مانئڑئنگ ڈیسک (مشرق نامہ)عمان کی ثالثی میں طے پانے والے ایک نئے معاہدے کے تحت یمن کی جنگ سے وابستہ تقریباً 3,000 قیدیوں کی رہائی متوقع ہے۔
یمن کی جنگ کے دوران قید رکھے گئے تقریباً تین ہزار قیدیوں کے تبادلے پر اتفاق ہو گیا ہے، جن میں یمنی، سعودی اور سوڈانی قیدی شامل ہیں۔ یہ معاہدہ نگران کمیٹی (Supervisory Committee) کے دسویں مرحلے کے مذاکرات کے اختتام پر طے پایا، جو سلطنتِ عمان میں منعقد ہوئے۔
بارہ روز تک جاری رہنے والے ان مذاکرات کا محور قیدیوں کی رہائی کے معاہدے پر عملدرآمد تھا۔ بات چیت کے نتیجے میں تنازع میں شامل تمام فریقوں کے درمیان قیدیوں کی رہائی کے ایک نئے مرحلے پر اتفاق رائے ہوا۔ یہ معاہدہ مسقط میں عمانی ثالثی کے تحت دستخط کیا گیا، جو برسوں سے جاری جنگ اور تعطل کا شکار سیاسی عمل کے درمیان ایک اہم انسانی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
عمان نے اس معاہدے کا خیرمقدم کیا اور 9 سے 23 دسمبر 2025 کے دوران ہونے والے مذاکرات میں پائے جانے والے تعمیری ماحول کو سراہا۔ عمانی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں سعودی عرب کے تعاون، اقوامِ متحدہ کے یمن کے لیے خصوصی ایلچی، اور بین الاقوامی کمیٹی برائے ریڈ کراس (ICRC) کی کوششوں کی تعریف کی۔
وزارت نے کہا کہ یہ معاہدہ ایک اہم انسانی قدم ہے اور اس سے یمن کی صورتحال سے متعلق دیگر زیر التوا مسائل کے حل کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
قومی مذاکراتی وفد کے سربراہ محمد عبدالسلام نے تصدیق کی کہ سعودی فریق اور دیگر متعلقہ فریقوں کے ساتھ بڑے پیمانے پر قیدیوں کے تبادلے پر اتفاق ہو گیا ہے۔ ان کے مطابق اس معاہدے میں ہزاروں یمنی قیدیوں کے ساتھ ساتھ سعودی اور سوڈانی قیدیوں کی رہائی بھی شامل ہے۔ انہوں نے مذاکرات کی کامیابی میں مرکزی کردار ادا کرنے پر سلطنتِ عمان کا شکریہ ادا کیا۔
تبادلے کی تفصیلات
قومی کمیٹی برائے امورِ قیدیان کے سربراہ بریگیڈیئر جنرل عبدالقادر المرتضیٰ نے مزید وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ معاہدے کے تحت 1,700 یمنی قیدیوں کے بدلے دیگر فریقوں کے زیرِ حراست 1,200 قیدیوں کو رہا کیا جائے گا۔
رہا ہونے والوں میں 7 سعودی شہری اور 23 سوڈانی قیدی شامل ہیں۔ المرتضیٰ نے بھی مذاکرات کی میزبانی اور سرپرستی پر عمان کا شکریہ ادا کیا۔
انصار اللہ نے اس سے قبل 2023 میں “سب کے بدلے سب” (All for All) کے اصول پر جامع قیدی تبادلے کی آمادگی ظاہر کی تھی، جس میں تمام جنگی قیدیوں کی بیک وقت رہائی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ تازہ معاہدہ عملی طور پر اسی ہدف کے مزید قریب دکھائی دیتا ہے۔
کشیدگی میں کمی کا اہم ستون
قیدیوں کے تبادلے کی نگرانی کرنے والی کمیٹی 2018 کے اسٹاک ہوم معاہدے کے تحت قائم کی گئی تھی اور اس کی مشترکہ صدارت اقوامِ متحدہ اور آئی سی آر سی کرتے ہیں۔ اس کا مینڈیٹ جنگ سے وابستہ تمام قیدیوں، لاپتہ افراد اور جبری طور پر غائب کیے گئے افراد کی رہائی کی نگرانی کرنا ہے۔ یہ ان چند میکانزمز میں سے ایک ہے جو وسیع تر سیاسی تعطل کے باوجود اب تک فعال رہے ہیں۔
دسمبر 2025 کا یہ معاہدہ اکتوبر 2020 کے بعد سب سے بڑا قیدی تبادلہ ہے اور اپریل 2023 کے تبادلے (جس میں 887 قیدی شامل تھے) سے بھی بڑا ہے۔ یہ معاہدے مجموعی طور پر کشیدگی میں بتدریج کمی کے رجحان کی عکاسی کرتے ہیں، جہاں انسانی بنیادوں پر اقدامات کو فریقین کے درمیان تعلقات کو مستحکم کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
سعودی اور سوڈانی قیدیوں کی شمولیت خاص سیاسی اہمیت رکھتی ہے۔ ماضی میں انصار اللہ سعودی قیدیوں کو اعلیٰ سطحی دباؤ کے طور پر دیکھتا رہا ہے، جبکہ سوڈانی قیدی یمن کی جنگ میں سعودی قیادت میں قائم اتحاد کے تحت سوڈان کی فوجی شمولیت کی یاد دہانی ہیں۔
اس پورے عمل میں عمان کا کردار مرکزی رہا ہے۔ دیگر خلیجی ممالک کے برعکس، مسقط نے سعودی قیادت میں قائم اتحاد میں شرکت نہیں کی اور طویل عرصے سے سعودی–یمنی براہِ راست رابطوں کے لیے ایک غیر جانبدار مقام فراہم کرتا آیا ہے۔
مسقط میں معاہدے پر دستخط ہونا اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ عمان ایک اہم علاقائی ثالث کے طور پر ابھر چکا ہے اور یمن تنازع کے حل کی کوششیں اب زیادہ علاقائی نوعیت اختیار کر رہی ہیں۔
اگرچہ بندرگاہوں تک رسائی، تنخواہوں کی ادائیگی، اور جنگ سے سعودی عرب کے باضابطہ انخلا جیسے بڑے سیاسی و معاشی مسائل تاحال حل طلب ہیں، تاہم قیدیوں کے اس بڑے اور متنوع تبادلے کو اس بات کی مضبوط علامت سمجھا جا رہا ہے کہ یمن کی جنگ بڑے پیمانے کی عسکری کارروائیوں سے ہٹ کر ایک مذاکراتی حل کی سمت بڑھ رہی ہے۔

