بدھ, فروری 11, 2026
ہومبین الاقوامیاسرائیلی نژاد کمپنی Deel کے ساتھ شراکت پر آرسنل کو شدید ردِعمل...

اسرائیلی نژاد کمپنی Deel کے ساتھ شراکت پر آرسنل کو شدید ردِعمل کا سامنا
ا

مانئڑئنگ ڈیسک (مشرق نامہ )آرسنل فٹبال کلب کی جانب سے اسرائیلی نژاد ہیومن ریسورس اور پے رول پلیٹ فارم Deel کے ساتھ نئی شراکت داری کے اعلان پر کلب کے بعض مداحوں اور فلسطین نواز حلقوں کی طرف سے سخت تنقید سامنے آئی ہے۔

12 دسمبر کو آرسنل نے Deel کے ساتھ کئی سالہ معاہدے کا اعلان کیا، جس کے تحت اس کمپنی کو کلب کا آفیشل HR پلیٹ فارم پارٹنر مقرر کیا گیا۔

اگرچہ کلب نے باضابطہ طور پر صرف HR شراکت کی تصدیق کی ہے، تاہم متعدد رپورٹس کے مطابق Deel، 2026–27 سیزن سے آرسنل کی جرسی کی آستین پر لگنے والا نیا اسپانسر بھی بننے جا رہا ہے، جب موجودہ معاہدہ ختم ہو جائے گا۔ اس طرح Deel، Visit Rwanda کی جگہ لے گا۔

یہ پیش رفت اس اعلان کے بعد سامنے آئی ہے کہ آرسنل نے گزشتہ ماہ Visit Rwanda کے ساتھ اپنا معاہدہ مزید آگے نہ بڑھانے کا فیصلہ کیا تھا۔ یہ معاہدہ 2018 میں شروع ہوا تھا اور اس کی مالیت تقریباً ایک کروڑ پاؤنڈ سالانہ بتائی جاتی ہے۔

Visit Rwanda کی شراکت کو مداحوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے مسلسل تنقید کا سامنا رہا، خاص طور پر مشرقی جمہوریہ کانگو میں M23 ملیشیا کی روانڈا کی حمایت کے باعث۔

آرسنل سپورٹرز ٹرسٹ کی جانب سے رواں سال کیے گئے ایک سروے میں 90 فیصد سے زائد شرکاء نے اس معاہدے کے خاتمے کی حمایت کی تھی۔

تاہم Deel کے نئے پارٹنر کے طور پر اعلان نے ایک بار پھر آن لائن شدید ردِعمل کو جنم دیا ہے۔

Deel کی بنیاد 2019 میں اسرائیلی کاروباری شخصیت ایلکس بوازیز اور شوؤ وانگ نے رکھی تھی، اور اس کمپنی کی مالیت 17.3 ارب ڈالر بتائی جاتی ہے۔

تنقید کرنے والوں نے بوازیز کے ان عوامی بیانات کی طرف اشارہ کیا ہے جن میں انہوں نے اسرائیل اور اسرائیلی ریزرو فوجیوں کی حمایت کی، نیز بوازیز اور دیگر اعلیٰ عہدیداروں کی جانب سے اسرائیلی فوجیوں کے لیے کپڑے اور سامان خریدنے کے اقدامات کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی نسل کشی کے تناظر میں یہ شراکت آرسنل کے مساوات اور نسل پرستی کے خلاف دعوؤں سے مطابقت نہیں رکھتی۔

سوشل میڈیا پر کئی صارفین نے آرسنل پر الزام لگایا کہ اس نے ایک متنازع اسپانسر کو ہٹا کر دوسرا متنازع شراکت دار اختیار کر لیا ہے۔

ایک مداح نے لکھا:

“شرمناک۔ Visit Rwanda کو ہٹایا، صرف ایک اسرائیلی کمپنی کو لینے کے لیے۔”

کچھ صارفین نے آرسنل کی مصنوعات کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا، جبکہ دیگر نے اس معاہدے کو “بے حسی پر مبنی” (tone deaf) قرار دیا اور کہا کہ آرسنل کو اپنا نام بدل کر “Genocide FC” رکھ لینا چاہیے۔

یہ تنازع آرسنل کی جانب سے دسمبر 2024 میں طویل عرصے سے خدمات انجام دینے والے کٹ مین مارک بونک کو فلسطین کے حق میں سوشل میڈیا پوسٹس کرنے پر برطرف کیے جانے کے معاملے کو بھی دوبارہ سامنے لے آیا۔ مداحوں نے سوال اٹھایا کہ ایک طرف فلسطین کے حق میں آواز اٹھانے والے ملازم کو نکالا گیا، جبکہ دوسری طرف ایسی کمپنی سے شراکت کی جا رہی ہے جس پر اسرائیل کی حمایت کے الزامات ہیں۔

ایک صارف نے لکھا:

“یہ سب مارک بونک کو فلسطین کے حق میں پوسٹس پر نکالنے کے بعد؟”

اس شدید ردِعمل کے برعکس، کچھ فٹبال بزنس تجزیہ کاروں نے اس شراکت کو سراہا۔ سابق ایورٹن چیف ایگزیکٹو کیتھ وائنِس نے Deel کو ایک “قابلِ اعتبار” کمپنی قرار دیا اور کہا کہ Visit Rwanda کے متبادل کے طور پر مالی طور پر ہم پلہ اسپانسر تلاش کرنے پر آرسنل کو سراہا جانا چاہیے۔

شراکت کے اعلان کے موقع پر آرسنل کی چیف کمرشل آفیسر جولیئٹ سلاٹ نے کہا کہ Deel کا “عالمی پلیٹ فارم ہمارے عزائم اور آپریشنز کے پیمانے سے مطابقت رکھتا ہے”، جبکہ بوازیز نے اس معاہدے کو کمپنی کی عالمی توسیع میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا۔

آرسنل سے اس شراکت پر ہونے والی تنقید کے حوالے سے مؤقف جاننے کے لیے رابطہ کیا گیا، تاہم خبر شائع ہونے تک کلب کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین