حل کی کوششوں پر منفی اثر ڈالے گی۔ یہ بیان کمبوڈیا کی وزارتِ دفاع نے سوشل میڈیا کے ذریعے جاری کیا۔

یہ معاہدہ تھائی وزیرِ دفاع نتھا فون ناکرپھنیت اور کمبوڈیا کے وزیرِ دفاع تیا سیہا کے درمیان طے پایا، جس کے نتیجے میں بیس روزہ لڑائی کا خاتمہ ہوا۔ اس دوران کم از کم 101 افراد ہلاک اور دونوں جانب سے پانچ لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہوئے۔

یہ جھڑپیں دسمبر کے اوائل میں اس وقت دوبارہ شروع ہوئیں جب جولائی میں ہونے والی ایک سابقہ جنگ بندی ٹوٹ گئی، جسے اس وقت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ملائیشیا کے وزیرِ اعظم انور ابراہیم کی ثالثی سے قائم کیا گیا تھا۔

تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان 817 کلومیٹر طویل زمینی سرحد کے مختلف غیر واضح مقامات پر ایک صدی سے زائد عرصے سے خودمختاری کا تنازع موجود ہے، جو وقتاً فوقتاً جھڑپوں اور مسلح تصادم کی صورت اختیار کرتا رہا ہے۔

نتھا فون ناکرپھنیت کے مطابق تازہ جنگ بندی کی نگرانی آسیان کے علاقائی بلاک کے مبصرین کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست رابطہ کاری کے ذریعے کی جائے گی۔ انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ پالیسی سطح پر دونوں جانب کے وزرائے دفاع اور مسلح افواج کے سربراہان کے درمیان براہِ راست رابطہ بھی قائم رہے گا۔

ٹرمپ کی مداخلت

بیان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی جولائی میں اس وقت شدت اختیار کر گئی تھی جب سرحد کے بعض حصوں پر پانچ روزہ جھڑپوں میں کم از کم 48 افراد ہلاک اور تین لاکھ افراد بے گھر ہو گئے تھے، جس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مداخلت سے جنگ بندی ممکن ہوئی تھی۔

تاہم یہ جنگ بندی دسمبر کے آغاز میں ٹوٹ گئی، جب دونوں فریقین نے ایک دوسرے پر ایسے اقدامات کا الزام عائد کیا جن کے باعث دوبارہ تصادم شروع ہوا۔ تنازع کے دوبارہ بھڑکنے کے بعد نہ تو آسیان کے موجودہ چیئرمین انور ابراہیم اور نہ ہی ڈونلڈ ٹرمپ ایک نئی جنگ بندی کرانے میں کامیاب ہو سکے، جبکہ لڑائی لاؤس کے قریب جنگلاتی علاقوں سے بڑھ کر خلیجِ تھائی لینڈ کے ساحلی صوبوں تک پھیل گئی۔

نئے مذاکرات پیر کے روز کوالالمپور میں جنوب مشرقی ایشیا کے وزرائے خارجہ کے خصوصی اجلاس کے بعد شروع ہوئے، جس کے بعد سرحدی چیک پوسٹ پر تین روزہ بات چیت ہوئی۔ ہفتے کے روز اسی مقام پر دونوں وزرائے دفاع نے ملاقات کر کے معاہدے کو حتمی شکل دی۔

مشترکہ بیان میں سرحدی علاقوں سے بے گھر ہونے والے افراد کی واپسی پر اتفاق کیا گیا، ساتھ ہی اس بات پر زور دیا گیا کہ کوئی بھی فریق شہری آبادی کے خلاف طاقت استعمال نہیں کرے گا۔ معاہدے کے مطابق اگر جنگ بندی 72 گھنٹے تک مکمل طور پر برقرار رہی تو تھائی لینڈ جولائی کی جھڑپوں کے بعد حراست میں لیے گئے 18 کمبوڈیائی فوجیوں کو بھی واپس کرے گا۔

تاہم معاہدے میں واضح کیا گیا کہ اس جنگ بندی سے سرحدی حد بندی کے جاری عمل پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور متنازع علاقوں کا حل موجودہ دوطرفہ طریقہ کار کے تحت ہی تلاش کیا جائے گا۔

تھائی فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل پراپاس سورنجائیڈی نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ جنگ اور جھڑپیں نہ تو دونوں ممالک کے لیے خوشی کا باعث بنتی ہیں اور نہ ہی دونوں اقوام کے لیے۔ ان کے مطابق تھائی اور کمبوڈیائی عوام ایک دوسرے کے مخالف نہیں ہیں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین