بیجنگ (مشرق نامہ) – چینی محققین نے فضائی معیار کا ایک نیا ماڈل تیار کیا ہے جو دو بڑے فضائی آلودہ عناصر، باریک ذراتی مادہ اور زمینی سطح پر اوزون، کی زیادہ درست انداز میں نقل و حرکت اور تشکیل کی سمیولیشن ممکن بناتا ہے۔
اس ماڈل کو ایمیشن اینڈ ایٹماسفیرک پروسیسز انٹیگریٹڈ اینڈ کپلڈ کمیونٹی ماڈل (ای پی آئی سی سی) کا نام دیا گیا ہے، جو خصوصاً تیزی سے ترقی پذیر خطوں میں پیچیدہ فضائی آلودگی کے مسائل کو سمجھنے اور ان سے نمٹنے کے لیے ایک مؤثر سائنسی ذریعہ فراہم کرتا ہے۔
ماضی کے فضائی معیار ماڈلز کے برعکس، جو عموماً انفرادی محققین یا محدود ٹیموں کے ذریعے تیار کیے جاتے تھے اور جس کے باعث مجموعی پیش رفت محدود رہتی تھی، اس منصوبے میں اشتراکی فریم ورک اپنایا گیا۔ اس مقصد کے لیے سائنس دانوں نے ای پی آئی سی سی ماڈل ورکنگ گروپ قائم کیا، جس میں 13 اداروں سے تعلق رکھنے والے 59 محققین شامل تھے۔ ان اداروں میں چائنیز اکیڈمی آف سائنسز کے انسٹیٹیوٹ آف ایٹماسفیرک فزکس، تسنگ ہوا یونیورسٹی اور پیکنگ یونیورسٹی شامل ہیں۔
فضائی معیار کے ماڈلز زیریں فضا میں آلودہ ذرات کی تشکیل، ترسیل اور کیمیائی تبدیلیوں کے مطالعے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں اور مؤثر آلودگی کنٹرول پالیسیوں کی تشکیل میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ اگرچہ دنیا کے نمایاں فضائی ماڈلز تاریخی طور پر امریکا میں تیار ہوئے، تاہم محققین کے مطابق یہ ماڈلز ہمیشہ چین کی مخصوص آلودگی نوعیت کے لیے موزوں نہیں رہے، جس میں کوئلے کے دھویں، فوٹو کیمیکل اسموگ اور شدید دھند جیسے عناصر شامل ہیں۔
ای پی آئی سی سی ماڈل میں فضائی عمل سے متعلق تازہ ترین سائنسی تحقیق کو یکجا کیا گیا ہے۔ ماڈیولر ساخت کے باعث اس کے مختلف اجزا کو بآسانی اپ ڈیٹ یا تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ اس ماڈل میں جدید کیمیائی عمل کی نمائندگی بھی شامل کی گئی ہے، جن میں مینگنیز کی مدد سے سلفیٹ کی تشکیل اور ایروسول و سورج کی روشنی کے باہمی تعاملات شامل ہیں۔
ورکنگ گروپ کے مطابق کارکردگی کے ٹیسٹ سے یہ ثابت ہوا ہے کہ ای پی آئی سی سی ماڈل کا پہلا ورژن 2.5 مائیکرو میٹر یا اس سے کم قطر کے ذراتی مادے (پی ایم 2.5) اور اوزون کی سمیولیشن میں نمایاں بہتری لاتا ہے۔ یہ ان خامیوں کو بھی دور کرتا ہے جو سابقہ ماڈلز میں عام تھیں، جہاں سلفیٹ آلودگی کو کم اور موسمِ گرما میں اوزون کی مقدار کو زیادہ ظاہر کیا جاتا تھا۔
محققین کے مطابق یہ ماڈل نہ صرف چین بلکہ دیگر تیزی سے ترقی کرنے والے ممالک کے لیے بھی ایک مؤثر فیصلہ سازی کا ذریعہ بن سکتا ہے، جو اسی نوعیت کے پیچیدہ فضائی آلودگی مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔
اس نئے ماڈل کی تفصیلات پر مبنی تحقیق جرنل ایڈوانسز اِن ایٹماسفیرک سائنسز میں شائع کی گئی ہے۔

