واشنگٹن (مشرق نامہ) – لاس اینجلس میں قائم پاکستانی قونصل خانے نے بدھ کے روز آن لائن گردش کرنے والے ایک جعلی پیغام کے حوالے سے سخت انتباہ جاری کیا، جس میں پاکستان ویزا سے متعلق ایک مبینہ اہم نوٹس کا جھوٹا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ قونصل خانے نے عوام کو فشنگ اسکیمز سے محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے، جن کا مقصد حساس ذاتی اور مالی معلومات چرانا ہے۔
قونصل خانے کے حکام کے مطابق یہ جعلی پیغام، جو سوشل میڈیا اور مختلف میسجنگ پلیٹ فارمز پر پھیلایا جا رہا ہے، حکومتِ پاکستان کی جانب سے مجاز نہیں اور یہ ویزا درخواست دہندگان کو نشانہ بنانے والی فراڈ سرگرمیوں کے ایک وسیع سلسلے کا حصہ ہے۔
قونصل خانے کی ویب سائٹ پر نمایاں طور پر جاری بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ قونصل جنرل آفس کسی بھی غیر مجاز فرد، ایجنٹ یا ادارے سے خود کو لاتعلق قرار دیتا ہے اور ایسے عناصر سے رابطے کے نتیجے میں ہونے والے کسی بھی نقصان، تاخیر، غلط بیانی یا دیگر نتائج کا ذمہ دار نہیں ہوگا۔
بیان کے مطابق جعلی پیغام خود کو قونصل خانے سے منسوب ظاہر کرتا ہے اور درخواست دہندگان کو غیر مجاز لنکس کے ذریعے معلومات فراہم کرنے کی ہدایت دیتا ہے، جس کے نتیجے میں پاسپورٹ کی تفصیلات، سوشل سیکیورٹی نمبرز، بینک اکاؤنٹ معلومات اور کریڈٹ کارڈ ڈیٹا حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اس نوعیت کی معلومات بعد ازاں شناختی چوری، مالی فراڈ اور دیگر مجرمانہ سرگرمیوں میں استعمال کی جا سکتی ہیں۔
قونصل خانے نے اس امر پر زور دیا کہ پاکستانی ویزا کے لیے درخواستیں صرف حکومتِ پاکستان کے سرکاری آن لائن پورٹل کے ذریعے ہی جمع کرائی جائیں، جو نادرا کے زیرِ انتظام ہے۔ عوام کو یہ بھی ہدایت کی گئی کہ وہ کسی بھی قسم کے ثالث، ایجنٹ یا غیر سرکاری ویب سائٹس سے گریز کریں، خواہ وہ تیز تر کارروائی یا خصوصی سہولت کے دعوے ہی کیوں نہ کریں۔
حکام نے آن لائن ذاتی اور مالی معلومات شیئر کرنے میں انتہائی احتیاط برتنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ویزا درخواست کے نام پر سوشل سیکیورٹی نمبر، بینک تفصیلات یا دیگر شناختی معلومات طلب کیے جانے کو خطرے کی علامت سمجھا جائے۔ عوام سے کہا گیا کہ وہ ہر معلومات کی تصدیق سرکاری ذرائع سے کریں اور مشکوک پیغامات یا ویب سائٹس کی اطلاع متعلقہ اداروں کو دیں۔
قونصل خانے کے مطابق یہ ایڈوائزری عوامی مفاد میں جاری کی گئی ہے تاکہ درخواست دہندگان کو ایسے فراڈ سے بچایا جا سکے جن کے مالی اور ذاتی اثرات نہایت سنگین ہو سکتے ہیں۔ ویزا سے متعلق مستند رہنمائی اور تازہ معلومات کے لیے درخواست دہندگان کو قونصل خانے کی ویب سائٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں آن لائن فراڈ کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔ امریکی فیڈرل ٹریڈ کمیشن کے مطابق صرف 2024 میں امریکا میں صارفین کو فراڈ کے باعث 12.5 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان رپورٹ ہوا، جو گزشتہ برسوں کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے، جبکہ جعلساز فشنگ، شناختی چوری اور جعلسازی پر مبنی طریقوں کو تیزی سے استعمال کر رہے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران کریڈٹ کارڈ فراڈ اور شناختی چوری کے کیسز میں بھی واضح اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ چوری شدہ ذاتی اور مالی معلومات کس طرح ناجائز مقاصد کے لیے استعمال کی جا رہی ہیں۔ اسی طرح سائبر سیکیورٹی محققین نے 2024 کے دوران پاکستان میں فشنگ حملوں میں 18 فیصد اضافے کی نشاندہی کی ہے، جہاں دھوکا دہی پر مبنی لنکس اور جعلی پیغامات کے ذریعے افراد کو نشانہ بنایا گیا۔
حکام نے بتایا کہ امریکا اور دیگر ممالک میں عدالتیں متعدد ایسے افراد کو سزائیں بھی سنا چکی ہیں جو کروڑوں ڈالر کے فشنگ اور فراڈ نیٹ ورکس میں ملوث تھے، جہاں متاثرین کو جعلسازی اور دھوکا دہی کے ذریعے لوٹا گیا۔ بعض کیسز میں متاثرہ افراد اپنی تمام عمر کی جمع پونجی سے محروم ہو گئے، کیونکہ چوری شدہ معلومات کے ذریعے بینک اکاؤنٹس تک رسائی، جعلی قرضوں کا حصول اور غیر مجاز مالی لین دین ممکن بنایا گیا۔

