مانئڑئنگ ڈیسک (مشرق نامہ)وینزویلا کے صدر نیکولس مادورو نے کیریبین میں امریکا کی جانب سے فوجی طاقت میں خطرناک اضافے پر سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے واشنگٹن پر علاقائی امن کو خطرے میں ڈالنے اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔
لاطینی امریکا اور کیریبین کے رہنماؤں کے علاوہ اقوامِ متحدہ کے تمام رکن ممالک کے نام ایک باضابطہ پیغام میں، وینزویلا کے وزیرِ خارجہ ایوان گل نے صدر مادورو کے خدشات پہنچاتے ہوئے کہا کہ
“کیریبین میں امریکی فوجی کشیدگی علاقائی استحکام اور بین الاقوامی نظام کے لیے سنگین خطرہ ہے۔”
کاراکاس کے مطابق، امریکا نے انسدادِ منشیات کارروائیوں کے بہانے کیریبین میں کئی دہائیوں کی سب سے بڑی فضائی اور بحری تعیناتی شروع کر دی ہے، جس میں وینزویلا کے ساحل کے قریب ایک ایٹمی آبدوز کی موجودگی بھی شامل ہے۔ وینزویلا کا کہنا ہے کہ یہ اقدام طاقت کے براہِ راست استعمال کی دھمکی اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
حملے اور شہری ہلاکتیں
بیان میں امریکا پر یہ الزام بھی عائد کیا گیا ہے کہ اس کی افواج نے ستمبر سے دسمبر 2025 کے دوران کیریبین اور بحرالکاہل میں شہری جہازوں پر 28 حملے کیے۔ وینزویلا کے مطابق ان کارروائیوں کے نتیجے میں تقریباً 104 افراد کو ماورائے عدالت قتل کیا گیا، جو بین الاقوامی انسانی قانون اور بحری سلامتی کے کنونشنز کی صریح خلاف ورزی ہے۔
مادورو کی حکومت نے وینزویلا کے تیل بردار جہازوں کی ضبطی اور ملک کی توانائی برآمدات کو نشانہ بنانے والی بحری ناکہ بندی کی بھی شدید مذمت کی۔ ان اقدامات کو
“ریاستی قزاقی”
قرار دیا گیا، جو بین الاقوامی بحری جہاز رانی، عالمی توانائی منڈیوں اور قانونی تجارتی راستوں کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔
یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ امریکا کی جانب سے پابندیوں کے تحت وینزویلا میں داخل ہونے یا وہاں سے نکلنے والے تمام تیل بردار جہازوں پر مکمل ناکہ بندی نافذ کی جائے گی۔ ناقدین کے مطابق یہ اقدام صدر نیکولس مادورو کی حکومت کو الگ تھلگ کرنے اور حکومت کی تبدیلی کی مہم کا حصہ ہے۔
بحری گشت کے علاوہ، ٹرمپ کی وینزویلا پالیسی میں بین الاقوامی پانیوں میں وینزویلا کے قریب تین تیل بردار جہازوں کی ضبطی بھی شامل رہی ہے۔
مزید برآں، صدر مادورو نے لاطینی امریکا اور کیریبین کے ممالک سمیت عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ متحد ہو کر
“فوجی جارحیت، معاشی جنگ اور غیر قانونی مداخلت”
کے فوری خاتمے کا مطالبہ کریں۔
خط میں کہا گیا:
“وینزویلا امن اور مکالمے کے عزم کا اعادہ کرتا ہے، تاہم اپنے عوام، وسائل اور سرزمین کے دفاع کا خودمختار حق محفوظ رکھتا ہے۔”
پیغام کے اختتام پر امریکا کے اقدامات کی بین الاقوامی سطح پر مذمت، جوابدہی کے نظام کو فعال کرنے، اور کشیدگی روکنے کے لیے فوری سفارتی کوششوں پر زور دیا گیا، تاکہ بین الاقوامی اصولوں کی مزید خلاف ورزیوں کو روکا جا سکے

