بیجنگ (مشرق نامہ) – چین میں پاکستان کے سفیر خلیل ہاشمی نے کہا ہے کہ پاکستان۔چین ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ (ٹی وی ای ٹی) فورم کے دوسرے ایڈیشن کو مکمل طور پر زرعی شعبے کے لیے وقف کیا گیا، جس میں اس شعبے کے دس ذیلی شعبوں کا احاطہ کیا گیا۔
فورم کے بعد اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے سفیر خلیل ہاشمی نے کہا کہ اس تقریب میں کئی منفرد پہلو شامل تھے اور یہ اپنی نوعیت کا پہلا اقدام تھا۔ ان کے مطابق اس فورم کا بنیادی مقصد پاکستان کی جانب سے 21 ترجیحی شعبوں میں چینی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کی کوششوں کو ان متوازی اقدامات کے ساتھ مربوط کرنا تھا، جن کا ہدف پاکستانی نوجوانوں کو فنی اور پیشہ ورانہ تربیت فراہم کرنا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگرچہ سرمایہ کاری، کارخانے اور صنعتی پارکس نہایت اہم ہیں، تاہم ان کی کامیابی کا انحصار بالآخر ایسے ہنرمند اور تربیت یافتہ افرادی قوت کی دستیابی پر ہوتا ہے جو انہیں مؤثر انداز میں چلا سکے۔ ان کے بقول اسی وسیع تر مقصد کو ایک منظم اور ہدفی حکمتِ عملی کے تحت آگے بڑھایا جا رہا ہے، جس کے لیے زرعی شعبے کو نقطۂ آغاز کے طور پر منتخب کیا گیا ہے۔
سفیر خلیل ہاشمی نے مختلف زرعی ذیلی شعبوں سے تعلق رکھنے والے چینی اداروں کی بھرپور شرکت پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ستمبر میں منعقد ہونے والی بزنس ٹو بزنس سرمایہ کاری کانفرنس میں شریک رہنے والے چینی زرعی ادارے بھی اس فورم میں شامل تھے، جبکہ پاکستانی اداروں کے نمائندے بعض بیجنگ میں واقع سفارت خانے میں موجود تھے اور بعض نے آن لائن شرکت کی۔ اس کے علاوہ متعدد زرعی کمپنیاں، صنعت سے وابستہ نمائندگان اور تنظیمیں بھی ورچوئل طور پر فورم میں شریک ہوئیں۔
انہوں نے کہا کہ سفارت خانہ فورم کے نتائج سے مطمئن ہے، بالخصوص اس آگاہی کے حوالے سے جو اس تقریب کے ذریعے پیدا ہوئی۔ ان کے مطابق پاکستانی زرعی اداروں اور تنظیموں کو اس بات کی ترغیب دی جا رہی ہے کہ وہ اپنی مخصوص ضروریات کی واضح نشاندہی کریں، تاکہ سفارت خانہ ان ضروریات کے مطابق انہیں متعلقہ چینی ووکیشنل تربیتی اداروں سے جوڑ سکے۔
مستقبل کے لائحۂ عمل پر روشنی ڈالتے ہوئے سفیر خلیل ہاشمی نے کہا کہ مثبت ردِعمل اور پیشکشوں کے اعلیٰ معیار نے اس فیصلے کو مزید مضبوط کیا ہے کہ شعبہ وار بنیادوں پر اس عمل کو جاری رکھا جائے۔ ان کے مطابق یہ عمل پاکستانی شراکت داروں کی جانب سے واضح طور پر بیان کردہ ضروریات کی بنیاد پر آگے بڑھے گا، جس کے نتیجے میں چینی اداروں کے ساتھ باہمی مفاد پر مبنی مؤثر روابط قائم کیے جا سکیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ 21 ترجیحی شعبوں میں شامل دیگر شعبوں کے لیے بھی اسی نوعیت کے فورمز منعقد کیے جائیں گے، جبکہ امکان ہے کہ اگلا فورم الیکٹرک گاڑیوں کے شعبے پر مرکوز ہوگا۔

