بدھ, فروری 11, 2026
ہومبین الاقوامی25 دسمبر: نو برسوں میں سعودی-امریکی فضائی حملوں کے نتیجے میں یمن...

25 دسمبر: نو برسوں میں سعودی-امریکی فضائی حملوں کے نتیجے میں یمن میں 18 افراد شہید اور زخمی
2

(یمن(مشرق نامہ

25 دسمبر کو مختلف برسوں 2015، 2016، 2017 اور 2018 کے دوران سعودی-امریکی جارحیت نے یمن میں اپنی کارروائیاں جاری رکھیں، جن کے نتیجے میں دستاویزی جنگی جرائم اور اجتماعی قتل کے واقعات پیش آئے۔ ان حملوں میں صنعا، حجہ، مأرب اور البیضاء کے صوبوں میں عام شہریوں کے گھروں اور زرعی زمینوں کو نشانہ بنایا گیا۔

دستاویزی ریکارڈ کے مطابق ان حملوں کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے 12 افراد شہید ہوئے جبکہ 6 افراد زخمی ہوئے، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی تھی۔ فضائی حملوں کے باعث گھروں اور املاک کی بڑے پیمانے پر تباہی، یادگاری مقامات کو نقصان، زرعی زمینوں میں کلسٹر بموں کی آلودگی، عوام میں خوف و ہراس، جبری نقل مکانی اور شہری مصائب میں شدید اضافہ ہوا۔ یہ واقعات اس جنگ کے دوران ریکارڈ کیے گئے ہزاروں جرائم میں سے صرف چند مثالیں ہیں۔

25 دسمبر 2015 — حجہ

سعودی-امریکی جارحیت نے بین الاقوامی سطح پر ممنوعہ کلسٹر بم مستبہ ضلع کے زرعی علاقوں پر استعمال کیے، جس کے نتیجے میں زرعی زمینیں مہلک بن گئیں اور مقامی آبادی اپنی روزی روٹی سے محروم ہو گئی۔

مقامی باشندوں نے بچوں، خواتین اور کسانوں کو لاحق مستقل خطرات سے خبردار کرتے ہوئے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی قانونی اور انسانی ذمہ داریاں پوری کرے۔

25 دسمبر 2016 — مأرب

سعودی-امریکی جارحیت سے وابستہ کرائے کے جنگجوؤں نے سرواح ضلع کے تطلس علاقے میں شہری گھروں اور املاک کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر تباہی، نقل مکانی اور خواتین و بچوں میں شدید خوف پھیل گیا، جبکہ رہائشی علاقوں کو فوجی اہداف میں تبدیل کر دیا گیا۔

25 دسمبر 2017 — صنعا

فضائی حملے میں علی محمد الریمی کے گھر کو نشانہ بنایا گیا، جو معین ضلع کے عصر علاقے میں واقع مصری یادگار کے نگراں تھے۔ اس حملے میں ایک ہی خاندان کے 12 افراد شہید اور چار زخمی ہوئے، جن میں خواتین اور بچے شامل تھے۔ گھر مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔

بعد ازاں شہداء کو شہداء کے قبرستان میں بڑے جنازوں کے ساتھ سپردِ خاک کیا گیا۔ عوامی سطح پر شدید مذمت کی گئی اور مطالبہ کیا گیا کہ ان جرائم کا احتساب کیا جائے، اس بات پر زور دیا گیا کہ ایسے جرائم وقت گزرنے کے ساتھ فراموش نہیں ہوں گے۔

25 دسمبر 2018 — البیضاء

سعودی-امریکی جارحیت سے وابستہ عناصر نے القرشیہ ضلع کے الظہرہ علاقے میں شہری گھروں پر براہِ راست فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں ایک خاتون اور ایک بچہ زخمی ہوا اور علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔

جنگی جرائم اور عالمی خاموشی

انسانی حقوق کی تنظیموں اور مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ خواتین، بچوں اور شہری گھروں کو نشانہ بنانا ان ہزاروں جنگی جرائم میں شامل ہے جو نو برسوں کے دوران انجام دیے گئے، جبکہ عالمی برادری کی مسلسل خاموشی برقرار ہے۔

نو برس سے زائد عرصے سے سعودی-امریکی جارحیت یمن کے خلاف ایسی جنگ مسلط کیے ہوئے ہے جس کی خصوصیت شہری آبادی اور شہری تنصیبات کو منظم طور پر نشانہ بنانا ہے، جو بین الاقوامی انسانی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

وسیع پیمانے پر شواہد، جن میں شہری ہلاکتیں اور ممنوعہ ہتھیاروں کا استعمال شامل ہے، کے باوجود یہ جارحیت بین الاقوامی سرپرستی میں جاری ہے، جبکہ یمن کے عوام مسلسل مصائب، نقل مکانی، محاصرے اور محرومی کا سامنا کر رہے ہیں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین