مانئڑئنگ ڈیسک (مشرق نامہ)روس نے جاپان کی جانب سے اپنے ماضی کے عسکری تشدد اور جنگی جرائم کو کم اہم ظاہر کرنے کی کوششوں کی شدید تنقید کی ہے، اور ٹوکیو سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی تاریخ کا صاف-صاف سامنا کرے اور متاثرین سے سچا مصالحہ (atonement/معافی) کرے۔
📌
اہم نکات:
- روس کے دفترِ خارجہ کی ترجمان، ماریا زاخارووا نے کہا کہ جاپان کے بعض اقدامات، خاص طور پر یاسوکونی مزار کی طرف ممکنہ دورے بارے رپورٹس کے تناظر میں، تاریخ کو سفید (whitewash) کرنے کے مترادف ہیں۔
- زاخارووا کے مطابق یاسوکونی مزار جاپانی عسکریت پسندی کی علامت ہے، جہاں بین الاقوامی فوجی ٹریبونل برائے مشرق بعید کی طرف سے سزائے موت پانے والے کلاس-A جنگی مجرم کو یادگار میں شامل کیا گیا ہے۔
- انہوں نے کہا کہ جاپان کو چاہئیے کہ وہ عسکریت پسندی کے متاثرین کے لیے ایک یادگار (memorial hall) بنائے، اور سالانہ یا مزید کثرت سے نمائندے بھیجے تاکہ جاپان اپنے کئے گئے جرائم کی تلافی کر سکے۔
- روس نے پھر سے زور دیا کہ جاپان اپنے ماضی میں پیش آئے انسانی سلوک کے ظلم و جبر کو کم نہ دکھائے اور دوسری عالمی جنگ کے نتائج کو مکمل طور پر تسلیم کرے۔
🧠
پسِ منظر (Context)
یہ بیان ایسے وقت آیا ہے جب جاپان کے اندر عسکری تاریخ اور امن پسند آئینی شقوں پر بحث شدت پکڑ رہی ہے، اور بعض رہنما یاسوکونی مزار جیسے مقامات کی طرف دورے کے بارے میں بات کر رہے ہیں، جو ماضی میں پڑوسی ملکوں کے غم و غصے کا سبب بنتے رہے ہیں۔ روس کی طرف سے اس پر سخت موقف ظاہر کرنا ایک علاقائی سیاسی سُپر طاقت کی جانب سے تاریخی ریکارڈ اور بین الاقوامی ساکھ کے بارے میں نمایاں تحفظات کی نمائندگی کرتا ہے۔

