دیر دبوان، مغربی کنارۂ غربِ اردن (مشرق نامہ)| 24 دسمبر 2025
یہودی آبادکاروں کی ایک چوکی اور میر (Or Meir) بہت چھوٹی ہے۔ سفید رنگ کے چند عارضی، پہلے سے تیار شدہ ڈھانچوں پر مشتمل یہ چوکی ایک مختصر کچی سڑک کے اختتام پر واقع ہے، جو روڈ 60 سے اوپر پہاڑی کی طرف جاتی ہے۔ روڈ 60 ایک اہم شاہراہ ہے جو اسرائیل کے زیرِ قبضہ مغربی کنارے کو دو حصوں میں تقسیم کرتی ہے۔
وقت گزرنے کے ساتھ، اسی نوعیت کے سادہ ڈھانچے پھیل کر بڑے اسرائیلی رہائشی منصوبوں میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ یہ ایک ایسے منصوبے کا حصہ ہیں جس کے بارے میں خود اسرائیلی کابینہ کے اراکین تسلیم کرتے ہیں کہ اسے فلسطینی ریاست کے قیام کو روکنے کے لیے نافذ کیا گیا۔
یہ عمل اکثر تشدد سے بھرپور ہوتا ہے۔ ایک بدوی خاندان نے رائٹرز کو بتایا کہ گزشتہ سال اور میر سے اتر کر آنے والے حملہ آوروں نے ان پر مولوتوف کاک ٹیل پھینکے اور انہیں فلسطینی ملکیت کی زمین سے بے دخل کر دیا۔ خاندان کا کہنا ہے کہ انہیں خدشہ ہے کہ وہ کبھی واپس نہیں لوٹ سکیں گے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹیلیگرام پر اور میر کے چینل پر پوسٹ کیے گئے پیغامات میں بدوی چرواہوں کو بھگانے کی خوشی منائی گئی ہے، جبکہ نئی آبادکاری کرنے والوں کے اس عزم کو بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ وہ جسے وہ “اسٹریٹیجک” علاقہ کہتے ہیں، اس پر مستقل کنٹرول قائم کریں گے۔
اقوامِ متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق، 2025 فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی شہریوں کے حملوں کے لحاظ سے مغربی کنارے میں اب تک کے سب سے پُرتشدد برسوں میں سے ایک رہا ہے۔ ان حملوں میں 750 سے زائد افراد زخمی ہوئے، جبکہ ان علاقوں میں آبادکار چوکیوں میں تیزی سے اضافہ ہوا جہاں فلسطینی مستقبل کی ریاست کا مرکز بننے کی امید رکھتے ہیں۔
اسرائیلی غیر سرکاری تنظیم پیس ناؤ (Peace Now) کے مطابق، 2025 میں 80 نئی آبادکار چوکیاں قائم کی گئیں، جو 1991 میں ریکارڈ رکھنے کے آغاز کے بعد سب سے زیادہ تعداد ہے۔ 21 دسمبر کو اسرائیلی کابینہ نے مزید 19 بستیوں کی منظوری دی، جن میں سابقہ چوکیاں بھی شامل ہیں۔ وزیرِ خزانہ بتسلئیل سموٹریچ نے کہا کہ اس کا مقصد فلسطینی ریاست کے قیام کو روکنا ہے۔
کئی دہائیوں سے آبادکار گروہ مغربی کنارے کی زمین پر اسرائیلی ریاست کی باضابطہ منظوری کے بغیر چوکیاں قائم کرتے رہے ہیں۔ مغربی کنارے میں اسرائیلی حکام بعض اوقات ایسی چوکیوں کو مسمار کر دیتے ہیں، مگر وہ اکثر دوبارہ قائم ہو جاتی ہیں اور کئی معاملات میں بعد ازاں اسرائیل انہیں باقاعدہ بستیوں کے طور پر تسلیم کر لیتا ہے۔ سموٹریچ نے زیادہ سے زیادہ چوکیوں کو قانونی حیثیت دینے کی کوششوں کو آگے بڑھایا ہے۔
دنیا کے بیشتر ممالک بین الاقوامی قانون، خصوصاً فوجی قبضے سے متعلق قوانین کے تحت، مغربی کنارے میں اسرائیل کی تمام آبادکاری سرگرمیوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہیں، تاہم اسرائیل اس موقف سے اختلاف کرتا ہے۔

