مانئڑئنگ ڈیسک (مشرق نامہ)حماس نے اعلان کیا ہے کہ اس کے ایک وفد نے عراقی رہنماؤں، سرکاری عہدیداروں اور سیاسی شخصیات سے متعدد ملاقاتیں کیں، جن میں غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے پر عملدرآمد، جاری سیاسی و زمینی صورتحال، علاقائی و بین الاقوامی امور اور ان سے نمٹنے کے طریقوں پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
یہ وفد حماس کے سینئر رہنما اسامہ حمدان کی سربراہی میں تھا، جبکہ تحریک کے میڈیا مشیر طاہر النونو بھی اس میں شامل تھے۔ وفد نے غزہ کی پٹی میں سنگین انسانی صورتحال، مغربی کنارے اور القدس میں قابض افواج کے جرائم اور فلسطینی قیدیوں کو درپیش حالات پر تفصیلی بریفنگ دی، اور اس بات پر زور دیا کہ:
“ان جرائم اور جاری جارحیت کے خاتمے کے لیے مشترکہ کوششوں کو مضبوط بنانا ناگزیر ہے۔”
وفد نے عراق کے ساتھ تاریخی تعلقات کو بھی اجاگر کیا، جو عراق کے تمام سیاسی اور جماعتی دھڑوں پر محیط ہیں، اور فلسطینی کاز کے حوالے سے عراق کے مستقل اور واضح مؤقف کو سراہا۔
گفتگو میں اس بات پر بھی غور کیا گیا کہ فلسطینی عوام کی مزاحمت اور ثابت قدمی کو کس طرح مضبوط کیا جائے، یہاں تک کہ وہ اپنے تمام حقوق واپس حاصل کر لیں اور القدس کو دارالحکومت بنا کر ایک آزاد فلسطینی ریاست قائم کر سکیں۔
جنگ بندی کے دوران 411 فلسطینی شہید
یہ ملاقاتیں ایسے وقت میں ہوئیں جب غزہ میں “اسرائیل” کی جانب سے جنگ بندی کی روزانہ خلاف ورزیاں جاری ہیں، جن میں تقریباً روزانہ فضائی حملے، زمینی کارروائیاں اور امداد پر سخت پابندیاں شامل ہیں۔
23 دسمبر کو جاری کردہ بیان میں غزہ گورنمنٹ میڈیا آفس نے بتایا کہ متعلقہ سرکاری اداروں نے “اسرائیل” کی جانب سے 875 خلاف ورزیاں دستاویزی شکل میں ریکارڈ کی ہیں، جن میں شامل ہیں:
- 265 واقعات: شہریوں پر براہِ راست فائرنگ
- 49 واقعات: فوجی گاڑیوں کی رہائشی علاقوں میں دراندازی
- 421 واقعات: فلسطینیوں اور ان کے گھروں پر گولہ باری اور حملے
- 150 واقعات: شہری عمارتوں اور تنصیبات کی مسماری اور تباہی
بیان کے مطابق ان خلاف ورزیوں کے نتیجے میں 411 فلسطینی شہید اور 1,112 زخمی ہوئے، جبکہ 45 افراد کو غیرقانونی طور پر گرفتار کیے جانے کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے، جو مسلسل تشدد اور قانونی خلاف ورزیوں کی عکاسی کرتے ہیں۔
انسانی امداد پر شدید پابندیاں
انسانی امداد کے محاذ پر بھی صورتحال نہایت تشویشناک ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ “اسرائیل” نے امداد کی ترسیل سے متعلق اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں۔
مقررہ مدت کے دوران 43,800 امدادی ٹرکوں میں سے صرف 17,819 ٹرک غزہ میں داخل ہونے دیے گئے، جو محض 41 فیصد یا اس سے بھی کم عملدرآمد کی شرح بنتی ہے۔
اسی طرح ایندھن کی ترسیل پر بھی سخت پابندیاں عائد رہیں۔ 3,650 طے شدہ ٹرکوں میں سے صرف 394 ایندھن کے ٹرک داخل ہونے دیے گئے، یعنی تقریباً 10 فیصد، جس کے باعث:
- اسپتال
- بیکریاں
- پانی کی تنصیبات
- نکاسیٔ آب کے مراکز
تقریباً مفلوج ہو کر رہ گئے، بیان میں کہا گیا۔

