اسلام آباد (مشرق نامہ) – قومی ایئرلائن پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) اپریل 2026 سے نئے مالک کے تحت چلائی جائے گی، جبکہ نجکاری کے معاہدے کے تحت ادارے میں تازہ سرمایہ بھی شامل کیا جائے گا۔ یہ بات بدھ کو وزیرِاعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی نے بتائی۔
عارف حبیب کارپوریشن کی سربراہی میں قائم کنسورشیم منگل کو براہِ راست نشر ہونے والی نیلامی میں پی آئی اے کے 75 فیصد حصص کے لیے سب سے بڑی بولی دینے والا فریق قرار پایا۔ اس پیش رفت کو حکومت کی جانب سے قومی ایئرلائن کی طویل عرصے سے التوا کا شکار نجکاری میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
کنسورشیم نے 135 ارب روپے کی بولی دی، جو حکومت کی مقررہ کم از کم قیمت 100 ارب روپے سے کہیں زیادہ تھی۔ یہ گزشتہ برس نجکاری کی ناکام کوشش کے برعکس ایک نمایاں تبدیلی سمجھی جا رہی ہے۔
محمد علی نے رائٹرز کو آن لائن انٹرویو میں بتایا کہ ریاست کی توقع ہے کہ اپریل 2026 تک نئی انتظامیہ ایئرلائن کے امور سنبھال لے گی۔ ان کے مطابق معاملہ اب نجکاری کمیشن کے بورڈ اور وفاقی کابینہ کی حتمی منظوری کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جو آئندہ چند دنوں میں متوقع ہے، جبکہ معاہدے پر دستخط ممکنہ طور پر دو ہفتوں کے اندر ہو جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ریگولیٹری اور قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے مالی معاملات کی تکمیل 90 دن کے اندر متوقع ہے۔
محمد علی کے مطابق حکومت کو اس معاہدے کے تحت ابتدائی طور پر 10 ارب روپے نقد موصول ہوں گے، جبکہ ریاست 25 فیصد حصص اپنے پاس برقرار رکھے گی، جن کی مالیت تقریباً 45 ارب روپے بتائی گئی ہے۔ ان کے بقول اس معاہدے کی ساخت اس انداز میں کی گئی ہے کہ ایئرلائن میں نیا سرمایہ شامل ہو، نہ کہ صرف ملکیت کی منتقلی ہو۔
انہوں نے وضاحت کی کہ حکومت ایسی صورتِ حال نہیں چاہتی تھی جس میں ایئرلائن فروخت ہو جائے، حکومت رقم وصول کر لے اور ادارہ اس کے باوجود مالی مشکلات کا شکار رہے۔
فاتح کنسورشیم میں کھاد بنانے والی کمپنی فاطمہ، نجی تعلیمی نیٹ ورک سٹی اسکول اور رئیل اسٹیٹ کمپنی لیک سٹی ہولڈنگز لمیٹڈ بھی شامل ہیں۔
مشیرِ نجکاری کے مطابق فوجی فاؤنڈیشن کے زیرِ انتظام فوجی فرٹیلائزر کمپنی نے نیلامی میں حصہ نہیں لیا، تاہم قواعد کے مطابق وہ بعد میں کنسورشیم میں شراکت دار کے طور پر شامل ہو سکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ خریدار کو دو مزید شراکت دار شامل کرنے کی اجازت ہو گی، جن میں کوئی موجودہ کنسورشیم پارٹنر یا غیر ملکی ایئرلائن بھی شامل ہو سکتی ہے، بشرطیکہ وہ اہلیت کے معیار پر پورا اتریں۔
ان کے مطابق اضافی شراکت داروں کی شمولیت سے مالی طاقت میں اضافہ ہو گا اور عالمی سطح کی ہوابازی مہارت بھی میسر آ سکے گی۔
محمد علی نے کہا کہ حفاظتی اقدامات کے طور پر ارنسٹ منی برقرار رکھنے اور معاہدے پر دستخط کے وقت اضافی ادائیگی کی شقیں شامل کی گئی ہیں، تاکہ اگر معاہدہ کسی مرحلے پر مکمل نہ ہو سکے تو حکومت دوسرے نمبر پر آنے والے بولی دہندہ سے رجوع کر سکے۔
ملازمین سے متعلق امور پر انہوں نے بتایا کہ خریدار کو لین دین کے بعد کم از کم 12 ماہ تک تمام ملازمین کو موجودہ شرائط پر برقرار رکھنا ہو گا۔ ان کے مطابق پی آئی اے کے افرادی قوت کی تعداد گزشتہ برسوں میں پہلے ہی کم ہو چکی ہے۔
یہ نجکاری بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے بھی گہری نظر سے دیکھی جا رہی ہے، جو پاکستان پر زور دے رہا ہے کہ سرکاری اداروں کے نقصانات کو روکا جائے۔ محمد علی نے کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری آئی ایم ایف کے ساتھ اصلاحات پر پاکستان کی ساکھ کے لیے ایک اہم امتحان ہے، کیونکہ خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کو نجی شعبے کے حوالے نہ کرنے کی صورت میں عوامی مالیات پر دباؤ دوبارہ بڑھ سکتا ہے۔
ان کے مطابق اس معاہدے کی تکمیل اصلاحات اور نجکاری کے عمل میں پیش رفت کا واضح اشارہ ہو گی، جبکہ حکومت پی آئی اے کے بعد دیگر نجکاری منصوبوں کی فہرست پر بھی کام کر رہی ہے۔

