بدھ, فروری 11, 2026
ہومبین الاقوامیاسرائیلی وزیرِ دفاع کا شمالی غزہ میں آبادکاری کے منصوبوں کا اعلان

اسرائیلی وزیرِ دفاع کا شمالی غزہ میں آبادکاری کے منصوبوں کا اعلان
ا

مانئڑئنگ ڈیسک (مشرق نامہ)جنگ بندی معاہدے کو 75 دن گزرنے کے باوجود اسرائیل اب تک 411 سے زائد فلسطینیوں کو شہید کر چکا ہے جبکہ 1,112 سے زیادہ افراد زخمی ہو چکے ہیں۔

اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے شمالی غزہ میں غیر قانونی یہودی آبادیاں قائم کرنے کے منصوبوں کا انکشاف کیا ہے، جو اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی بڑھتی ہوئی خلاف ورزیوں کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔

منگل کے روز مغربی کنارے میں ایک یہودی بستی میں 1,200 رہائشی یونٹس کی تعمیر کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کاٹز نے کہا کہ “جب وقت مناسب ہوگا” تو اسرائیل شمالی غزہ میں نام نہاد “نحال” آبادیاں قائم کرے گا۔

نحال ایسی آبادیاں ہوتی ہیں جو اسرائیلی فوجی اہلکاروں کے ذریعے قائم کی جاتی ہیں۔ بین الاقوامی قانون کے مطابق مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی آبادیاں غیر قانونی ہیں۔

وزیرِ دفاع نے کہا:

“ہم غزہ کے اندر گہرائی تک موجود ہیں اور ہم پورے غزہ سے کبھی نہیں نکلیں گے – ایسی کوئی بات نہیں ہوگی۔”

انہوں نے مزید کہا:

“ہم یہاں حفاظت کے لیے ہیں اور اس بات کو روکنے کے لیے کہ جو کچھ ہوا وہ دوبارہ نہ ہو”،

یہ کہتے ہوئے انہوں نے 2005 سے قبل غزہ میں موجود 21 یہودی بستیوں کا حوالہ دیا، جن سے اسرائیل بعد میں نکل گیا تھا۔

کاٹز نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اسرائیلی فوج لبنان، شام اور مقبوضہ مغربی کنارے میں بدستور موجود ہے، اور دعویٰ کیا کہ اسرائیل “جہادی دشمنوں اور ہماری برادریوں اور آبادیوں کے درمیان ایک رکاوٹ” قائم کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا:

“ہم کسی پر اعتماد نہیں کرتے، اور کوئی ہمیں آ کر نہیں کہے گا کہ کوئی معاہدہ ہوگا۔ ہم شام میں ایک ملی میٹر بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔”

اس اعلان پر کئی انتہائی دائیں بازو کی آبادکار تنظیموں نے خوشی کا اظہار کیا ہے، جن میں نخالہ سیٹلمنٹ موومنٹ اور یشع کونسل شامل ہیں۔

یشع کونسل، جو یہودی بستیوں کی نمائندہ تنظیم ہے، نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ قدم

“دشمن کو یہ واضح پیغام دے گا کہ 7 اکتوبر کے قتلِ عام کی قیمت زمین کی صورت میں اور ہمیشہ کے لیے چکانی ہوگی۔”

ادھر نخالہ موومنٹ نے کہا کہ اس وقت 1,000 سے زائد خاندان ایسے ہیں جو “حقیقتاً غزہ میں آباد ہونے کے لیے تیار” ہیں، اور یہ کہ اسرائیلی عوام “غزہ کی پٹی میں یہودی آبادکاری” چاہتے ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا:

“عوام تیار ہیں، خاندان تیار ہیں اور علاقہ بھی تیار ہے۔ اب صرف فیصلے اور فوری عملی پیش رفت کی ضرورت ہے۔”

’گہرا اور بے مثال انسانی بحران‘

جنگ بندی کو 75 دن گزرنے کے بعد بھی اسرائیل 411 سے زائد فلسطینیوں کو شہید اور 1,112 سے زیادہ کو زخمی کر چکا ہے۔

غزہ کے سرکاری میڈیا آفس کے مطابق اکتوبر میں جنگ بندی کے آغاز کے بعد سے اسرائیلی فوج اب تک کم از کم 875 خلاف ورزیاں کر چکی ہے۔

مسلسل حملوں کے ساتھ ساتھ اسرائیل انسانی امداد کو غزہ میں داخل ہونے دینے کی اپنی ذمہ داریوں سے بھی مسلسل انحراف کر رہا ہے۔

دو ملین آبادی والے محصور علاقے کے لیے طے شدہ 43,800 امدادی ٹرکوں میں سے صرف 17,819 ٹرک غزہ میں داخل ہو سکے۔

مناسب رہائش، ادویات، خوراک، ایندھن اور دیگر بنیادی ضروریات کی شدید کمی نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔

میڈیا آفس نے سرد موسم، شدید بارشوں اور رہائش کی قلت کے باعث “گہرے اور بے مثال انسانی بحران” سے خبردار کیا ہے۔

مزید برآں، غزہ میں فلسطینی وزارتِ صحت کے شعبۂ فارمیسی کے ڈائریکٹر جنرل نے خبردار کیا ہے کہ بنیادی صحت مراکز سے رجوع کرنے والے تقریباً ڈھائی لاکھ افراد کے لیے درکار 62 فیصد سے زائد ادویات دستیاب نہیں ہیں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین