بدھ, فروری 11, 2026
ہومبین الاقوامیچینی منڈی میں پاکستانی چاول اور غذائی مصنوعات کی بڑھتی ہوئی مانگ

چینی منڈی میں پاکستانی چاول اور غذائی مصنوعات کی بڑھتی ہوئی مانگ
چ

بیجنگ (مشرق نامہ) – جنوری تا نومبر 2025 کے دوران پاکستان کے چاول اور دیگر غذائی مصنوعات نے چین میں اپنی موجودگی مزید مستحکم کر لی، جو متنوع غذائی درآمدات کی بڑھتی ہوئی طلب اور دونوں ممالک کے درمیان تجارتی سہولت کاری میں بہتری کی عکاس ہے۔

چین کی جنرل ایڈمنسٹریشن آف کسٹمز (جی اے سی سی) کے تجارتی اعداد و شمار کے مطابق، جنوری تا نومبر 2025 کے دوران پاکستان کے چاولوں کی چین کو برآمدات 49.37 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال اسی مدت میں 43.49 ملین ڈالر تھیں۔ اس طرح 5.88 ملین ڈالر یعنی 14 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ یہ مسلسل بڑھوتری پاکستانی چاول میں چینی منڈی کی دلچسپی کے تسلسل کو ظاہر کرتی ہے، جس کی ایک بڑی وجہ پراسیسنگ، پیکجنگ اور درآمدی ضوابط کی بہتر پاسداری بتائی جاتی ہے۔

مزید اعداد و شمار کے مطابق دیگر کئی غذائی زمروں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔ گوشت اور مچھلی کے آٹے، میلز اور پیلیٹس سمیت متعلقہ مصنوعات کی برآمدات 22.76 ملین ڈالر سے بڑھ کر 35.57 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں، جو 56 فیصد اضافہ ہے۔ غذائی تیاریوں (فوڈ پریپریشن پروڈکٹس) کی برآمدات 0.84 ملین ڈالر سے بڑھ کر 2.97 ملین ڈالر ہو گئیں، جس میں 254 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اسی طرح پھلوں اور سبزیوں کی تجارت 0.05 ملین ڈالر سے بڑھ کر 0.75 ملین ڈالر تک جا پہنچی، جو اگرچہ کم بنیاد سے تھی لیکن تیز رفتار نمو کی عکاس ہے، جیسا کہ سی ای این نے رپورٹ کیا۔

غذائی صنعت کے ماہرین کے مطابق یہ رجحانات چین میں صارفین کی بدلتی ترجیحات اور سرحد پار ای کامرس اور جدید ریٹیل چینلز کی بڑھتی ہوئی اہمیت سے ہم آہنگ ہیں۔ مستقبل کے حوالے سے متعلقہ حلقوں کا کہنا ہے کہ مزید پیش رفت کا انحصار کولڈ چین لاجسٹکس کی مضبوطی، معیار بندی اور مصنوعات کی ٹریس ایبلٹی میں بہتری پر ہوگا۔ ان اقدامات سے پاکستانی برآمد کنندگان کو ویلیو ایڈیڈ غذائی مصنوعات کی برآمدات میں وسعت اور چینی درآمد کنندگان کے ساتھ شراکت داری کو مزید گہرا کرنے میں مدد مل سکے گی۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین