بدھ, فروری 11, 2026
ہومبین الاقوامیپاکستان کا لیبیا کی فوج کے ساتھ 4 ارب ڈالر کا اسلحہ...

پاکستان کا لیبیا کی فوج کے ساتھ 4 ارب ڈالر کا اسلحہ معاہدہ
پ

اسلام آباد (مشرق نامہ) – پاکستانی حکام کے مطابق پاکستان نے لیبیا کی لیبیا نیشنل آرمی (ایل این اے) کو فوجی سازوسامان فروخت کرنے کے لیے چار ارب ڈالر سے زائد مالیت کا معاہدہ طے کر لیا ہے، حالانکہ شمالی افریقی ملک پر اقوامِ متحدہ کی جانب سے اسلحے کی پابندی عائد ہے۔

یہ معاہدہ، جو پاکستان کی تاریخ کے بڑے اسلحہ جاتی سودوں میں شمار ہوتا ہے، گزشتہ ہفتے مشرقی لیبیا کے شہر بن غازی میں پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ایل این اے کے ڈپٹی کمانڈر اِن چیف صدام خلیفہ حفتر کے درمیان ملاقات کے بعد حتمی شکل اختیار کر گیا۔ دفاعی امور سے وابستہ چار پاکستانی حکام نے اس کی تصدیق کی، تاہم معاہدے کی حساس نوعیت کے باعث انہوں نے نام ظاہر کرنے سے گریز کیا۔ پاکستان کی وزارتِ خارجہ، وزارتِ دفاع اور عسکری اداروں نے اس حوالے سے تبصرے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔

حکام کے مطابق یہ کثیر ارب ڈالر کا روایتی اسلحہ برآمدی معاہدہ دو اہم پہلوؤں کی عکاسی کرتا ہے۔ ایک جانب یہ وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی برآمدات پر مبنی خود کفیل معیشت کے وژن کی تائید کرتا ہے، جبکہ دوسری جانب پاکستان کی مقامی صنعتی صلاحیت اور عسکری سفارت کاری میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کے کردار کو اجاگر کرتا ہے۔

حالیہ برسوں میں پاکستان نے اپنی مقامی صنعتی بنیاد کو وسعت دینے میں نمایاں پیش رفت کی ہے، جس میں معدنیات، مصنوعی ذہانت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، کرپٹو کرنسی، بڑے پیمانے کی صنعت، زراعت اور دفاعی ٹیکنالوجیز شامل ہیں۔ حالیہ مشقِ حق میں پاکستان کی مقامی دفاعی مصنوعات کا مظاہرہ کیا گیا، جسے عالمی سطح پر سراہا گیا۔

پاکستان ایک طویل عرصے سے مختلف ممالک کو روایتی اسلحہ اور فوجی سازوسامان فراہم کرتا رہا ہے، تاہم لیبیا کے ساتھ طے پانے والا یہ معاہدہ حجم اور مالی اثرات کے اعتبار سے تاریخی قرار دیا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق یہ کامیابی عسکری سفارت کاری میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی صلاحیتوں کا مظہر ہے۔

لیبیا پر اقوامِ متحدہ کی اسلحہ پابندی کے حوالے سے حکام کا کہنا ہے کہ کئی بڑی مغربی اور مشرقِ وسطیٰ کی ریاستیں گزشتہ کئی برسوں سے لیبیا کو اسلحہ اور فوجی مدد فراہم کرتی رہی ہیں، جس کے باعث یہ پابندی عملی طور پر غیر مؤثر ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ ایک دہائی سے مختلف فریق ایک دوسرے کو اسلحہ فراہم کر رہے ہیں۔

اس معاہدے کے ذریعے پاکستان نے روایتی اسلحہ اور فوجی سازوسامان کے نمایاں برآمد کنندگان کے کلب میں شمولیت کا اعلان کر دیا ہے۔ تاہم رائٹرز کے مطابق لیبیا میں 2011 میں نیٹو کی حمایت سے ہونے والی بغاوت کے بعد جاری عدم استحکام کے باعث اس معاہدے کو عالمی سطح پر جانچ پڑتال کا سامنا ہو سکتا ہے۔

ایل این اے کے سرکاری میڈیا چینل نے اتوار کے روز اطلاع دی کہ دھڑے نے پاکستان کے ساتھ دفاعی تعاون کے معاہدے میں شمولیت اختیار کی ہے، جس میں اسلحہ کی فروخت، مشترکہ تربیت اور فوجی پیداوار شامل ہے، تاہم مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ حفتر نے العربیہ الحدث ٹی وی پر نشر ہونے والے بیان میں پاکستان کے ساتھ اسٹریٹجک فوجی تعاون کے نئے مرحلے کے آغاز کا اعلان کیا۔

بن غازی کی حکام نے بھی تبصرے کی درخواستوں کا فوری جواب نہیں دیا۔ اقوامِ متحدہ کی جانب سے تسلیم شدہ حکومتِ قومی اتحاد، جس کی قیادت وزیرِ اعظم عبدالحمید الدبیبہ کر رہے ہیں، مغربی لیبیا کے بیشتر حصوں پر قابض ہے، جبکہ حفتر کی ایل این اے مشرقی اور جنوبی علاقوں، بشمول بڑے تیل کے ذخائر، پر کنٹرول رکھتی ہے اور مغربی حکومت کے اختیار کو تسلیم نہیں کرتی۔

اسلحہ پابندی

لیبیا 2011 سے اقوامِ متحدہ کی اسلحہ پابندی کی زد میں ہے، جس کے تحت ہتھیاروں اور متعلقہ مواد کی منتقلی کے لیے اقوامِ متحدہ کی منظوری درکار ہوتی ہے۔ دسمبر 2024 میں اقوامِ متحدہ کو پیش کی گئی ماہرین کی رپورٹ میں اس پابندی کو غیر مؤثر قرار دیا گیا تھا، جس میں کہا گیا کہ متعدد غیر ملکی ریاستیں مشرقی اور مغربی لیبیا کی افواج کو تربیت اور عسکری معاونت فراہم کر رہی ہیں۔

تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا پاکستان یا لیبیا نے اسلحہ پابندی سے کسی استثنا کے لیے درخواست دی ہے یا نہیں۔ تین پاکستانی حکام کے مطابق معاہدے سے اقوامِ متحدہ کی پابندی کی خلاف ورزی نہیں ہوئی۔ ایک اہلکار نے کہا کہ پاکستان لیبیا کے ساتھ معاہدہ کرنے والا واحد ملک نہیں، جبکہ دیگر کے مطابق حفتر پر کوئی براہِ راست پابندیاں عائد نہیں اور بن غازی کی حکام کے مغربی ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر ہو رہے ہیں، جس کی ایک وجہ ایندھن کی بڑھتی ہوئی برآمدات ہیں۔

پاکستان کی نئی منڈیاں

پاکستان اپنی دفاعی برآمدات کو وسعت دینے کا خواہاں ہے، جس کے لیے وہ دہائیوں پر محیط انسدادِ شورش تجربے اور مقامی دفاعی صنعت پر انحصار کر رہا ہے، جس میں طیارہ سازی، بکتر بند گاڑیاں، اسلحہ سازی اور بحری جہازوں کی تعمیر شامل ہے۔ اسلام آباد نے مئی میں بھارت کے ساتھ جھڑپوں کے دوران فضائیہ کی کارکردگی کو بھی اپنی صلاحیتوں کی مثال کے طور پر پیش کیا ہے۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر نے العربیہ الحدث پر نشر ہونے والے بیان میں کہا کہ بھارت کے ساتھ حالیہ جنگ نے پاکستان کی جدید عسکری صلاحیتوں کو دنیا کے سامنے اجاگر کیا ہے۔ پاکستان خلیجی شراکت داروں کے ساتھ بھی سکیورٹی تعلقات کو مضبوط بنا رہا ہے، جن میں ستمبر 2025 میں سعودی عرب کے ساتھ اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدہ اور قطر کے ساتھ اعلیٰ سطحی دفاعی مذاکرات شامل ہیں۔

لیبیا کے ساتھ یہ معاہدہ شمالی افریقہ میں پاکستان کی موجودگی کو وسعت دے گا، جہاں علاقائی اور عالمی طاقتیں لیبیا کے منقسم سکیورٹی اداروں اور تیل پر مبنی معیشت میں اثر و رسوخ کے لیے مسابقت کر رہی ہیں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین