کراچی (مشرق نامہ) – پاکستان میں کیش لیس معیشت کی جانب پیش رفت اگرچہ جاری ہے، تاہم گہرے ساختی مسائل ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ میں مسلسل رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ یہ بات صنعت کے ماہرین اور بینکاری شعبے کی ایک نئی رپورٹ میں سامنے آئی ہے۔
پی ڈبلیو سی پاکستان کی بینکاری اشاعت 2025 میں شائع ہونے والے تبصرے میں جاز کیش انٹرنیشنل کے چیئرمین عامر ابراہیم نے کہا کہ پیش رفت کے باوجود پاکستان کا ڈیجیٹل ادائیگیوں کا نظام اب بھی علاقائی اور عالمی معیار سے پیچھے ہے، جہاں تاجروں کے معاشی خدشات اور صارفین کی عادات اپنانے کی رفتار کو محدود کر رہی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان خطے کی اُن معیشتوں میں شامل ہے جو اب بھی نقدی پر غیر معمولی حد تک انحصار کرتی ہیں۔ جون 2025 تک زیرِ گردش نقدی مجموعی قومی پیداوار کے تقریباً 34 فیصد کے برابر تھی، جو بھارت اور بنگلہ دیش جیسے ممالک کے مقابلے میں دگنی سے بھی زیادہ ہے۔ اس صورتِ حال کو غیر دستاویزی معیشت کے حجم کی عکاسی قرار دیا گیا ہے۔
حکومتی اور ریگولیٹری اقدامات کے مثبت اثرات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے فوری ادائیگی نظام “راست” کے تحت جون 2025 تک 4 کروڑ 50 لاکھ رجسٹرڈ شناختیں ہو چکی تھیں، جب کہ اس پلیٹ فارم کے ذریعے 1.3 ارب لین دین انجام پائے، جن کی مجموعی مالیت 29.6 کھرب روپے رہی۔ رپورٹ کے مطابق یہ حجم اور قدر ایک سال کے دوران دوگنا سے بھی زیادہ ہو چکی ہے۔ اسی عرصے میں کیو آر کوڈ سے لیس تاجروں کی تعداد بھی بڑھ کر 10 لاکھ سے تجاوز کر گئی۔
اس کے باوجود ماہرین کے مطابق ڈیجیٹل ادائیگیوں کا استعمال غیر متوازن ہے۔ ملک بھر میں پوائنٹ آف سیل ٹرمینلز سے لیس تاجروں کی تعداد تقریباً ایک لاکھ 59 ہزار ہے، جب کہ خطے کے دیگر ممالک میں یہ تعداد لاکھوں میں ہے۔ اسی طرح موبائل بینکنگ کا پھیلاؤ مجموعی بینک اکاؤنٹس کے صرف 15 فیصد تک محدود ہے، جو دیگر ابھرتی ہوئی معیشتوں کے مقابلے میں کہیں کم ہے۔
عامر ابراہیم کے مطابق ڈیجیٹل ادائیگیوں کے وسیع پیمانے پر فروغ کے لیے ضروری ہے کہ انہیں نقدی کے مقابلے میں سستا، آسان اور زیادہ محفوظ بنایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ صارف دوست اور ہمہ گیر ڈیجیٹل نظام، جہاں لین دین کی لاگت نقدی سے کم ہو، اپنانے کے عمل کو تیز کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ صنعت کو آمدنی کے ماڈلز پر نظرِ ثانی کرنا ہوگی تاکہ تاجروں کے لیے سہولت برقرار رہے اور ساتھ ہی بینکوں اور ادائیگی فراہم کرنے والوں کی معاشی بنیادیں بھی متاثر نہ ہوں۔
اسٹیٹ بینک نے بھی نقدی پر حد سے زیادہ انحصار کی معاشی قیمت کی نشاندہی کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق مرکزی بینک کے ڈپٹی گورنر سلیم اللہ کا کہنا تھا کہ اس وقت 11.5 کھرب روپے رسمی بینکاری نظام سے باہر ہیں، اور اگر اس نقدی کا صرف 20 سے 30 فیصد بھی بینکوں میں آ جائے تو لیکویڈیٹی میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے ترجیحی شعبوں کو قرضوں کی فراہمی میں مدد ملے گی۔

