بیجنگ (مشرق نامہ) – پاکستان کی چین کو گوشت کی برآمدات میں حالیہ برسوں کے دوران حوصلہ افزا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کی بنیادی وجوہات اعلیٰ معیار کے حلال گوشت کی بڑھتی ہوئی طلب اور بہتر مارکیٹ رسائی کے تحت تجارتی تعاون میں مضبوطی قرار دی جا رہی ہیں۔
چین کی جنرل ایڈمنسٹریشن آف کسٹمز (جی اے سی سی) کے اعداد و شمار کے مطابق، جنوری تا نومبر 2025 کے دوران پاکستان نے چین کو 14.32 ملین ڈالر سے زائد مالیت کی گوشت کی مصنوعات برآمد کیں، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ برآمدات 4.23 ملین ڈالر تھیں۔ اس طرح سالانہ بنیادوں پر تقریباً 239 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
پاکستانی گوشت کی برآمدات کو مزید فروغ دینے کے لیے گوشت کے شعبے کے ماہر عامر حسن نے سفارش کی ہے کہ جی اے سی سی میں رجسٹرڈ برآمد کنندگان کی تعداد میں اضافہ کیا جائے، کولڈ چین لاجسٹکس میں سرمایہ کاری کی جائے اور مشترکہ گوشت پروسیسنگ سہولیات قائم کی جائیں جو چینی فوڈ سیفٹی معیارات اور حلال سرٹیفکیشن کی شرائط پر پورا اترتی ہوں۔ گوادر پرو کے مطابق عامر حسن کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل تجارتی چینلز اور ریٹیل شراکت داریوں کے ذریعے مارکیٹنگ کو مضبوط بنانے سے چین کی تیزی سے بڑھتی ہوئی درآمدی غذائی منڈی میں وسیع تر طلب پیدا کی جا سکتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہدفی پالیسی معاونت اور اسٹریٹجک صنعتی تعاون کے ذریعے پاکستان کا گوشت کا شعبہ چین کی متنوع پروٹین درآمدی منڈی میں اپنا حصہ نمایاں طور پر بڑھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ماہرین کے مطابق برآمدات میں اس اضافے کی وجہ چینی خریداروں کی اعلیٰ معیار کی پروسیسڈ گوشت مصنوعات میں بڑھتی ہوئی دلچسپی، صحت و نباتاتی (سینیٹری و فائیٹو سینیٹری) ضوابط کی سختی سے پاسداری، اور دوطرفہ تجارتی پلیٹ فارمز پر فروغی سرگرمیاں ہیں۔ ان میں ستمبر 2025 میں بیجنگ میں منعقد ہونے والی پاکستان۔چین بی ٹو بی سرمایہ کاری اور بزنس میچنگ تقریبات بھی شامل ہیں، جو پاکستانی وزیراعظم کے دورۂ چین کے موقع پر منعقد ہوئیں۔
پاکستان نے جی اے سی سی سے برآمدی آپریشنز کی منظوری حاصل کرنے کے بعد چین کو ہیٹ ٹریٹڈ (ابلے یا پکے ہوئے) گوشت کی مصنوعات کی برآمدات کا آغاز کیا، جبکہ 2023 اور 2024 کے دوران کمپنیوں کو چینی کسٹمز سے کلیئرنس کے لیے سرٹیفکیشن ملنے کے بعد ان برآمدات میں مزید تیزی آئی۔

