مانئڑئنگ ڈیسک (مشرق نامہ)ترکی کے وزیرِ خارجہ حاقان فیدان نے کہا ہے کہ غزہ معاہدے کا دوسرا مرحلہ نئے سال 2026 کے ابتدائی ہفتوں میں شروع ہونے کی توقع ہے، جس میں غزہ کی انتظامیہ کو ایک فلسطینی قیادت پر مبنی نظام کے حوالے کرنا مرکزی نکتہ ہوگا۔
فیدان نے پیر کے روز بتایا کہ غزہ معاہدے پر دستخط کے بعد ہونے والی پیش رفت اور حالیہ صورتحال پر میامی میں امریکا، مصر اور قطر کے حکام کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں تفصیلی گفتگو کی گئی۔
دمشق میں اپنے شامی ہم منصب اسعد الشیبانی کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فیدان نے کہا کہ میامی اجلاس میں ان رکاوٹوں پر بھی بات ہوئی جن کا سامنا غزہ معاہدے کو رہا ہے، اور یہ جائزہ لیا گیا کہ آیا ان مشکلات کے حل کے لیے کوئی پیش رفت ہوئی ہے یا نہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ امریکی فریق نے غزہ کی تعمیرِ نو سے متعلق ابتدائی مطالعات پیش کیے، جن پر شرکا نے اپنی آرا اور تجاویز کا تبادلہ کیا۔ ان کے مطابق بات چیت میں یہ پہلو بھی شامل تھا کہ غزہ کے لیے پیش کردہ “امن منصوبے” میں طے شدہ اداروں کو عملی طور پر زمین پر کیسے نافذ کیا جائے۔
مصر، امریکا، قطر اور ترکی کا غزہ جنگ بندی پر بند کمرہ اجلاس
19 دسمبر کو فلوریڈا کے شہر میامی میں ہونے والے ایک بند کمرہ اجلاس میں امریکا، مصر، قطر اور ترکی کے حکام نے غزہ معاہدے کے دوسرے مرحلے کی تیاریوں پر تبادلۂ خیال کیا۔
شرکا نے پہلے مرحلے کی کامیابیوں کا جائزہ لیا، جن میں انسانی امداد کی فراہمی میں اضافہ، قیدیوں کی لاشوں کی واپسی، اور جزوی فوجی انخلا شامل تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے ان مشکلات کی نشاندہی کی جن کی وجہ سے اگلے مرحلے کی طرف منتقلی سست روی کا شکار رہی۔
اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ عبوری شہری اداروں کو فعال بنایا جائے اور منتقلی کے عمل میں مقامی فریقوں کے ساتھ رابطہ اور تعاون کو مضبوط کیا جائے۔ اجلاس کے اختتام پر تمام فریقوں سے تحمل کی اپیل کی گئی اور جنگ بندی کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے پر زور دیا گیا، تاکہ 20 نکاتی امن منصوبے پر عمل درآمد کا تسلسل برقرار رہے۔
حکام نے عندیہ دیا کہ آنے والے ہفتوں میں مزید مشاورت جاری رہے گی تاکہ باقی ماندہ مسائل حل کیے جا سکیں اور 2026 کے اوائل میں دوسرے مرحلے کا آغاز ممکن بنایا جا سکے۔
غزہ میں جنگ بندی معاہدے کا پہلا مرحلہ 11 اکتوبر 2025 کو نافذ ہوا تھا، تاہم اس دوران اسرائیلی خلاف ورزیاں بھی جاری رہیں۔
غزہ میں جنگ بندی کے دوسرے مرحلے سے ’اسرائیل‘ کی گریز
’اسرائیل‘ نے غزہ میں جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کی جانب بڑھنے میں تاخیر کی ہے اور اس کی وجہ ایک اسرائیلی قیدی کی لاش کی غزہ میں موجودگی کو قرار دیا ہے، حالانکہ فلسطینی مزاحمتی دھڑے مسلسل تلاش، ملبہ ہٹانے اور لاشیں ملتے ہی حوالے کرنے کا عمل جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ قابض قوت جنگ بندی معاہدے کے تحت اپنی متعدد ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہی۔
اکتوبر 2025 میں شروع ہونے والے جنگ بندی کے پہلے مرحلے کے دوران ’اسرائیل‘ پر لازم تھا کہ وہ غزہ میں انسانی امداد کی نمایاں مقدار داخل ہونے دے، جن میں یومیہ 600 امدادی ٹرکوں کی اجازت اور رفح سمیت اہم سرحدی گزرگاہوں کی بحالی شامل تھی، تاکہ ضروری اشیائے خوردونوش اور طبی سامان کی فراہمی ممکن ہو سکے۔
تاہم یہ وعدے مکمل طور پر پورے نہ ہو سکے۔ امدادی سامان کی آمد طے شدہ سطح سے کہیں کم رہی اور سرحدی گزرگاہیں بڑی حد تک بند رہیں، جس کے باعث خوراک، ادویات اور بنیادی خدمات کی شدید قلت برقرار رہی۔
مزید برآں، اگرچہ جنگ بندی کی شرائط کے تحت اسرائیلی فوج کی طے شدہ حدود تک واپسی اور فوجی کارروائیوں میں نمایاں کمی شامل تھی، مگر رپورٹس میں مسلسل حملوں اور فوجی نقل و حرکت کی نشاندہی کی گئی، جو ان شرائط کی خلاف ورزی تھیں۔ اس صورتحال نے استحکام اور تعمیرِ نو کی جانب پیش رفت کو سست کر دیا۔
ان نامکمل ذمہ داریوں نے غزہ میں انسانی مشکلات کو مزید بڑھا دیا ہے اور امن منصوبے کے دوسرے مرحلے کی جانب پیش رفت کی کوششوں کو شدید دھچکا پہنچایا ہے، کیونکہ اس مرحلے کا انحصار پہلے مرحلے کی مکمل پاسداری پر ہے

