بدھ, فروری 11, 2026
ہومبین الاقوامیفلسطین ایکشن کے قیدیوں کی حمایت پر گریٹا تھنبرگ برطانوی پولیس کے...

فلسطین ایکشن کے قیدیوں کی حمایت پر گریٹا تھنبرگ برطانوی پولیس کے ہاتھوں گرفتار
ف

مانئڑئنگ ڈیسک (مشرق نامہ)سویڈن کی ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ کو منگل کے روز لندن میں ایک احتجاج کے دوران پلے کارڈ اٹھانے پر برطانوی پولیس نے گرفتار کر لیا۔

گریٹا تھنبرگ نے ایک تختی اٹھا رکھی تھی جس پر لکھا تھا:

“میں فلسطین ایکشن کے قیدیوں کی حمایت کرتی ہوں۔ میں نسل کشی کی مخالفت کرتی ہوں۔”

اس وقت وہ وسطی لندن میں ایسپن انشورنس (Aspen Insurance) کے دفاتر کے باہر ہونے والے احتجاج میں شریک تھیں۔

سٹی آف لندن پولیس کے مطابق 22 سالہ ایک خاتون کو ایک کالعدم تنظیم فلسطین ایکشن کی حمایت میں پلے کارڈ آویزاں کرنے پر گرفتار کیا گیا، جو کہ انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 2000 کی دفعہ 13 کے تحت جرم ہے۔

فلسطین ایکشن، جو براہِ راست کارروائی کرنے والا ایک گروہ ہے، جولائی سے برطانوی حکومت کی جانب سے کالعدم قرار دیا جا چکا ہے۔ اس کے بعد سے برطانیہ میں سینکڑوں افراد کو اس گروہ کی حمایت کے اظہار پر گرفتار کیا جا چکا ہے۔

واقعے کی ویڈیو فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پولیس گریٹا تھنبرگ سے پلے کارڈ چھین رہی ہے جبکہ وہ زمین پر بیٹھی ہوئی ہیں، اور پلے کارڈ پر درج الفاظ کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

مزید فوٹیج میں انہیں کھڑا ہوتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جہاں ایک پولیس افسر انہیں کہتا ہے:

“ہم گاڑی کی طرف جائیں گے۔”

ایک اور افسر کہتا ہے:

“ہمیں آپ کا بازو پکڑ کر آپ کو لے جانے کی ضرورت نہیں،”

یہ کہتے ہوئے وہ انہیں قریبی پولیس وین کی طرف جانے پر آمادہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

جس پر گریٹا تھنبرگ جواب دیتی ہیں:

“میں نے کہا ہے کہ میں یہیں رہوں گی۔”

پولیس کا مؤقف

سٹی آف لندن پولیس کے ترجمان نے بتایا:

“آج صبح تقریباً 7 بجے فین چرچ اسٹریٹ پر ایک عمارت کو ہتھوڑوں اور سرخ پینٹ سے نقصان پہنچایا گیا۔

“ایک مرد اور ایک عورت کو املاک کو نقصان پہنچانے کے شبہے میں گرفتار کیا گیا۔ انہوں نے خود کو قریب ہی چپکا لیا تھا، اور خصوصی افسران انہیں علیحدہ کر کے تحویل میں لے جا رہے ہیں۔”

انہوں نے مزید کہا:

“کچھ دیر بعد ایک 22 سالہ خاتون بھی موقع پر پہنچی، جسے ایک کالعدم تنظیم (فلسطین ایکشن) کی حمایت میں ایک چیز (یعنی پلے کارڈ) دکھانے پر انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 2000 کی دفعہ 13 کے تحت گرفتار کیا گیا۔”

بھوک ہڑتال کرنے والے قیدیوں سے اظہارِ یکجہتی

یہ کارروائی ان چھ قیدیوں سے اظہارِ یکجہتی کے طور پر کی گئی جو اپنے ساتھ کیے جانے والے سلوک اور فلسطین ایکشن پر پابندی کے خلاف بھوک ہڑتال پر ہیں۔

بھوک ہڑتال میں شامل پہلے دو قیدی اب 52ویں دن میں داخل ہو چکے ہیں، جو ایک نہایت نازک مرحلہ ہے اور ان کی جان کو شدید خطرہ لاحق ہے۔

اسرائیلی اسلحہ ساز کمپنی سے منسلک انشورنس کمپنی کو نشانہ بنایا گیا

منتظمین کے مطابق منگل کے روز احتجاج کے لیے ایسپن انشورنس کو اس لیے منتخب کیا گیا کیونکہ یہ برطانیہ میں اسرائیل کی بڑی اسلحہ ساز کمپنی ایل بٹ سسٹمز (Elbit Systems) کو آجر ذمہ داری (Employer’s Liability) انشورنس فراہم کرتی ہے۔

پرزنرز فار فلسطین کے منتظمین نے مڈل ایسٹ آئی کو بتایا کہ فلسطین ایکشن کی براہِ راست کارروائیوں کے بعد، گروہ پر پابندی لگنے سے پہلے، اویوا (Aviva) اور الائنز (Allianz) دونوں نے ایل بٹ سسٹمز کو انشورنس فراہم کرنا بند کر دیا تھا۔

الائنز کے خلاف براہِ راست مہم کا آغاز 8 اکتوبر 2024 کو ہوا، جب فلسطین ایکشن نے ایک ہی دن میں کمپنی کے 10 دفاتر کو نشانہ بنایا اور مطالبہ کیا کہ ایل بٹ سسٹمز کو انشورنس دینا بند کی جائے۔ اس کے بعد یورپ بھر میں مزید کارروائیاں کی گئیں۔

اویوا کو بھی ایل بٹ سسٹمز کی برطانوی ذیلی کمپنی یو اے وی انجنز (UAV Engines) کے ساتھ انشورنس پالیسی کے باعث نشانہ بنایا گیا تھا۔

منتظمین کے مطابق، اویوا کی جانب سے یو اے وی انجنز کو فراہم کی جانے والی ملازمتی ذمہ داری انشورنس ستمبر کے آغاز میں ختم ہو گئی تھی۔

الائنز کی جانب سے ایل بٹ سسٹمز برطانیہ کو دی جانے والی انشورنس یکم نومبر کو ختم ہوئی، جس کے بعد اس کی جگہ ایسپن انشورنس نے کوریج فراہم کی، جسے منگل کے روز مظاہرین نے نشانہ بنایا۔

20 دسمبر کو اس معاملے پر سوال کیے جانے پر الائنز نے کہا تھا کہ اس کے

“اقوامِ متحدہ کے موجودہ خصوصی نمائندے کی رپورٹ میں جن سرکاری بانڈز کا ذکر ہے، ان میں اس کی کوئی سرمایہ کاری نہیں، ایل بٹ سسٹمز کے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں، اور وہ مشرقِ وسطیٰ سے متعلق کسی قسم کی سرمایہ کاری یا انڈر رائٹنگ سرگرمی میں شامل نہیں ہے۔”

مقبول مضامین

مقبول مضامین