بدھ, فروری 11, 2026
ہومبین الاقوامیزراعت کیلیے مہارتوں کی تیاری: پاکستان، چین کا بیجنگ میں دوسرا ٹی...

زراعت کیلیے مہارتوں کی تیاری: پاکستان، چین کا بیجنگ میں دوسرا ٹی وی ای ٹی فورم
ز

بیجنگ (مشرق نامہ) – پاکستان کے سفارت خانے، بیجنگ میں پاکستان اور چین کے درمیان دوسرے تکنیکی و پیشہ ورانہ تعلیم و تربیت (TVET) فورم کا انعقاد کیا گیا، جس میں پاکستان کے زرعی شعبے کے لیے مہارتوں کی ترقی کو مرکزی موضوع بنایا گیا۔ فورم کا مقصد تربیت، تعلیم اور صنعت کی ضروریات کو باہم مربوط کرنا تھا تاکہ زراعت سے وابستہ اہم شعبوں میں افرادی قوت کی مؤثر تیاری کو یقینی بنایا جا سکے۔

تقریب میں پاکستان اور چین کے سینئر حکام کے علاوہ دونوں ممالک کے زرعی ٹی وی ای ٹی اداروں اور کاروباری اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ شرکاء نے شعبہ جاتی بنیادوں پر مشترکہ تربیتی اقدامات کے امکانات کا جائزہ لیا اور پاکستان میں زراعت سے متعلقہ میدانوں کے لیے ہنرمند افرادی قوت تیار کرنے کے طریقوں پر تبادلۂ خیال کیا۔

مباحث کا محور ایسے تربیتی پروگرامز کی ضرورت رہا جو زرعی ذیلی شعبوں کے لیے مخصوص ہوں۔ ان میں زرعی ٹیکنالوجی، فوڈ پروسیسنگ، لائیو اسٹاک، ڈیری پیداوار اور فوڈ گریڈ پیکجنگ شامل ہیں۔ مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ ہدفی اور مرکوز تربیت پیداوار کے نظام کو بہتر بنانے اور جدید زرعی طریقوں کے فروغ میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔

ریکارڈ شدہ پیغامات میں پاکستان کے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات، وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق، اور نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن کی چیئرپرسن نے اس اقدام کا خیرمقدم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مہارتوں کی تربیت میں تعاون قومی ترقیاتی ترجیحات کے حصول اور زرعی افرادی قوت کو مضبوط بنانے میں مددگار ہوگا۔

چین کی وزارتِ تعلیم اور وزارتِ انسانی وسائل کے کلیدی مقررین نے بھی فورم سے خطاب کیا۔ انہوں نے اس اجتماع کو پیشہ ورانہ تعلیم میں پاکستان اور چین کے درمیان تعاون کو مزید گہرا کرنے کی جانب ایک عملی قدم قرار دیا اور کہا کہ تربیتی اداروں اور صنعت کے درمیان شراکت داری مہارتوں کو منڈی کی ضروریات سے ہم آہنگ کرنے اور طویل المدتی ترقیاتی اہداف کے حصول میں معاون ہو سکتی ہے۔

چین میں پاکستان کے سفیر خلیل ہاشمی نے اس بات پر زور دیا کہ تکنیکی و پیشہ ورانہ تعلیم کو پاکستان کے ترجیحی شعبوں، بالخصوص زراعت میں چینی سرمایہ کاری کے ساتھ جوڑنا ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق مہارتوں کی تربیت کو صنعتی سرگرمیوں کے ساتھ ہم قدم ہونا چاہیے تاکہ تربیت یافتہ افرادی قوت شعبہ جاتی ضروریات پوری کر سکے۔ انہوں نے تعلیمی اداروں اور صنعت کے درمیان تعاون کو پیداوار میں بہتری اور غذائی تحفظ کے فروغ کا مؤثر ذریعہ بھی قرار دیا۔

سفیر پاکستان نے شریک اداروں اور کاروباری نمائندوں کا شکریہ ادا کیا اور دونوں ممالک کے درمیان شعبہ جاتی ٹی وی ای ٹی تعاون کے فروغ میں سفارت خانے کے کردار کے تسلسل کا اعادہ کیا۔

فورم کے اختتام پر اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ پاکستان کے زرعی شعبے کی مخصوص مہارتوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے تعلیمی اداروں اور صنعت کے درمیان قریبی ہم آہنگی ناگزیر ہے، جسے پاکستان اور چین کے درمیان پائیدار تعاون کے ذریعے مؤثر طور پر آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین