کراچی (مشرق نامہ) – وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے دسمبر کے دوران ایران جانے کے لیے غیر قانونی سمندری راستہ اختیار کرنے کی کوشش کرنے والے 257 افراد کو گرفتار کر لیا۔ یہ گرفتاریاں انسانی اسمگلنگ اور غیر قانونی سرحدی نقل و حرکت کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کے تحت عمل میں آئیں۔
ایف آئی اے کے ترجمان کے مطابق یہ گرفتاریاں ادارے کے کمپوزٹ سرکل گوادر نے کیں، جہاں غیر قانونی بحری نقل و حرکت کے خلاف مسلسل اور تیز کارروائیاں کی جا رہی تھیں۔ گرفتار افراد کو ساحلی پٹی کے مختلف مقامات سے اس وقت حراست میں لیا گیا جب وہ بغیر درست سفری دستاویزات کے پاکستان سے روانہ ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔
ترجمان نے بتایا کہ گرفتار ہونے والوں کا تعلق پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے مختلف اضلاع سے ہے۔ ان میں 34 غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں، جن میں 30 افغان، دو بنگلہ دیشی اور دو ایرانی باشندے شامل ہیں۔
ایف آئی اے حکام کے مطابق تمام افراد کو جیوانی کے علاقے سے گرفتار کیا گیا، جہاں وہ سمندری راستے کے ذریعے غیر قانونی طور پر ایران داخل ہونے کی تیاری کر رہے تھے۔ ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملزمان کا منصوبہ ایران کو بطور ٹرانزٹ استعمال کرتے ہوئے آگے دیگر ممالک تک غیر قانونی طور پر پہنچنا تھا۔
حکام کے مطابق گرفتار پاکستانی شہریوں میں سے 142 کا تعلق پنجاب، 63 کا خیبر پختونخوا، 12 کا سندھ، جبکہ باقی افراد کا تعلق بلوچستان سے ہے۔
ایف آئی اے نے بتایا کہ تمام گرفتار افراد کے خلاف مقدمات درج کر لیے گئے ہیں اور انسانی اسمگلنگ اور غیر قانونی سرحدی نقل و حرکت میں ملوث سہولت کاروں، ہینڈلرز اور نیٹ ورکس کی نشاندہی کے لیے مزید تحقیقات جاری ہیں۔
ادارے کے مطابق انسانی اسمگلروں اور غیر قانونی سرحدی نقل و حرکت میں ملوث عناصر کے خلاف ملک گیر سطح پر کریک ڈاؤن بدستور جاری ہے اور اس مقصد کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔

