بدھ, فروری 11, 2026
ہومبین الاقوامیچین، پاکستان کے اساتذہ کا اے آئی اور ایس ٹی ای ایم...

چین، پاکستان کے اساتذہ کا اے آئی اور ایس ٹی ای ایم کا اشتراک
چ

بیجنگ (مشرق نامہ) – چین اور پاکستان کے اساتذہ اور طلبہ نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور سائنسی تعلیم میں منصوبہ جاتی تدریس کے جدید رجحانات کو دریافت کرنے کے لیے مشترکہ طور پر منعقدہ دوسرے بیلٹ اینڈ روڈ یوتھ اینڈ سائنس ٹیچر کیپیسٹی امپروومنٹ ورکشاپ میں شرکت کی، جو حال ہی میں اختتام پذیر ہوئی۔

یہ چار روزہ بالمشافہ ورکشاپ 10 سے 14 دسمبر تک منعقد کی گئی، جس کا اہتمام چائنا ایسوسی ایشن فار سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے چلڈرن اینڈ یوتھ سائنس سینٹر اور پاکستان میں سائنس کلچر کے فروغ کے لیے سرگرم غیر منافع بخش ادارے، خوارزمی سائنس سوسائٹی، نے مشترکہ طور پر کیا۔ اس سے قبل 26 نومبر سے 7 دسمبر کے دوران منعقد ہونے والے چھ کامیاب آن لائن سیشنز میں دونوں ممالک کے 700 سے زائد سائنس اساتذہ اور نوجوان طلبہ نے شرکت کی۔

ورکشاپ کے مرکزی موضوعات “اے آئی سے تقویت یافتہ مضمون کی تدریس” اور “پروجیکٹ بیسڈ لرننگ” تھے، جن کے تحت عملی سرگرمیوں، تعلیمی اداروں کے دوروں اور ماہرین کے مکالموں کے ذریعے علمی تبادلے کا ایک متحرک پلیٹ فارم فراہم کیا گیا۔ چینی وفد نے کریسنٹ ماڈل ہائر سیکنڈری اسکول اور لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (لمز) کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ایس ٹی ای ایم کلاسز کا مشاہدہ کیا اور جدید تحقیقی لیبارٹریز کا جائزہ لیا۔

موضوعاتی سیمینارز کے دوران دونوں ممالک کے اساتذہ نے توانائی کی ترقی، انجینئرنگ تعلیم اور ٹیکنالوجی کے دور میں تعلیمی جدت جیسے اہم امور پر خیالات کا تبادلہ کیا، جس سے باہمی فہم و ادراک کو فروغ ملا۔

ورکشاپ کی سب سے زیادہ دلچسپ سرگرمیاں انٹرایکٹو سیشنز رہیں۔ “ہیمسٹر انٹرڈسپلنری چیلنج” میں چین اور پاکستان کے شرکاء پر مشتمل مشترکہ ٹیموں نے “ایکسٹریم وہیل” اور “اسپیگیٹی ریسنگ” جیسے چیلنجز مکمل کیے، جن میں تخلیقی صلاحیتوں کو انجینئرنگ اصولوں کے ساتھ یکجا کیا گیا۔ ایک اور سیشن میں جنریٹو اے آئی کو تدریسی مواد کی تیز تیاری اور نصاب کی بہتر تشکیل کے ایک مؤثر آلے کے طور پر متعارف کرایا گیا۔

ورکشاپ کا نقطۂ عروج “ژوان یوان گرین انرجی وہیکل چیلنج” قرار پایا، جہاں چینی اساتذہ کی رہنمائی میں پاکستانی طلبہ نے ابتدا سے ایک مکمل فعال برقی گاڑی تیار کی۔ جب طلبہ کی تیار کردہ صاف توانائی سے چلنے والی گاڑی نے کامیابی سے اپنا آزمائشی سفر مکمل کیا تو ہال میں خوشی اور جوش کا سماں پیدا ہو گیا، جو پائیدار جدت اور عملی تعلیم کی ایک طاقتور علامت تھا۔

اس موقع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے چینی تدریسی وفد کے رکن ما بین، جو پاکستان میں تدریس کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، نے کہا کہ عوامی سطح پر روابط کی بنیاد تعلیم ہے اور سائنس و ٹیکنالوجی جدت کے محرک ہیں۔ ان کے مطابق چین اور پاکستان کے اساتذہ کے مابین یہ سرحد پار تعاون جدید خیالات کے تبادلے اور عملی تجربات کے اشتراک کے لیے ایک اہم قدم ہے، اور مستقبل میں ایسے مزید مشترکہ اقدامات کی امید کی جا رہی ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین