اسلام آباد (مشرق نامہ) – پاکستان تحریکِ انصاف میں یہ احساس بڑھتا جا رہا ہے کہ جیل میں قید بانی چیئرمین عمران خان کی جانب سے مذاکرات کے بجائے مسلسل احتجاج پر اصرار نے پارٹی کو ایک گہرے سیاسی تعطل میں دھکیل دیا ہے، جہاں احتجاج اور بات چیت کے درمیان واضح سمت کا فقدان نظر آتا ہے۔
کوٹ لکھپت جیل میں قید پارٹی کے پانچ سینئر رہنماؤں، جن میں شاہ محمود قریشی بھی شامل ہیں، کے علاوہ دیگر کئی رہنماؤں نے بھی حکومت سے مذاکرات کے حق میں آواز بلند کی ہے، اگرچہ پارٹی کے اندر بعض حلقے اب بھی مکالمے کو پسپائی کے مترادف سمجھتے ہیں۔
دوسری جانب عمران خان کے قریبی ساتھی ان کی لائن پر قائم ہیں اور توشہ خانہ ٹو کیس میں سزا کے بعد دی گئی ملک گیر احتجاج کی کال کے لیے حمایت حاصل کرنے میں مصروف ہیں۔ اگرچہ بانی پی ٹی آئی نے اپوزیشن اتحاد کے رہنماؤں محمود خان اچکزئی اور راجا ناصر عباس کو یہ اختیار دیا ہے کہ وہ حکومت سے مذاکرات یا سڑکوں پر احتجاج میں سے کسی ایک راستے کا انتخاب کریں، تاہم پارٹی کے لیے ان کی ہدایات واضح ہیں کہ جب تک وہ جیل میں ہیں، کسی قسم کی مفاہمت ممکن نہیں۔
اس کے باوجود مذاکرات کی بات اس وقت تقویت پکڑ گئی جب کوٹ لکھپت جیل میں قید سینئر پی ٹی آئی رہنماؤں کی جانب سے لکھے گئے خط پر وزیرِ اعظم اور دیگر حکومتی شخصیات کی جانب سے مثبت ردعمل سامنے آیا۔ اپوزیشن اتحاد، جس کی قیادت محمود خان اچکزئی کر رہے ہیں، نے بھی حکومت سے بات چیت پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
پارٹی رہنماؤں کے مطابق اصل رکاوٹ عمران خان کی سخت گیر پوزیشن ہے، جبکہ احتجاج یا مذاکرات کے حوالے سے پارٹی کے اندر پائی جانے والی الجھن کی بڑی وجہ ان تک رسائی پر عائد پابندیاں ہیں۔
پی ٹی آئی وسطی پنجاب کے جنرل سیکریٹری بلال اعجاز نے کہا کہ اگر جیل میں عمران خان سے ’’بالغ نظر سیاست دان‘‘ ملاقات کر رہے ہوتے تو صورتحال بالکل مختلف ہو سکتی تھی۔ ان کے بقول اگر کسی کو تنہائی میں رکھا جائے اور اس تک یہ پیغام پہنچے کہ لاکھوں افراد اس کے ساتھ کھڑے ہیں، تو اس کا ردعمل فطری طور پر اسی سمت میں ہوگا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سیاسی رہنماؤں کو عمران خان سے دور رکھا جا رہا ہے اور صرف غیر سیاسی یا مخصوص افراد کو ملاقات کی اجازت دی جا رہی ہے۔
تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کے ترجمان اخونزادہ حسین نے بھی سیاسی وضاحت اور اعتماد سازی کے لیے عمران خان تک رسائی کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اب گیند حکومت کے کورٹ میں ہے اور اسے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کے طور پر محمود خان اچکزئی اور ناصر عباس کی نامزدگی کا نوٹیفکیشن جاری کرنا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اپوزیشن اتحاد احتجاجی سرگرمیاں، بشمول 8 فروری کے احتجاج، ترک کیے بغیر مذاکرات کے لیے تیار ہے۔
ان کے مطابق اپوزیشن اتحاد نئے انتخابات اور آئین کی بالادستی کی بحالی کا مطالبہ کر رہا ہے اور اس سلسلے میں مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف سے امیدیں وابستہ کیے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ بات چیت وزیرِ اعظم شہباز شریف کے بجائے ان کے بڑے بھائی سے کی جا رہی ہے اور مشترکہ نکات ان کے سامنے رکھے جا رہے ہیں۔
پی ٹی آئی پنجاب کی چیف آرگنائزر عالیہ حمزہ نے کہا کہ مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی کسی غیر آئینی مطالبے کے بجائے اپنے قانونی اور آئینی حقوق، اور جیل مینوئل پر مکمل عملدرآمد کا مطالبہ کر رہی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پارٹی کارکنان کی گرفتاریوں اور مقدمات کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔
عالیہ حمزہ نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر جیل میں نواز شریف سے بات چیت ہو سکتی تھی تو پھر عمران خان سے اڈیالہ جیل میں کیوں نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی احتجاج سے پیچھے نہیں ہٹے گی، تاہم انہوں نے پارٹی قیادت پر زور دیا کہ واضح احتجاجی حکمتِ عملی طے کی جائے تاکہ کارکنان اپنی توانائیاں درست سمت میں استعمال کر سکیں۔
پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن کے سابق لیڈر ملک احمد خان بھچر نے بھی حکومت کی نیت پر شکوک کا اظہار کیا اور کہا کہ جس کریک ڈاؤن کا سامنا پی ٹی آئی کو ہے، اس میں مذاکراتی عمل پر یقین کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ان کے مطابق انہیں ایسے مقدمات کی بنیاد پر نااہل قرار دیا گیا جن میں وہ نامزد بھی نہیں تھے، جبکہ ارکانِ پارلیمان کی نااہلی کا اختیار سپریم کورٹ کے پاس ہے۔
ادھر سابق پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری نے بھی ایک بار پھر منظرِ عام پر آ کر مکالمے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کے مطابق نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی نے تجویز دی تھی کہ وزیرِ اعظم اعتماد سازی کے لیے کوٹ لکھپت جیل میں قید پانچ سینئر پی ٹی آئی رہنماؤں کو پیرول پر رہا کریں تاکہ وہ مذاکراتی عمل میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔
فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ اور پی ٹی آئی دونوں کو اپنی پوزیشنز پر نظرثانی کرنا ہوگی کیونکہ موجودہ صورتحال میں کوئی بھی فریق آگے نہیں بڑھ پا رہا۔ ان کے بقول ملک کا سیاسی منظرنامہ جمود کا شکار ہے، جسے توڑنے کے لیے حکومت کو ایک قدم آگے بڑھانا اور پی ٹی آئی کو ایک قدم پیچھے ہٹنا ہوگا تاکہ بامعنی مذاکرات کی گنجائش پیدا ہو سکے۔

