مانئڑئنگ ڈیسک (مشرق نامہ )آذربائیجان کے ایک اعلیٰ صدارتی مشیر نے غزہ میں تعینات کی جانے والی بین الاقوامی فورس میں شمولیت کے حوالے سے باکو کے تحفظات ظاہر کیے ہیں۔
آذربائیجان کے صدر الہام علییف کے معاون، حکمت حاجییف نے کہا ہے کہ امریکی ثالثی میں طے پانے والے جنگ بندی منصوبے کے تحت تعینات کی جانے والی فورس میں شرکت آذربائیجان کے لیے مشکل ہوگی، جس کی وجہ انہوں نے فورس کے مینڈیٹ (اختیارات کے دائرہ کار) سے متعلق خدشات کو قرار دیا۔
نِکّے (Nikkei) سے گفتگو کرتے ہوئے حاجییف نے کہا کہ واشنگٹن نے باکو سے رابطہ کیا تھا تاکہ آذربائیجانی افواج کو اس فورس میں شامل کیا جا سکے، جسے امریکا “انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس” قرار دے رہا ہے۔
انہوں نے کہا:
“ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔”
گزشتہ ماہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے اس فورس کے قیام کے لیے ایک قرارداد منظور کی تھی، جسے ترکی، قطر، مصر، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، انڈونیشیا، پاکستان اور اردن کی سرکاری حمایت حاصل ہوئی۔
تاہم، اس کے بعد اب تک خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہو سکی۔
حاجییف نے خدشہ ظاہر کیا کہ سلامتی کونسل کی قرارداد میں
“غزہ میں فورس کے قواعدِ جنگ (Rules of Engagement)، کارروائی کے طریقۂ کار، اور مشن کے مینڈیٹ کے دائرۂ اختیار سے متعلق سوالات کا جواب نہیں دیا گیا۔”
انہوں نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ آذربائیجان 2023 تک ہمسایہ ملک آرمینیا کے ساتھ جنگ میں مصروف رہا ہے، اور ایسے میں عوام کو مزید فوجی دستے متحرک کرنے پر آمادہ کرنا مشکل ہوگا۔
اس فورس کی ذمہ داریوں میں غزہ میں سکیورٹی برقرار رکھنا، علاقے کو غیر فوجی بنانا، اور مستقبل کے لیے فلسطینی پولیس فورسز کی تربیت شامل ہوگی۔
تعیناتی میں تاخیر
امریکا کا ہدف تھا کہ اس فورس کی کارروائیاں نئے سال کے آغاز کے قریب شروع کر دی جائیں۔
مذاکرات سے واقف ذرائع نے اس ماہ کے آغاز میں مڈل ایسٹ آئی کو بتایا تھا کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ میں ترک فوجیوں کی تعیناتی قبول نہ کرنے کے باعث آذربائیجان، پاکستان، سعودی عرب اور انڈونیشیا جیسے شراکت دار ممالک بددل ہو گئے ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (US Central Command)، جسے غزہ میں انسانی امداد کی ترسیل اور فورس کے قیام کی ہم آہنگی کی ذمہ داری سونپی گئی ہے، نے اس ماہ کے آغاز میں دوحہ میں ایک اجلاس منعقد کیا۔
اس اجلاس میں کئی ممالک کو مدعو کیا گیا، مگر اسرائیل کی درخواست پر ترکی کو شامل نہیں کیا گیا۔
اردن کے شاہ عبداللہ نے اکتوبر کے آخر میں بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ اردن غزہ میں فوج نہیں بھیجے گا۔
اسی طرح نومبر میں متحدہ عرب امارات کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے بھی کہا تھا کہ موجودہ حالات میں ملک کے لیے اس فورس میں شامل ہونا مشکل ہوگا۔
ترک حکام نے، موضوع کی حساسیت کے باعث نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر، مڈل ایسٹ آئی کو بتایا کہ ترکی کی شرکت کے بارے میں ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔
ان کے مطابق، اس ماہ کے آخر میں اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان متوقع ملاقات اس معاملے میں مزید وضاحت فراہم کر سکتی ہے۔
ترکی پہلے ہی ممکنہ تعیناتی کے لیے ایک فوجی بریگیڈ تیار کر چکا ہے۔
انقرہ کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ ترک حکومت غزہ میں فوج تعینات کیے بغیر بھی گزارا کر سکتی ہے، تاہم انہیں خدشہ ہے کہ حماس کو ترکی کے سوا دیگر ممالک پر وہ اعتماد نہیں ہوگا، جس کے باعث یہ پورا انتظام مستقبل قریب میں انتشار کا شکار ہو سکتا ہے۔
ترکی کے فلسطینی تنظیم پر اثر و رسوخ نے ستمبر میں جنگ بندی معاہدے تک پہنچنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

