اسلام آباد (مشرق نامہ) – عدالتی ذرائع کے مطابق 27ویں آئینی ترمیم کے تحت ہائی کورٹس کے ججز کے تبادلوں کا عمل آئندہ چند ہفتوں میں متوقع ہے، جبکہ عدالتی کمیشن آف پاکستان (جے سی پی) اس معاملے کو جلد باضابطہ طور پر زیرِ غور لا سکتا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ 27ویں ترمیم کے بعد اعلیٰ عدلیہ کے ججز کے تبادلوں سے متعلق آئینی طریقہ کار میں بنیادی تبدیلی آئی ہے، جس کے تحت جے سی پی کو یہ اختیار حاصل ہو گیا ہے کہ وہ کسی جج کی رضامندی کے بغیر ایک ہائی کورٹ سے دوسری ہائی کورٹ میں تبادلے کی سفارش کر سکے۔
ذرائع کے مطابق ججز کے تبادلوں کا معاملہ حال ہی میں ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان کے درمیان غیر رسمی طور پر زیرِ بحث آیا۔ چیف جسٹس صاحبان رواں ماہ نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی (این جے پی ایم سی) کے 56ویں اجلاس میں شرکت کے لیے جمع ہوئے تھے۔
اجلاس کے بعد این جے پی ایم سی کی جانب سے جاری بیان میں کیسوں کے بیک لاگ میں کمی، تجارتی مقدمات کے جلد فیصلے اور ٹیکس سے متعلق معاملات کے طریقہ کار کو بہتر بنانے جیسے پالیسی نکات پر روشنی ڈالی گئی، تاہم ججز کے تبادلوں سے متعلق کسی بحث کا ذکر شامل نہیں کیا گیا، کیونکہ یہ معاملہ باضابطہ ایجنڈے کا حصہ نہیں تھا۔
پیش رفت سے آگاہ ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ اگرچہ این جے پی ایم سی نے اس معاملے پر رسمی غور نہیں کیا، تاہم اجلاس کے موقع پر چیف جسٹس صاحبان کے مابین غیر رسمی تبادلہ خیال ضرور ہوا۔ ان کے مطابق یہ گفتگو محض ابتدائی نوعیت کی تھی اور اس سے کسی فیصلے کا اخذ نہیں کیا جا سکتا۔
مزید ذرائع کا کہنا ہے کہ عدالتی کمیشن آئندہ ماہ کے دوران متعدد اجلاس منعقد کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، جن میں اسلام آباد ہائی کورٹ، لاہور ہائی کورٹ اور بلوچستان ہائی کورٹ کے ایڈیشنل ججز کی توثیق کے ساتھ ساتھ ججز کے تبادلوں کے معاملے پر بھی غور متوقع ہے۔
27ویں ترمیم سے قبل آئین کے آرٹیکل 200 کے تحت کسی جج کے تبادلے کے لیے اس کی رضامندی لازم تھی، جبکہ صدرِ مملکت، چیف جسٹس آف پاکستان اور متعلقہ ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان سے مشاورت بھی ضروری تھی۔ ترمیم کے بعد اس طریقہ کار کو ختم کر کے جے سی پی کو مرکزی حیثیت دے دی گئی ہے۔
ترمیم شدہ آرٹیکل 200 کے تحت صدرِ مملکت جے سی پی کی سفارش پر کسی ہائی کورٹ کے جج کا ایک عدالت سے دوسری عدالت میں تبادلہ کر سکتے ہیں۔ اس میں سینیارٹی سے متعلق بھی وضاحت کی گئی ہے کہ منتقل ہونے والے جج کی سینیارٹی اس کی ابتدائی تقرری کی تاریخ سے شمار ہوگی، تاہم اسے اس ہائی کورٹ میں منتقل نہیں کیا جا سکے گا جہاں تبادلے کی صورت میں وہ وہاں کے چیف جسٹس سے سینئر ہو جائے۔ ایسی صورت میں جج کو اضافی الاؤنس دینے کی شق شامل کی گئی ہے۔ ترمیم میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ تبادلہ قبول نہ کرنے والے جج کے خلاف آرٹیکل 209 کے تحت کارروائی کی جا سکے گی اور اس کا مقدمہ سپریم جوڈیشل کونسل میں چلایا جائے گا۔
ترمیم کے بعد مختلف رپورٹس میں متعدد ججز کے ممکنہ تبادلوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ان رپورٹس کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے تقریباً 10 اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے چار ججز کو چھ ماہ سے دو سال کی مدت کے لیے مختلف عدالتوں یا بینچز میں تعینات کیا جا سکتا ہے۔
بتایا جا رہا ہے کہ مجوزہ تعیناتیوں میں بلوچستان ہائی کورٹ کا ژوب بینچ اور سندھ ہائی کورٹ کے لاڑکانہ، سکھر اور میرپورخاص بینچز شامل ہو سکتے ہیں، تاہم ان رپورٹس کی باضابطہ تصدیق تاحال جاری نہیں کی گئی۔

