بمانئڑئنگ ڈیسک (مشرق نامہ)برطانوی حکومت نے 2024 سے اب تک 10 لاکھ ڈالر سے زائد رقم سوشل میڈیا انفلوئنسرز کی خدمات حاصل کرنے پر خرچ کی ہے، تاکہ سرکاری مہمات کو فروغ دیا جا سکے۔ وزراء نوجوان عوام تک رسائی کے لیے ٹک ٹاک اور انسٹاگرام جیسے پلیٹ فارمز کا تیزی سے سہارا لے رہے ہیں۔
اس مجموعی رقم میں سے 5 لاکھ پاؤنڈ سے زائد صرف 2024 کے آغاز کے بعد خرچ کیے گئے۔ دو سالہ عرصے میں مختلف سرکاری محکموں نے مجموعی طور پر 215 انفلوئنسرز کی خدمات حاصل کیں۔ 2025 میں اس تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا، جب 126 انفلوئنسرز کو رکھا گیا، جبکہ اس سے ایک سال قبل یہ تعداد 89 تھی۔
فریڈم آف انفارمیشن ایکٹ کے تحت سامنے آنے والے اعداد و شمار کے مطابق، محکمہ تعلیم سب سے زیادہ خرچ کرنے والا ادارہ رہا، جس نے 2024 سے اب تک 3 لاکھ 50 ہزار پاؤنڈ انفلوئنسر مہمات پر خرچ کیے۔ محکمے نے 2025 میں 53 انفلوئنسرز کی خدمات حاصل کیں، جبکہ گزشتہ سال یہ تعداد 26 تھی۔
دیگر سرکاری محکمے جو بڑے پیمانے پر انفلوئنسرز سے کام لے رہے ہیں ان میں ہوم آفس، وزارتِ انصاف، وزارتِ دفاع اور محکمہ محنت و پنشن (DWP) شامل ہیں۔
اس اخراجات کو روایتی میڈیا میں کم ہوتی دلچسپی کو نظرانداز کرتے ہوئے نوجوان ووٹرز تک ڈیجیٹل مواد کے ذریعے براہِ راست پہنچنے کی حکمتِ عملی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
پریس رسائی پر سوالات
انفلوئنسرز کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ ہی حکومت کو ڈاؤننگ اسٹریٹ کے پریس لابی سسٹم میں تبدیلیوں پر صحافیوں کی جانب سے تنقید کا سامنا ہے۔
اسی ماہ کے آغاز میں، ڈاؤننگ اسٹریٹ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر برائے مواصلات ٹم ایلن نے اعلان کیا کہ نئے سال سے روزانہ ہونے والی پریس بریفنگز کی تعداد آدھی کر دی جائے گی۔ دوپہر کی بریفنگ، جس میں صحافی کسی بھی موضوع پر آزادانہ سوال کر سکتے تھے، مکمل طور پر ختم کر دی جائے گی۔
باقی رہنے والی صبح کی بریفنگ بعض اوقات ایسی پریس کانفرنسز سے بدل دی جائے گی جن میں خصوصی صحافیوں کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا کانٹینٹ کریئیٹرز کو بھی شرکت کی اجازت ہو گی۔
پارلیمانی لابی کے صحافیوں کی نمائندہ تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ ان تبدیلیوں سے حکومتی نگرانی کمزور اور معلومات تک رسائی محدود ہو جائے گی۔
وزراء کی آن لائن شخصیات سے قربت
وزراء تیزی سے ایسے افراد سے رابطہ کر رہے ہیں جن کے سوشل میڈیا پر بڑی تعداد میں فالوورز ہیں۔ برازیل میں منعقدہ COP30 موسمیاتی کانفرنس کے دوران سائنسدان سائمن کلارک نے وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کے ساتھ فیس ٹائم کال کو اپنے 73 ہزار انسٹاگرام فالوورز کے ساتھ شیئر کیا۔
جولائی میں، مہم چلانے والی کارکن اینا وائٹ ہاؤس (مدر پکا)، جن کے 4 لاکھ 44 ہزار فالوورز ہیں، نے وزیر تعلیم برجٹ فلپسن کے ساتھ انگلینڈ کے چائلڈ کیئر نظام کی خامیوں پر گفتگو کی ویڈیوز شیئر کیں۔
اسی طرح، ذاتی مالیات کے انفلوئنسرز کیمیرون اسمتھ اور ایبی فوسٹر کو اس پریس کانفرنس میں اگلی نشستیں دی گئیں، جس میں وزیر خزانہ ریچل ریوز نے ممکنہ ٹیکس اضافوں سے خبردار کیا۔
فلاح، تجارت اور انصاف سے متعلق مہمات
محکمہ محنت و پنشن (DWP) نے بتایا کہ اس نے 2025 میں آٹھ انفلوئنسرز پر 1 لاکھ 20 ہزار ڈالر سے زائد خرچ کیے، جبکہ پچھلے سال کسی انفلوئنسر کی خدمات حاصل نہیں کی گئی تھیں۔ محکمے کے مطابق ان مہمات کا مقصد عوام کو سرکاری پالیسیوں، سہولیات اور کمزور طبقوں کے لیے دستیاب امداد سے آگاہ کرنا تھا۔
محکمہ تجارت و کاروبار نے 2025 میں 39 ہزار ڈالر سے زائد انفلوئنسر مواد پر خرچ کیے۔ ان میں بیلا رابرٹس، کرش کارا، نوح بریئرلی، روتیمی میریمن-جانسن (مسٹر منی جار)، بیتھ فلر اور جیسمین شم شامل ہیں۔
وزارتِ انصاف نے بتایا کہ اس نے 2024 سے اب تک 12 انفلوئنسرز کے ساتھ کام کیا، بنیادی طور پر جیل افسران، پروبیشن افسران اور مجسٹریٹس کی بھرتی کے لیے۔
’نوجوان اور لاتعلق ووٹرز‘
یہ اعداد و شمار ٹینجرین نامی پبلک ریلیشنز ایجنسی نے حاصل کیے، جس کے مطابق حکومت “نوجوان اور سیاسی طور پر لاتعلق ووٹرز” کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ کئی محکموں نے “تجارتی وجوہات” کی بنیاد پر مکمل معلومات فراہم کرنے سے انکار کیا۔
ٹینجرین کے ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر سیم فسک نے کہا:
“عوام اب مستند آوازوں کے خواہاں ہیں اور وزراء کی پہلے سے رٹی رٹائی تقاریر دیکھنے سے اکتا چکے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ انفلوئنسرز کا استعمال حکومت کے لیے ایک دانشمندانہ قدم ہے، تاہم اصل چیلنج ایسا معیاری مواد تیار کرنا ہے جو جنریشن زیڈ کو اسکرول کرنے سے روک سکے۔
نرم سوالات یا وسیع رسائی؟
ڈاؤننگ اسٹریٹ کا مؤقف ہے کہ انفلوئنسرز ایسے سامعین تک پہنچنے کا مؤثر ذریعہ ہیں جو روایتی خبریں نہیں دیکھتے۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اس رجحان سے پالیسیوں پر سخت سوالات کی جگہ نرم اور غیر تکنیکی گفتگو لے سکتی ہے۔
وزیر اعظم کیئر اسٹارمر خود بھی اس رجحان کا حصہ بن چکے ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں ٹک ٹاک پر اکاؤنٹ بنایا اور اپنی ویڈیوز پر “قابلِ قبول” ردِعمل حاصل کیا، جبکہ وہ سب اسٹیک پلیٹ فارم سے بھی منسلک ہو چکے ہیں۔
سب اسٹیک پر اپنی پہلی پوسٹ میں اسٹارمر نے لکھا:
“لوگوں کو یہ جاننے کا حق ہے کہ ان پر اثر انداز ہونے والے فیصلے کیسے اور کیوں کیے جاتے ہیں، اور میں سمجھتا ہوں کہ تمام سیاستدانوں کو اس مقصد کے لیے نئے اور جدید طریقے آزمانے چاہئیں۔”

