مانئڑئنگ ڈیسک (مشرق نامہ)بیت لحم کے جنوب میں واقع قصبے خَلایل اللّوز پر اسرائیلی آبادکاروں کے حملے میں دس فلسطینی زخمی ہو گئے، جہاں فائرنگ اور تشدد کی اطلاعات ہیں۔ وائرل ویڈیوز میں آبادکاروں کو پتھراؤ کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جبکہ ایک آبادکار نیم خودکار رائفل سے مسلح نظر آتا ہے۔
فلسطینی ہلالِ احمر سوسائٹی کے مطابق ہفتے کی صبح اسرائیلی آبادکاروں کے حملے میں دس فلسطینی زخمی ہوئے۔ زخمیوں میں سے ایک شخص کو ران میں گولی لگی، جبکہ کم از کم تین افراد کو آبادکاروں کے تشدد کے نتیجے میں چوٹیں آئیں۔
ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے والے ادارے کے مطابق زخمیوں کی حالت تاحال واضح نہیں ہے۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی فوٹیج میں سفید قمیصیں اور یہودی ٹوپیاں (اسکل کیپس) پہنے آبادکاروں کو گاؤں کے اوپر واقع ایک ٹیلے پر کھڑے دیکھا جا سکتا ہے۔ ان میں سے ایک آبادکار واضح طور پر نیم خودکار رائفل سے مسلح ہے، جبکہ دیگر فلسطینی گھروں اور رہائشیوں کی جانب پتھر پھینکتے دکھائی دیتے ہیں۔
یہ حملہ مقبوضہ مغربی کنارے میں جاری آبادکار تشدد میں ایک اور سنگین اضافہ ہے، جہاں فلسطینی عوام کو مسلسل ہراسانی، زمینوں پر قبضے اور جسمانی حملوں کا سامنا ہے۔ فلسطینی ہلالِ احمر مختلف علاقوں میں آبادکاروں اور اسرائیلی قابض افواج کے ہاتھوں زخمی ہونے والوں کو مسلسل طبی امداد فراہم کر رہا ہے۔
یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب فرانس، جرمنی، اٹلی اور برطانیہ نے جمعرات کے روز “اسرائیل” سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی قانون کی پابندی کرے اور مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کرے۔ اناطولیہ نیوز ایجنسی کے مطابق غیرقانونی آبادکار حملے گزشتہ تقریباً دو دہائیوں میں بلند ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں۔
چاروں ممالک، جنہیں مشترکہ طور پر E4 کہا جاتا ہے، نے ایک مشترکہ بیان میں فلسطینی شہریوں کے خلاف آبادکار تشدد میں شدید اضافے کی مذمت کی اور مغربی کنارے میں استحکام پر زور دیا۔ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق صرف اکتوبر میں 264 آبادکار حملے ریکارڈ کیے گئے، جو 2006 میں منظم نگرانی کے آغاز کے بعد سب سے زیادہ ماہانہ تعداد ہے۔
گھروں کی مسماری اور گرفتاریاں
جمعے کی دوپہر اسرائیلی قابض افواج نے شمالی مغربی کنارے کے جنین کیمپ کے جنوب مغربی علاقوں میں متعدد گھروں کو مسمار کرنا شروع کیا۔
مقامی ذرائع کے مطابق اسرائیلی افواج نے طوباس میں ایک خاندان کو زبردستی گھر سے نکال کر اس مکان کو فوجی چوکی میں تبدیل کر دیا۔ اسی دوران شہر کے جنوب میں واقع الفارعہ کیمپ سے تین نوجوانوں کو حراست میں لیا گیا، جنہیں مبینہ طور پر سخت تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
شمالی مغربی کنارے کے طولکرم گورنریٹ میں بھی اسرائیلی حملے رپورٹ ہوئے، جہاں آبادکاروں نے بیت لید کے قصبے میں فلسطینی شہریوں پر حملہ کیا۔
اسرائیلی افواج نے رام اللہ گورنریٹ کے قصبوں کفر مالک اور سلواد پر بھی چھاپے مارے۔ رام اللہ کے شمال مشرق میں واقع سلواد میں سحر کے وقت فلسطینی نوجوانوں اور آبادکاروں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، جو مختلف شہروں اور قصبوں میں اسرائیلی افواج کی وسیع پیمانے پر چھاپہ مار کارروائیوں اور گرفتاریوں کے ساتھ ہوئیں۔

