بدھ, فروری 11, 2026
ہومبین الاقوامیجاپان کی کرنسی میں مداخلت کی سخت ترین وارننگ، ین کو بنیادی...

جاپان کی کرنسی میں مداخلت کی سخت ترین وارننگ، ین کو بنیادی معاشی عوامل سے ہٹتا ہوا قرار دیا
ج

ٹوکیو،(مشرق نامہ) 23 دسمبر (رائٹرز) — جاپان کے وزیرِ خزانہ ساتسوکی کاتایاما نے منگل کے روز کہا کہ ین میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے نمٹنے کے لیے جاپان کے پاس مکمل اختیار موجود ہے۔ ان کے اس بیان کو اب تک کی سب سے سخت وارننگ قرار دیا جا رہا ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ٹوکیو کرنسی مارکیٹ میں تیز گراوٹ روکنے کے لیے مداخلت پر تیار ہے۔

کاتایاما نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا:

“یہ حرکات بالکل بھی بنیادی معاشی عوامل کی عکاسی نہیں کرتیں۔”

انہوں نے یہ بات گزشتہ ہفتے بینک آف جاپان (BOJ) کے گورنر کازوو اوئیڈا کی پریس کانفرنس کے بعد ین میں آنے والی کمی کے حوالے سے کہی۔

انہوں نے مزید کہا:

“مجھے نہیں لگتا کہ قیاس آرائیوں کے بغیر ین اس حد تک گرتا۔ حکومت غیر معمولی اتار چڑھاؤ کے خلاف مناسب اقدامات کرے گی،”

اور وضاحت کی کہ یہ مؤقف ستمبر میں امریکا کے ساتھ طے پانے والے زرِ مبادلہ پالیسی معاہدے کی بنیاد پر ہے۔

یہ بیانات زیادہ تر وہی ہیں جو انہوں نے پیر کو بلومبرگ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہے تھے۔

منگل کے روز کاتایاما کے بیان کے بعد ین مضبوط ہو کر تقریباً 156 ین فی ڈالر تک آ گیا، تاہم یہ جمعے کو چھونے والی 11 ماہ کی کم ترین سطح 157.78 سے زیادہ دور نہیں تھا۔

ستمبر میں جاری ہونے والے ایک مشترکہ بیان میں جاپان اور امریکا نے “مارکیٹ کے تعین کردہ” زرِ مبادلہ کی شرحوں کے عزم کا اعادہ کیا تھا، جبکہ اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ غیر ملکی زرِ مبادلہ میں مداخلت صرف غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے نمٹنے کے لیے کی جانی چاہیے۔

جاپانی پالیسی ساز اس بیان کو اس بات کی اجازت کے طور پر دیکھتے ہیں کہ جب ین کی حرکتیں معاشی بنیادوں سے ہٹ جائیں اور حد سے زیادہ اتار چڑھاؤ کا شکار ہوں تو مداخلت کی جا سکتی ہے۔

ٹوکیو نے آخری بار جولائی 2024 میں زرِ مبادلہ کی منڈی میں مداخلت کی تھی، جب ین 38 سال کی کم ترین سطح 161.96 فی ڈالر تک گر گیا تھا اور حکومت نے ین خرید کر اسے سہارا دیا تھا۔

اے این زیڈ کے جاپان میں فاریکس اور کموڈیٹیز سیلز کے ڈائریکٹر ہیرویوکی ماچیدا نے کہا:

“اگر ڈالر، بینک آف جاپان کی پریس کانفرنس کے بعد کی بلند سطحوں کو عبور کرتے ہوئے 158 ین یا اس سے آگے بڑھا، تو حکومت کسی نہ کسی مرحلے پر یقیناً مداخلت کرے گی۔”

کمزور ین جاپانی پالیسی سازوں کے لیے دردِ سر بن چکا ہے، کیونکہ اس سے درآمدی قیمتیں بڑھتی ہیں اور مجموعی مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں گھریلو اخراجاتِ زندگی میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

منگل کے بیانات، کاتایاما کے پیر کے مؤقف سے زیادہ سخت تھے، جب انہوں نے کہا تھا کہ جاپان مناسب اقدام کرے گا، مگر حالیہ ین کی حرکات کو بنیادی عوامل سے ہٹا ہوا قرار نہیں دیا تھا۔

بینک آف جاپان نے جمعے کو شرحِ سود بڑھا کر 0.75 فیصد کر دی، جو 30 برس میں بلند ترین سطح ہے۔ یہ دہائیوں پر محیط نرم مالیاتی پالیسی کے خاتمے کی سمت ایک اور اہم قدم تھا۔

اگرچہ اس اقدام سے امریکا اور جاپان کے درمیان شرحِ سود کا فرق کم ہوا، مگر ین پھر بھی کمزور ہوا، کیونکہ مارکیٹ نے گورنر اوئیڈا کی بعد از اجلاس پریس کانفرنس کے تبصروں کو اس اشارے کے طور پر لیا کہ بینک آف جاپان مزید شرحِ سود بڑھانے میں جلدی نہیں کر رہا۔

ماچیدا کے مطابق، ین کی حالیہ کمزوری کی وجہ ایک طرف حکومت کی افراطِ زر کو ابھارنے والی مالیاتی پالیسی اور دوسری طرف بینک آف جاپان کی اب بھی نرم مالیاتی پالیسی ہے

مقبول مضامین

مقبول مضامین