بدھ, فروری 11, 2026
ہومبین الاقوامیابوجا کی درخواست پر امریکا کا نائجیریا میں داعش کے خلاف فضائی...

ابوجا کی درخواست پر امریکا کا نائجیریا میں داعش کے خلاف فضائی حملہ
ا

مانئڑئنگ ڈیسک (مشرق نامہ)نائجیریا کی حکومت کی درخواست پر امریکا نے ملک کے شمال مغربی علاقے میں داعش کے خلاف فضائی حملہ کیا، جس کے نتیجے میں متعدد شدت پسند ہلاک ہو گئے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کی رات اعلان کیا کہ امریکا نے شمال مغربی نائجیریا میں داعش کو مبینہ طور پر نشانہ بناتے ہوئے ایک بڑا فضائی حملہ کیا ہے۔

ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ امریکا نے داعش کے خلاف “انتہائی مہلک اور طاقتور” حملہ کیا، جس کی منظوری انہوں نے ذاتی طور پر دی۔ انہوں نے ایک بار پھر یہ دعویٰ دہرایا کہ نائجیریا میں مسیحی برادری کو داعش کی جانب سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

انہوں نے لکھا:

“محکمۂ جنگ نے متعدد مکمل اور درست حملے کیے، جیسا کہ صرف امریکا ہی کر سکتا ہے۔ خدا ہماری فوج کو برکت دے، اور کرسمس مبارک ہو—تمام لوگوں کو، بشمول مردہ دہشت گردوں کے، جن کی تعداد اس صورت میں مزید بڑھے گی اگر مسیحیوں کا قتل عام جاری رہا۔”

ریوٹرس کی تصدیق

دوسری جانب، ریوٹرس نے ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ یہ حملہ نائجیریا کے حکام کی درخواست پر کیا گیا۔ کارروائی صوبہ سوکوٹو میں انجام دی گئی، جہاں داعش کے کئی جنگجو مارے گئے۔

امریکی افریقہ کمانڈ (AFRICOM) نے بھی حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ سوکوٹو میں کیا جانے والا فضائی حملہ نائجیریا کی جانب سے باضابطہ درخواست کے بعد کیا گیا اور اس میں داعش کے متعدد اہلکار ہلاک ہوئے۔

امریکی وزیرِ جنگ کا بیان

امریکی وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ نے بھی اس کارروائی پر تبصرہ کرتے ہوئے نائجیریا کی حکومت کے ساتھ تعاون کو سراہا۔ انہوں نے کہا:

“صدر گزشتہ ماہ واضح کر چکے تھے کہ نائجیریا (اور دیگر مقامات) پر معصوم مسیحیوں کا قتل ختم ہونا چاہیے۔ محکمۂ جنگ ہر وقت تیار ہے، اور داعش نے آج رات—کرسمس کے دن—اس کا نتیجہ دیکھ لیا۔ مزید کارروائیاں بھی ہوں گی۔ نائجیریا کی حکومت کی حمایت اور تعاون پر شکر گزار ہیں۔”

پس منظر

ٹرمپ اس سے قبل بھی نائجیریا میں مبینہ طور پر “مسیحیوں کے بڑے پیمانے پر قتل” کے الزامات کی بنیاد پر فوجی کارروائی کی دھمکی دے چکے ہیں، تاہم نائجیریا کی حکومت ان الزامات کو سختی سے مسترد کرتی ہے۔ ابوجا کا مؤقف ہے کہ ملک کا آئین ریاستی سطح پر مذہبی امتیاز یا جبر کی اجازت نہیں دیتا۔

ٹرمپ کے بیانات کی ایک وجہ شمالی اور وسطی نائجیریا میں جاری تشدد کی لہر بھی ہے، جہاں گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے بوکوحرام، داعش ویسٹ افریقہ (ISWAP) اور مسلح جرائم پیشہ گروہ حملے، اغوا اور بم دھماکے کر رہے ہیں۔

ان میں سے بعض حملوں میں واقعی مسیحی دیہات، گرجا گھروں اور مذہبی رہنماؤں کو نشانہ بنایا گیا، جس سے مذہبی بنیادوں پر ظلم و ستم کی رپورٹس کو تقویت ملی۔ تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق مسلم آبادی بھی شدید متاثر ہوئی ہے، اور شمال مشرقی نائجیریا کے کئی شہر اور قصبے انہی گروہوں کے ہاتھوں تباہ یا خالی ہو چکے ہیں۔

امریکی دھمکیاں اور نائجیریا میں ردعمل

یکم نومبر کو ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ انہوں نے پینٹاگون کو نائجیریا میں “ممکنہ فوجی اقدامات” کے لیے آپشنز تیار کرنے کا حکم دیا ہے، جس کا مقصد بقول ان کے مسیحیوں کا تحفظ تھا۔ انہوں نے ابوجا کو دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر نائجیریا کی حکومت “مسیحیوں کے قتل کی اجازت دیتی رہی” تو امریکا تمام امداد بند کر دے گا اور “ہتھیاروں کے ساتھ مداخلت” بھی کر سکتا ہے۔

ان بیانات پر نائجیریا میں شدید غم و غصہ دیکھنے میں آیا، جہاں سول سوسائٹی اور سیاسی مبصرین نے ٹرمپ پر غلط معلومات پھیلانے اور فرقہ وارانہ تقسیم کو ہوا دینے کا الزام عائد کیا۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین