بیجنگ (مشرق نامہ) – چین۔پاکستان ٹی وی ای ٹی۔انڈسٹریل سینٹر آف ایکسیلنس (سی پی ٹی آئی سی ای) کے چین فریق کے چیئرمین جن سونگ لی نے بتایا ہے کہ اس وقت 269 پاکستانی طلبہ زراعت سے متعلق شعبوں میں چین۔پاکستان مشترکہ ڈوئل ڈپلومہ پروگرامز میں زیرِ تعلیم ہیں۔
انہوں نے یہ بات بیجنگ میں واقع پاکستانی سفارت خانے میں منعقدہ پاکستان۔چین ٹی وی ای ٹی فورم کے دوسرے ایڈیشن میں اپنی پریزنٹیشن کے دوران کہی، جس کا عنوان اکیڈمیا اور صنعت کے اشتراک سے زرعی شعبے میں مہارتوں اور انسانی وسائل کی تیاری تھا۔ ان کے مطابق سی پی ٹی آئی سی ای کے فریم ورک کے تحت حالیہ برسوں میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔
جن سونگ لی نے وضاحت کی کہ 269 طلبہ ان ڈوئل ڈپلومہ پروگرامز میں داخل ہیں، جن میں سے 59 طلبہ پاکستان میں ابتدائی دو سالہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد مزید تعلیم کے لیے چین جا چکے ہیں، جبکہ 10 طلبہ ایسے ہیں جو دونوں ممالک سے تسلیم شدہ ڈوئل ڈپلومہ حاصل کر چکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ زراعت سے متعلق مختلف موضوعات پر قلیل مدتی مہارت آموز تربیتی پروگرامز بھی منعقد کیے گئے، جو رائل جے ڈبلیو بفلو ڈیزیز فری فارم جیسے چینی اداروں کے اشتراک سے منعقد ہوئے، جن سے تقریباً ایک ہزار کارپوریٹ ملازمین، اساتذہ اور طلبہ مستفید ہوئے۔
انہوں نے مزید کہا کہ زراعت سے وابستہ مختلف شعبوں کے لیے 14 بنیادی ڈیجیٹل کورسز بھی تیار کیے گئے ہیں، جن میں جدید زرعی ٹیکنالوجی، اینیمل ہسبنڈری اور ویٹرنری ٹیکنالوجی، اناج کے ذخیرے، ترسیل اور معیار و تحفظ، اور چینی جڑی بوٹیوں کی کاشت سے متعلق ٹیکنالوجی شامل ہے۔
سی پی ٹی آئی سی ای کے بورڈ آف مینجمنٹ کے رکن اور سیکریٹری کیو ہائیتاؤ کے مطابق یہ ادارہ پاکستان کو ہنرمند افرادی قوت کے عالمی مرکز کے طور پر ابھارنے میں سہولت فراہم کرنے کے لیے کوشاں ہے، تاکہ آبادی سے حاصل ہونے والے ممکنہ فوائد کو عملی شکل دی جا سکے۔ ان کے مطابق سی پی ٹی آئی سی ای کے پلیٹ فارم سے لاکھوں پاکستانی نوجوان فائدہ اٹھا چکے ہیں، جبکہ چین اور پاکستان کے مزید ٹی وی ای ٹی اداروں اور صنعتی اداروں کو اس اقدام میں شامل ہونے کی دعوت دی جا رہی ہے، تاکہ دونوں ممالک کے درمیان فنی و پیشہ ورانہ تعلیم و تربیت کے تعاون کو مزید فروغ دیا جا سکے۔
واضح رہے کہ چین۔پاکستان ٹی وی ای ٹی۔انڈسٹریل سینٹر آف ایکسیلنس کا قیام پاکستان کے نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن اور ٹینگ انٹرنیشنل ایجوکیشن گروپ کے اشتراک سے عمل میں آیا تھا، جو طویل عرصے سے چین۔پاکستان صنعت اور تعلیم کے باہمی تعاون کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم کی حیثیت رکھتا ہے۔
اب تک سی پی ٹی آئی سی ای کے تحت چین اور پاکستان کے تعلیمی اداروں کے درمیان زراعت، انفراسٹرکچر، توانائی، کان کنی، صحت، مکینیکل مینوفیکچرنگ، الیکٹرک گاڑیوں اور آئی سی ٹی سمیت مختلف شعبوں میں متعدد مشترکہ منصوبے شروع کیے جا چکے ہیں۔ ان منصوبوں میں ڈوئل ڈپلومہ پروگرامز، قلیل مدتی ’’چینی زبان اور فنی مہارت‘‘ تربیت، اساتذہ کی تربیت اور ڈیجیٹل کورسز کی مشترکہ تیاری شامل ہے۔
اس سے قبل چین کی وزارتِ تعلیم کے ووکیشنل اور ایڈلٹ ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل لی ژی اور وزارتِ انسانی وسائل و سماجی تحفظ کے بین الاقوامی تعاون ڈیپارٹمنٹ کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل ما ہیزو نے فورم میں شرکت کی اور کلیدی خطابات کیے۔
فورم سے پاکستان کے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال چوہدری، وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین، اور نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن کی چیئرپرسن اور سی پی ٹی آئی سی ای کی پاکستان فریق کی چیئرپرسن گل مینا بلال احمد نے ویڈیو پیغامات کے ذریعے خطاب کیا۔ ان رہنماؤں نے پاکستان کی زرعی صنعت کی ترقی کے لیے چین۔پاکستان ٹی وی ای ٹی تعاون کو مضبوط بنانے کی اہمیت اور فوری ضرورت پر زور دیا۔
چین میں پاکستان کے سفیر خلیل ہاشمی نے اپنے خطاب میں پاکستان کے ترجیحی معاشی شعبوں، بالخصوص زراعت، میں چینی سرمایہ کاری کے ساتھ فنی و پیشہ ورانہ تربیت کے انضمام کو نہایت اہم قرار دیا۔ ان کے مطابق صنعت، اکیڈمیا اور تحقیق کے اشتراک پر مبنی پائیدار مہارت سازی کا نظام قائم کرنا پیداواری صلاحیت میں اضافے، غذائی تحفظ کے حصول اور پاکستان میں جامع معاشی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔
فورم کا مقصد صنعت اور تعلیم کے انضمام کے ذریعے چین اور پاکستان کے ٹی وی ای ٹی اداروں اور زرعی شعبے سے وابستہ اداروں کے درمیان مزید مشترکہ منصوبوں کو فروغ دینا، پاکستانی نوجوانوں کی مہارتوں میں اضافہ کرنا اور دونوں ممالک کے درمیان زرعی صنعتی تعاون کو مزید گہرا کرنا تھا۔

